مینڈک او رے مینڈک! نظم:: از۔ محمد خلیل الرحمٰن

محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 24، 2019 9:18 صبح
مینڈک او! رے مینڈک!
از محمد خلیل الرحمٰن
مینڈک، او رے مینڈک ! کہہ دے ، اتنا تُو ٹّراتا کیوں ہے
ہم کو چپکے سے بتلا دے، تو اتنا شرماتا کیوں ہے
تیرے یوں ہی ٹّرانے سے دادی بھی گھبرا جائیں گی
جب بارش کے شور میں جاگیں اب کیسے وہ سو پائیں گی
بارش کے موسم میں مینڈک اتنا کیوں ٹّراتے ہیں جی!
سَردی جونہی آتی ہے وہ کس جنگل چھپ جاتے ہیں جی!
تیری ان موٹی آنکھوں سے آخر ہے کیا دیکھا تو نے
اتنا اچھلا کودا ہے تُو، پھر بھی کیا کچھ پایا تو نے
چھوٹے چھوٹے کیڑوں کو یوں لپک لپک کر کھاتا ہے تو
پھدک پھدک کر کیاری میں پھر غائب بھی ہو جاتا ہے تو
خشکی پر تو ہاتھ نہ آئے، پانی میں جا مرتا ہے تُو!
اتنا چھوٹا منہ ہے تیرا ، کتنی ٹرٹر کرتا ہے تُو!
ٌٌٌٌٌٌٌٌ ٌٌٌ ٌٌٌ​
الف عین — نومبر 25، 2019 7:00 صبح
خوب نظم ہے، لگتا ہے میری ای بک کی بات (بھابھی کے) پلو میں باندھ لی ہے اور پنجے جھاڑ کر لگ گئے ہیں اس کام میں!
سَردی جونہی آتی ہے وہ کس جنگل چھپ جاتے ہیں جی!
کو
سَردی جونہی آتی ہے، کس جنگل میں چھپ جاتے ہیں جی!
بہتر ہو گا۔ ہندی میں کس جنگل چھپنا درست محاورہ ہے مگر اردو میں 'میں' ضروری محسوس ہوتا ہے
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 25، 2019 1:47 شام
خوب نظم ہے، لگتا ہے میری ای بک کی بات (بھابھی کے) پلو میں باندھ لی ہے اور پنجے جھاڑ کر لگ گئے ہیں اس کام میں!
سَردی جونہی آتی ہے وہ کس جنگل چھپ جاتے ہیں جی!
کو
سَردی جونہی آتی ہے، کس جنگل میں چھپ جاتے ہیں جی!
بہتر ہو گا۔ ہندی میں کس جنگل چھپنا درست محاورہ ہے مگر اردو میں 'میں' ضروری محسوس ہوتا ہے
جزاک اللہ استادِ محترم!
خوبصورت اصلاح۔ آپ کی تو ہر بات ہم پلو میں باندھ لیتے ہیں اور یہ بات بھی درست کہ ہم نہ ساڑھی پہنتے ہیں اور نہ دوپٹہ، لہٰذا اپنی نصف بہتر کا ہی پلو استعمال کریں گے۔
محمد تابش صدیقی — نومبر 25، 2019 4:08 شام
بہت خوب
جزاک اللہ استادِ محترم!
خوبصورت اصلاح۔ آپ کی تو ہر بات ہم پلو میں باندھ لیتے ہیں اور یہ بات بھی درست کہ ہم نہ ساڑھی پہنتے ہیں اور نہ دوپٹہ، لہٰذا اپنی نصف بہتر کا ہی پلو استعمال کریں گے۔
پھر تو اب تک بھابھی بھی شاعرہ بن ہی چکی ہوں گی۔
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 27، 2019 2:12 شام
بہت خوب
پھر تو اب تک بھابھی بھی شاعرہ بن ہی چکی ہوں گی۔
شاعرہ تو نہیں البتہ تنقید نگار ضرور بن چکی ہیں۔
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 5، 2019 10:16 شام
واہ واہ! کیا بات ہے خلیل بھائی ! کیا پھدکتی پھڑکتی سے نظم ہے !! :)
اس نظم کی بحر کچھ ضرورت سے زیادہ لمبی لگی ۔ دراصل بچوں کی نظمیں چھوٹی بحر میں دیکھنے کی عادت سی پڑگئی ہے ۔ میری رائے میں اگر اسے مختصر منظوم کرسکیں تو اور زیادہ مزیدار ہوجائے گی ۔
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 6، 2019 12:26 صبح
خلیل بھائی ،تبصرہ نامکمل چھوڑ کر اٹھنا پڑگیاتھا ۔مشورہ یہ دینا چاہتا تھا کہ اگر یہاں آدھا وزن استعمال کریں تو یہی اشعار بہت ہی معمولی تبدیلیوں کے ساتھ استعمال ہوسکتے ہیں ۔ مثلاً:
مینڈک او رے مینڈک کہہ دے !
