ناعمہ عزیز — دسمبر 9، 2013 2:21 شام
مرے چارہ گر
مرے محتسب
مری بات سن
مجھے صبر دے
مجھے دے سدا
تو یہ حوصلہ
کہ میں سہہ سکوں
جو ہیں غم سبھی
جو ہیں دکھ سبھی
مری ذات کے
مرے لم یزل
مرے راہبر
مری بات سن
تو بلاشبہ،
مجھے آزما
کڑے امتحاں
سے مجھے مٹا
تو اگر سنے،
مری التجا
مجھے بھی دکھا
وہی راستہ
کہ چلوں اگر
تو میں لڑکھڑا کے گروں نہیں
جو میں گرپڑوں
تو اے چارہ گر
مجھے تھام لے
قیصرانی — دسمبر 9، 2013 2:21 شام
دعا ہی دے سکتا ہوں بہنا

ناعمہ عزیز — دسمبر 9، 2013 2:23 شام
شکریہ بھیا
ناعمہ عزیز — دسمبر 9، 2013 2:25 شام
سلمان حمید — دسمبر 9، 2013 2:25 شام
او آئی میری شاعرہ بہن۔ میں تو سمجھا تھا کہ تم بھی میری طرح دلبرداشتہ ہو کر لکھنا چھوڑ گئی ہو

ابن سعید — دسمبر 9، 2013 2:26 شام
نایاب — دسمبر 9، 2013 2:33 شام
واہہہہہہہہہہہہہ
بہت خوب بٹیا رانی
بلاشک
سائیاں میری ذات ادھوری بات ادھوری
مگر تو تو مکمل ہے جان لے گا ان کہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلمان حمید — دسمبر 9، 2013 2:33 شام
ویسے بھئی واہ۔ بہت خوب
ناعمہ ، پڑھ کے مزہ آیا

ویسے آپس کی بات ہے، لکھتی رہا کرو، خیال اچھے ہوں تو شاعری کی نوک پلک بھی سنور ہی جاتی ہے وقت کے ساتھ ساتھ

ابن رضا — دسمبر 9، 2013 2:42 شام
بہت عمدہ
نظم کو اگر دو حصوں میں تقسیم کیا جائے تو اوپر والا حصہ نہایت شاندار ، رواں اور خوب تر ہے ۔ مگر نسبتاً نیچے والے حصہ تھوڑا توجہ طلب ہے ۔ ویسے مجموعی طور پر نظم بہت اچھا تاثر دے رہی ہے۔ خوش رہیں
الف عین — دسمبر 9، 2013 4:24 شام
بہت اچھے ناعمہ بیٹا۔ لکھتی رہو تو ضرور اس سے بھی اچھا لکھو گی۔
بس زیادہ تر ‘میریُ مکمل کی جگہ ’مری‘ بحر میں آتا ہے۔
اور بلا شبہ کا تلفظ بھی غلط بندھا ہے۔
مجھے دے سدا
ایسا لگتا ہے کہ ”صدا‘ دینے کی بات ہے، اس کو اگلے مصرع سے ملا دو تو معلوم ہو جائے کہ حوصلہ دینے کی بات ہے
شمشاد — دسمبر 9، 2013 6:51 شام
بہت خوب نانی اماں
بہت اچھا لکھا ہے۔
مقدس — دسمبر 11، 2013 10:38 صبح
بہت اچھا لکھا ناعمہ۔ ویل ڈن