میم الف — جنوری 18، 2020 5:05 شام
تو سمجھتا ہے بہت تو اہم ہے
بھول ہے تیری‘ یہ تیرا وہم ہے
موت کا کیا سامنا کر پائے گا؟
جب گیا تو زندگی سے سہم ہے
ہڈیوں کا ڈھیر ہی رہ جائے گا
پہلواں! مانا تو کوہِ لحم ہے
میری باتوں کو سمجھتے ہیں فہیم
اُس قدر ہی جتنا اُن کا فہم ہے
رونقِ بازارِ دنیا! سچ بتا
کیا ترے دل میں بھی گہما گہم ہے؟
عدل کا خواہاں نہیں ہوں میم الف
جس کا میں طالب ہوں اُس کا رحم ہے
سید عاطف علی — جنوری 18، 2020 5:20 شام
میم الف صاحب ۔ اہم اور وہم قافیے نہیں ۔
مطلع درست نہیں ۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 18، 2020 8:01 شام
تو سمجھتا ہے بہت تو اہم ہے
بھول ہے تیری‘ یہ تیرا وہم ہے
موت کا کیا سامنا کر پائے گا؟
جب گیا تو زندگی سے سہم ہے
ہڈیوں کا ڈھیر ہی رہ جائے گا
پہلواں! مانا تو کوہِ لحم ہے
میری باتوں کو سمجھتے ہیں فہیم
اُس قدر ہی جتنا اُن کا فہم ہے
رونقِ بازارِ دنیا! سچ بتا
کیا ترے دل میں بھی گہما گہم ہے؟
عدل کا خواہاں نہیں ہوں میم الف
جس کا میں طالب ہوں اُس کا رحم ہے
ماشاءاللہ۔ اچھے خیالات ہیں۔ بہت مشکل زمین کا انتخاب کیا ہے آپ نے، قوافی تلاش کرنے کے لئے لغت ساتھ رکھنا پڑے گی

دعاگو،
راحل
الف عین — جنوری 19، 2020 5:03 صبح
گہما گہمی محاورہ ہے، گہما گہم میں نے نہیں سنا
سید عاطف علی — جنوری 19، 2020 5:35 صبح
گہما گہمی محاورہ ہے، گہما گہم میں نے نہیں سنا
بالکل درست ۔
لیکن جدت کا جو تصرف کسی دلچسپ پیرائے اور ماحول میں استعمال ہو اسے میں اچھا تجربہ کہتا ہوں ۔
اور یہاں گہما گہم کو گہما گمی کے ہم معنی ہی سمجھا گیا ہے لہذا یہ تجربہ بھی درست نہیں لگا ۔
(میری مراد گہما گہم کے صفت کے طور پر استعمال ہونے سے ہے ) اور ہاں یہ محض میرے ذاتی تفرُّد کا تاثر ہے ۔

ظہیراحمدظہیر — جنوری 20، 2020 2:53 صبح
خوب ہے منیب بھائی !
اچھے مضامین باندھے آپ نے اس غزل میں لیکن قوافی کے معاملے میں خاصی گڑبڑ ہوگئی ۔ نہ صرف اہم اور وہم ہم قافیہ نہیں بلکہ لحم اور فہم بھی درست نہیں ۔ لحم اور فہم دونوں میں پہلا حرف مفتوح ہے جبکہ آپ کے دیگر قوافی میں "ہ" سے پہلے کا حرف مکسور ہے ۔
گہما گہم غلط نہیں ہے ۔ گہما گہمی اور گہماگہم دونوں درست ہیں ، دونوں ہم معنی ہیں اور باہم متبادل استعمال ہوتے ہیں ۔ دونوں لفظ اردو کی تمام مروجہ لغات میں درج ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ گہماگہمی عام طور پر زیادہ دیکھنے میں آتا ہے ۔
محمد شکیل خورشید — جنوری 20، 2020 9:50 صبح
محض اپنے علم کے کیئے پوچھ رہا ہوں
کیا غزل کو عنوان دیا جاسکتا ہے، جیسے یہاں دیا گیا ہے "میں اہم تھا، یہی وہم تھا"
سید عاطف علی — جنوری 20، 2020 10:50 صبح
محض اپنے علم کے کیئے پوچھ رہا ہوں
کیا غزل کو عنوان دیا جاسکتا ہے، جیسے یہاں دیا گیا ہے "میں اہم تھا، یہی وہم تھا"
جی نہیں ! یہ صرف یاد دہانی کے لیے ہوگا ۔
میم الف — جنوری 22، 2020 4:50 صبح
تمام احباب اور اساتذہ نے مفید اور معلوماتی تبصرے فرمائے۔ اس کے لیے بے حد شکرگزار ہوں