تُو اتنا ٹّراتا کیوں ہے
چپکے سے بتلا دے مجھ کو
تو اتنا شرماتا کیوں ہے
وغیرہ وغیرہ ۔ یہ میری ناقص رائے ہے ۔ آپ نے یقیناً کسی خیال کے تحت ہی مضاعف وزن استعمال کیا ہوگا ۔ سو آپ بہتر جانتے ہیں ۔
محمد خلیل الرحمٰن — جون 27، 2022 2:49 شام
محمد عبدالرؤوف — جون 27، 2022 3:14 شام
واہ واہ۔۔۔ بہت خوب خلیل بھائی
سیما علی — جون 27، 2022 3:44 شام
واہ واہ
بہت عمدہ ۔
جزاک اللہ خیرا
بھیا بڑی نوازش بچوں سے آپ محبت عیاں ہے ہر ہر لفظ سے ۔ہم نے یاسم اور صارم کو سنائی ۔۔
میکائیل آرہے ہیں اُنکو انگریزی میں سمجھا سمجھا کے سنانی ہے ۔۔۔
عرفان علوی — جون 28، 2022 3:02 صبح
بہت عمدہ ، خلیل بھائی ، الفاظ بھی اور آواز بھی !
محمد خلیل الرحمٰن — جون 28، 2022 5:22 صبح
واہ واہ۔۔۔ بہت خوب خلیل بھائی
آداب عرض ہے عبدالرؤف بھائی
محمد خلیل الرحمٰن — جون 28، 2022 5:23 صبح
واہ واہ
بہت عمدہ ۔
جزاک اللہ خیرا
بھیا بڑی نوازش بچوں سے آپ محبت عیاں ہے ہر ہر لفظ سے ۔ہم نے یاسم اور صارم کو سنائی ۔۔
میکائیل آرہے ہیں اُنکو انگریزی میں سمجھا سمجھا کے سنانی ہے ۔۔۔
آداب بہنا!
ارے یہی تو ہم چاہتے ہیں کہ بچوں کو یہ نظمیں سنائی جائیں۔ خوش رہیے بہنا!
محمد خلیل الرحمٰن — جون 28، 2022 5:24 صبح
بہت عمدہ ، خلیل بھائی ، الفاظ بھی اور آواز بھی !
آداب عرفان بھائی۔ آپ کی داد تو سرمایہ ہے ہمارے لیے۔ سدا خوش رہیے
نوید ناظم — جون 28، 2022 8:11 صبح
مینڈک او! رے مینڈک!
از محمد خلیل الرحمٰن
مینڈک، او رے مینڈک ! کہہ دے ، اتنا تُو ٹّراتا کیوں ہے
ہم کو چپکے سے بتلا دے، تو اتنا شرماتا کیوں ہے
تیرے یوں ہی ٹّرانے سے دادی بھی گھبرا جائیں گی
جب بارش کے شور میں جاگیں اب کیسے وہ سو پائیں گی
بارش کے موسم میں مینڈک اتنا کیوں ٹّراتے ہیں جی!
سَردی جونہی آتی ہے وہ کس جنگل چھپ جاتے ہیں جی!
تیری ان موٹی آنکھوں سے آخر ہے کیا دیکھا تو نے
اتنا اچھلا کودا ہے تُو، پھر بھی کیا کچھ پایا تو نے
چھوٹے چھوٹے کیڑوں کو یوں لپک لپک کر کھاتا ہے تو
پھدک پھدک کر کیاری میں پھر غائب بھی ہو جاتا ہے تو
خشکی پر تو ہاتھ نہ آئے، پانی میں جا مرتا ہے تُو!
اتنا چھوٹا منہ ہے تیرا ، کتنی ٹرٹر کرتا ہے تُو!
ٌٌٌٌٌٌٌٌ ٌٌٌ ٌٌٌ​
بہت پیاری نظم۔۔واہ!
محمد خلیل الرحمٰن — جون 28، 2022 9:23 صبح
بہت پیاری نظم۔۔واہ!
آداب! آداب!!!
یاسر شاہ — جولائی 3، 2022 11:22 صبح
قبول صورت۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D9%86%DA%88%DA%A9-%D8%A7%D9%88-%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%D9%86%DA%88%DA%A9-%D9%86%D8%B8%D9%85-%D8%A7%D8%B2%DB%94-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%AE%D9%84%DB%8C%D9%84-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%B0%D9%86.109292/