میں عشق کی شدت سے پریشان بہت ہوں

جیا راؤ — جون 23، 2008 3:04 شام
میں عشق کی شدت سے پریشان بہت ہوں
اے جاں تری چاہت سے پریشان بہت ہوں
ہاں شورشِ ہجراں سے یہ دل شاد بہت تھا
ہاں وصل کی راحت سے پریشان بہت ہوں
چاہوں تو تجھے چھوڑ دوں میں غیر کی خاطر
بس نکتہ وحدت سے پریشان بہت ہوں
انصاف کی دنیا ہے فقط خواب کی دنیا
یا رب میں حقیقت سے پریشان بہت ہوں
جگنو، یہ چاند، تارے، بہاریں صدایئں دیں
اف، میں تیری شہرت سے پریشان بہت ہوں
غنچہ یا کوئی پھول کہوں، پنکھڑی کہوں !
ہونٹوں کی نزاکت سے پریشان بہت ہوں
کیوں اے دل کم فہم تو مانے ہے انا کی؟
آمر کی حکومت سے پریشان بہت ہوں
ہر ایک عمل پہ کہے 'یوں تو نہیں، یوں۔۔۔'
ناصح تیری عادت سے پریشان بہت ہوں
لڑکی ہوں، پگھل جاتی ہوں نظروں کی تپش سے
میں حسن کی نعمت سے پریشان بہت ہوں
وہ جان تکلم نہ بنا لے مجھے مداح
اس زور خطابت سے پریشان بہت ہوں
دنیا یہ فقط تجھ پہ جیا! کیوں ہے مہربان
لہجوں کی ملاحت سے پریشان بہت ہوں
محسن حجازی — جون 23، 2008 3:31 شام
میں عشق کی شدت سے پریشان بہت ہوں
اے جاں تری چاہت سے پریشان بہت ہوں
ہاں شورشِ ہجراں سے یہ دل شاد بہت تھا
ہاں وصل کی راحت سے پریشان بہت ہوں

لڑکی ہوں، پگھل جاتی ہوں نظروں کی تپش سے
میں حسن کی نعمت سے پریشان بہت ہوں

وہ جان تکلم نہ بنا لے مجھے مداح
اس زور خطابت سے پریشان بہت ہوں

بہت خوب! بلکہ بہت ہی خوب!
ہم خوش ہوئے!
بلکہ پہلے ہی خوش تھے مزید خوش ہوئے :grin:
ناقدین ابھی قینچی استرا لے کر پہنچتے ہی ہوں گے۔ :grin:
یہ جان تکلم والے مسئلے سے تو ہم بھی بڑے پریشان ہیں۔ کم بخت زرداری بولتا خوب ہے کرتا کچھ نہیں۔ :mad:
گرو جی — جون 23، 2008 3:40 شام
سر جی ذرد آری ہے صرف دیکھنے کے کام آتی ہے، چلتی نہیں۔
دوست — جون 23، 2008 3:47 شام
کیا کہنے جی کیا کہنے۔
اچھی غزل ہے۔ پسند آئی۔
الف عین — جون 23، 2008 6:23 شام
یہ میری قینچی استرا کیا محسن لے بھاگے؟؟
جیا خوب ہے غزل بس، وہ ذرا۔۔۔۔ دو تین اشعار میں بحر بدل گئی ہے۔
غزل زیادہ تر اس بحر میں ہے:
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
لیکن کچھ مصرعے اس بحر میں داخل ہو گئے ہیں
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن/فاعلات
ذرا تم خود دیکھو پہلے، اور راجا اور خرم بھی ذرا دیکھیں کہ کہاں کیا غلطی ہے۔
خیالات بلکہ احساسات تو حسبِ معمول بہت عمدہ ہیں۔ تم میں اچھے امکانات ہیں اس میں کوئی شک نہیں
زھرا علوی — جون 23، 2008 6:28 شام
انصاف کی دنیا ہے فقط خواب کی دنیا
یا رب میں حقیقت سے پریشان بہت ہوں
بیت خوب جیا بہت اچھی غزل ہے۔۔۔:)
ایم اے راجا — جون 23، 2008 9:02 شام
بہت خوب محترمہ جیا صاحبہ،
اعجاز صاحب نے نشاندہی کر دی ہے آپ دیکھیں،
اعجاز صاحب بندہ ابھی اس قابل نہیں کہ کچھ کہے ہاں بحر کچھ مصرعوں میں تبدیل لگتی ہے۔
محسن حجازی — جون 24، 2008 7:52 صبح
بہت خوب محترمہ جیا صاحبہ،
اعجاز صاحب نے نشاندہی کر دی ہے آپ دیکھیں،
اعجاز صاحب بندہ ابھی اس قابل نہیں کہ کچھ کہے ہاں بحر کچھ مصرعوں میں تبدیل لگتی ہے۔

