میں شہرِ ذات سے نکلا تو دربدر بھٹکا

احسن مرزا — دسمبر 22، 2012 10:44 صبح
ایک کوشش آپ احباب کی نذر
میں شہرِ ذات سے نکلا تو دربدر بھٹکا
کوئے بُتاں سے حرم تک اِدھر اُدھر بھٹکا
کبھی جو تھک بھی گیا میں تری مسافت میں
خیال تیری محبت کی راہ پر بھٹکا
برس رہا ہے کہیں اور سبزہ زاروں پر
وہ اک سحاب جو صحرا میں بے ثمر بھٹکا
وہ مردِ حق جسے ادراکِ ہست و بود ہوا
وہ باخبر تھا بظاہر وہ بے خبر بھٹکا
حجابِ ذات اٹھا کر درونِ ہستی بھی
شکستہ شہرِ تمنا میں دربدر بھٹکا
خرد کی شرط طوافِ مقامِ جا نا نہ
مگر جنون میں احسن نگر نگر بھٹکا
احسن مرزا
شاکرالقادری — دسمبر 22، 2012 11:11 صبح
بہت خوب کہا آپ نے واہ ۱ داد قبول کیجئے
شیزان — دسمبر 22، 2012 11:14 صبح
بہت اعلیٰ احسن مرزا جی
عمر سیف — دسمبر 22، 2012 11:41 صبح
کبھی جو تھک بھی گیا میں تری مسافت میں
خیال تیری محبت کی راہ پر بھٹکا
عمدہ ۔۔
احسن مرزا — دسمبر 23، 2012 9:19 صبح
بہت خوب کہا آپ نے واہ ۱ داد قبول کیجئے

ہمت افزائی پر بیحد ممنون ہوں محترم۔ شاد رہئے!
احسن مرزا — دسمبر 23، 2012 9:19 صبح
بہت اعلیٰ احسن مرزا جی

بہت نوازش! شاد رہئے۔
احسن مرزا — دسمبر 23، 2012 9:19 صبح
کبھی جو تھک بھی گیا میں تری مسافت میں
خیال تیری محبت کی راہ پر بھٹکا
عمدہ ۔۔

شکر گزار ہوں جناب۔ شاد رہئے!
محسن وقار علی — دسمبر 24، 2012 6:34 شام
کبھی جو تھک بھی گیا میں تری مسافت میں
خیال تیری محبت کی راہ پر بھٹکا
بہت اعلیٰ۔داد قبول کیجیے۔
الف عین — دسمبر 25، 2012 5:03 صبح
واہ، بہت خوب
محمد بلال اعظم — دسمبر 25، 2012 5:23 صبح
واہ
کیا خوب کہا آپ نے۔
الشفاء — دسمبر 25، 2012 7:15 صبح
واہ۔واہ۔۔۔ بہت خوبصورت بلکہ زبردست۔۔۔
خوش رہیں۔۔۔
نیلم — دسمبر 25، 2012 7:16 صبح
بہت خُوب
احسن مرزا — دسمبر 26، 2012 1:47 شام

بہت نوازش!
احسن مرزا — دسمبر 26، 2012 1:48 شام
واہ۔واہ۔۔۔ بہت خوبصورت بلکہ زبردست۔۔۔
خوش رہیں۔۔۔

شکرگزار ہوں جناب۔ شاد رہئے!
احسن مرزا — دسمبر 26، 2012 1:48 شام
واہ
کیا خوب کہا آپ نے۔

بہت نوازش بلال بھائی۔ شاد، آبار رہئے!
احسن مرزا — دسمبر 26، 2012 1:49 شام

ہمت افزائی پر بیحد ممنون ہوں استادِ محترم۔ دعا ہے اللہ آپ کو خوش رکھے۔
احسن مرزا — دسمبر 26، 2012 1:49 شام
کبھی جو تھک بھی گیا میں تری مسافت میں
خیال تیری محبت کی راہ پر بھٹکا
بہت اعلیٰ۔داد قبول کیجیے۔

حد درجہ ممنون ہوں جناب۔ خوش رہئے!
امر شہزاد — جنوری 13، 2013 12:37 شام
وہ مردِ حق جسے ادراکِ ہست و بود ہوا
وہ باخبر تھا بظاہر وہ بے خبر بھٹکا
واہ
جاسمن — اکتوبر 28، 2016 1:50 شام
بہت خوب!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B4%DB%81%D8%B1%D9%90-%D8%B0%D8%A7%D8%AA-%D8%B3%DB%92-%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7-%D8%AA%D9%88-%D8%AF%D8%B1%D8%A8%D8%AF%D8%B1-%D8%A8%DA%BE%D9%B9%DA%A9%D8%A7.57673/