میں تم کو یاد کرتا ہوں نظم

Atif Chauhdary — نومبر 4، 2017 11:44 شام
پرانی رھگزاروں سے
میں جب تنہا گزرتا ہوں
بھلا کر دکھ زمانے کو
میں تم کو یاد کرتا ھوں
میں اکثر بیٹھ جاتا ہوں
اسی اک پیڑ کے نیچے
جہاں بیتے زمانوں میں
تمھارا نام لکھا تھا
سنو اس پیڑ پہ اب بھی
تمہارا نام روشن ھے
اسے پہروں میں تکتا ہوں
میں اس پر ھونٹ رکھتا ھوں
شجر میرے لئے جاناں
محبت کی نشانی ہے
ابھی تک اس کے ہونٹوں پر
تری میری کہانی ھے
تمہارے ہجر کے شکوے
میں اس کے ساتھ کرتا ہوں
میں اکثر روبرو اس کے
تمہاری بات کرتا ہوں
کبھی ایسا بھی ہوتا ھے
اچانک بے خیالی میں
خوشی مجھ پر اترتی ھے
وفا کے پیڑ سے اکثر
شبیہ تیری نکلتی ھے
گئے لمحوں کی صورت تم
مقابل بیٹھ جاتی ھو
کئی قصے سناتی ھو
تمھاری شوخ آنکھوں میں
میں پہروں ڈوب جاتا ہوں
مگر جب تیری آنکھوں میں
نمی محسوس کرتا ھوں
بدل دیتا ھوں موضوع کو
فقط اتنا ہی کہتا ہوں
مجھے جینے کو دنیا میں
تری یادیں ہی کافی ہیں
ترا غم اک حقیقت ھے
سبھی دکھ تو اضافی ہیں
تمہیں چھونے کو اے ہمدم
جب آگے ھاتھ کرتا ھوں
وھاں کچھ بھی نہیں ہوتا
میں کس سے بات کرتا ھوں
میں تم کو یاد کرتا ہوں
میں تم کو یاد کرتا ہوں
عاطف چوھدری
کتاب: محبت کم نہیں کرنا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%D9%85-%DA%A9%D9%88-%DB%8C%D8%A7%D8%AF-%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D9%86%D8%B8%D9%85.98945/