میں جب سے اب تک وہیں کھڑا ہوں

عابی مکھنوی — نومبر 15، 2014 7:16 شام
میں اپنے لہجے کی تلخیوں سے
تمھارے نازک ذہن پہ نشتر لگا رہا تھا
میں اپنے لفظوں کے روکھے پن سے
تمھارے اجڑے چمن کو ابتر بنا رہا تھا
میں اپنے اندر کی ہر تھکن کو
تمھارے بوجھل بدن کی زینت بنا رہا تھا
میں اپنے دامن میں خوشیاں بھر کے
تمھارے دل میں دکھوں کا میلہ سجا رہا تھا
برا نہیں میں بہت برا ہوں
وفا کے دامن پہ داغ کہہ لو
جو سب سے گندا لقب تمھارے خیال میں ہے
میں اس لقب سے بھی آگے خود کو سمجھ رہا ہوں
جو تم نے سوچا مجھے بھی اس پہ گماں نہیں ہے
میں جب سے اب تک وہیں کھڑا ہوں
جو فاصلہ ہے تمھارے قدموں کا طے شدہ ہے
ذرا رکو تم سنو یہ عادت بہت بری ہے
جو تم کہو گے وہی چلے گا
تمھارے نقش قدم پہ چل کے
میں پھر سے خود کو منانے آیا
میں تم سے تم کو ملانے آیا
۔۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی
الف عین — نومبر 16، 2014 2:13 صبح
خوب۔
ذہن کا تلفظ غلط باندھا گیا ہے۔
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 16، 2014 5:25 صبح
میں اپنے لہجے کی تلخیوں سے
تمھارے نازک ذہن پہ نشتر لگا رہا تھا
تمہارے مہجور دِل پہ نشتر لگا رہا تھا؟؟؟؟؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AC%D8%A8-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D8%A8-%D8%AA%DA%A9-%D9%88%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%DA%BE%DA%91%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA.78766/