میں اپنے زمانے کی چڑھتی ہوئی لہر ہوں- سلمان دانش جی

سلمان دانش جی — اپریل 6، 2016 5:36 شام
میں اپنے زمانے کی چڑھتی ہوئی لہر ہوں
کئی ساحلوں کے سمیٹے ہیں اسرار میں نے
میں فنکار ہوں
میں ضمیر ِ جہاں ہوں

مرے آئینے میں
گئے وقت کی روشنی
آنے والے زمانوں کی کرنیں
چمکتے ہوئے سورجوں سے منور مرا لمحہ ء حال
جلوہ فگن ہیں

میں بیداریوں کی کھلی آنکھ ہوں
دشمنوں کے سیہ رنگ چہرے
بھیانک ارادوں کے مکروہ مظہر
وہ خونی عزائم کے سنگین پیکر
وہ امن اور اہنسا کے رنگیں لبادوں میں
لپٹے ہوئے وحشیوں کے عساکر
وہ میرے وطن کی مصفا ہواؤں
معطر فضاؤں کے دشمن
وہ راون کے بھائی
وہ خون اور آتش کے طوفان اٹھائے
وہ بربادیوں کے پھریرے اڑائے
بھری بستیوں
ہنستے بستے گھروں پر
تباہی کے شعلوں کو برسانے والے
وہ دہشت کے پالے ہوئے راکھشس
وہ ظلمت کے عفریت
سورج کے دشمن
اہنسا کے پردے میں ہنسا کے بت گر
مری ان نگاہوں سے اوجھل نہیں ہیں
کہ شاہین ہوں میں
وطن کی حفاظت میں
میں سربکف ہوں

سلمان دانش جی
نایاب — اپریل 6، 2016 5:43 شام
خوب کہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد آمین
اس سوہنی دھرتی سے پیار کرنے والے یہی صدا لگاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
کہ شاہین ہوں میں
وطن کی حفاظت میں
میں سربکف ہوں
بہت دعائیں
نور وجدان — اپریل 6، 2016 5:48 شام
بہت خوب
سلمان دانش جی — اپریل 6، 2016 7:26 شام
خوب کہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد آمین
اس سوہنی دھرتی سے پیار کرنے والے یہی صدا لگاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
شکریہ صاحب۔
سلمان دانش جی — اپریل 6، 2016 7:27 شام
شکریہ صاحبہ !!
ابن رضا — اپریل 6، 2016 8:18 شام
بہت خوب نظم ہے. بہت سی داد
لگتا ہے ہندی کے لفظ راون راکھشس ہنسااہنسا آپ نےارادتاً استعمال کیےہیں کوئی خاص وجہ رہی ہو گی؟
محمد یعقوب آسی — اپریل 6، 2016 8:55 شام
بہت خوب نظم ہے. بہت سی داد
لگتا ہے ہندی کے لفظ راون راکھشس ہنسااہنسا آپ نےارادتاً استعمال کیےہیں کوئی خاص وجہ رہی ہو گی؟
جی ہاں وجہ ہے اور صاف سمجھ میں آ رہی ہے۔ تاہم "امن اور اہنسا" کی بجائے "ہنسا اہنسا" کہتے تو شاید روانی بڑھ جاتی۔
ربیع م — اپریل 6، 2016 9:30 شام
بہت عمدہ
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
قمرآسی — اپریل 7، 2016 4:20 صبح
میں اپنے زمانے کی چڑھتی ہوئی لہر ہوں
کئی ساحلوں کے سمیٹے ہیں اسرار میں نے
میں فنکار ہوں
میں ضمیر ِ جہاں ہوں

مرے آئینے میں
گئے وقت کی روشنی
آنے والے زمانوں کی کرنیں
چمکتے ہوئے سورجوں سے منور مرا لمحہ ء حال
جلوہ فگن ہیں

میں بیداریوں کی کھلی آنکھ ہوں
دشمنوں کے سیہ رنگ چہرے
بھیانک ارادوں کے مکروہ مظہر
وہ خونی عزائم کے سنگین پیکر
وہ امن اور اہنسا کے رنگیں لبادوں میں
لپٹے ہوئے وحشیوں کے عساکر
وہ میرے وطن کی مصفا ہواؤں
معطر فضاؤں کے دشمن
وہ راون کے بھائی
وہ خون اور آتش کے طوفان اٹھائے
وہ بربادیوں کے پھریرے اڑائے
بھری بستیوں
ہنستے بستے گھروں پر
تباہی کے شعلوں کو برسانے والے
وہ دہشت کے پالے ہوئے راکھشس
وہ ظلمت کے عفریت
سورج کے دشمن
اہنسا کے پردے میں ہنسا کے بت گر
مری ان نگاہوں سے اوجھل نہیں ہیں
کہ شاہین ہوں میں
وطن کی حفاظت میں
میں سربکف ہوں

سلمان دانش جی
واااااااہ۔۔۔بہت اعلیٰ جناب
محمد تابش صدیقی — اپریل 7، 2016 5:11 صبح
بہت عمدہ سلمان بھائی.
مرے آئینے میں
گئے وقت کی روشنی
آنے والے زمانوں کی کرنیں
چمکتے ہوئے سورجوں سے منور مرا لمحہ ء حال
جلوہ فگن ہیں
کیا تخیل باندھا ہے.
اہنسا کے پردے میں ہنسا کے بت گر
مری ان نگاہوں سے اوجھل نہیں ہیں
کہ شاہین ہوں میں
وطن کی حفاظت میں
میں سربکف ہوں
بہت خوب. کیا کہنے.
اکمل زیدی — اپریل 7، 2016 5:40 صبح
...اعلیٰ
عباد اللہ — مئی 16، 2016 8:52 شام
وااااااہ
بہت خوب
فرقان احمد — مئی 16، 2016 8:57 شام
چھا گئے آپ!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92-%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%DA%86%DA%91%DA%BE%D8%AA%DB%8C-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D9%84%DB%81%D8%B1-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86-%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%B4-%D8%AC%DB%8C.89148/