کوئی بات نہیں راجا صاحب ثبات ہے فقط ایک تغیر کو زمانے میں۔:grin:
متنوع البحر غزل میں یہ بھی تو دیکھئے کہ موضوعات بھی کتنے سموئے گئے ہیں :cool:
ابوشامل — جون 24، 2008 8:23 صبح
میں عشق کی شدت سے پریشان بہت ہوں
اے جاں تری چاہت سے پریشان بہت ہوں
ہاں شورشِ ہجراں سے یہ دل شاد بہت تھا
ہاں وصل کی راحت سے پریشان بہت ہوں
چاہوں تو تجھے چھوڑ دوں میں غیر کی خاطر
بس نکتہ وحدت سے پریشان بہت ہوں
انصاف کی دنیا ہے فقط خواب کی دنیا
یا رب میں حقیقت سے پریشان بہت ہوں
جگنو، یہ چاند، تارے، بہاریں صدایئں دیں
اف، میں تیری شہرت سے پریشان بہت ہوں
غنچہ یا کوئی پھول کہوں، پنکھڑی کہوں !
ہونٹوں کی نزاکت سے پریشان بہت ہوں
کیوں اے دل کم فہم تو مانے ہے انا کی؟
آمر کی حکومت سے پریشان بہت ہوں
ہر ایک عمل پہ کہے 'یوں تو نہیں، یوں۔۔۔'
ناصح تیری عادت سے پریشان بہت ہوں
لڑکی ہوں، پگھل جاتی ہوں نظروں کی تپش سے
میں حسن کی نعمت سے پریشان بہت ہوں
وہ جان تکلم نہ بنا لے مجھے مداح
اس زور خطابت سے پریشان بہت ہوں
دنیا یہ فقط تجھ پہ جیا! کیوں ہے مہربان
لہجوں کی ملاحت سے پریشان بہت ہوں
بہت ہی اعلی جیا بہت ہی اعلی۔ پوری غزل بہت ہی شاندار ہے۔ چند اشعار تو بہت ہی پائے کے ہیں جیسے
انصاف کی دنیا ہے فقط خواب کی دنیا
یا رب میں حقیقت سے پریشان بہت ہوں
کیوں اے دل کم فہم تو مانے ہے انا کی؟
آمر کی حکومت سے پریشان بہت ہوں
لڑکی ہوں، پگھل جاتی ہوں نظروں کی تپش سے
میں حسن کی نعمت سے پریشان بہت ہوں
وہ جان تکلم نہ بنا لے مجھے مداح
اس زور خطابت سے پریشان بہت ہوں
دنیا یہ فقط تجھ پہ جیا! کیوں ہے مہربان
لہجوں کی ملاحت سے پریشان بہت ہوں
حالانکہ میں میں سخن ور نہیں حتی کہ شعر یاد تک نہیں رہتے ;) لیکن نجانے کیوں مجھے پہلے شعر میں مزا نہیں آیا یا شاید ایسا ہے کہ دوسرے اشعار اتنے اعلی ہیں ان کے سامنے پہلا شعر بُجھ سا گیا ہے ایسا ہے یا نہیں؟ کیا اس شعر میں کو تبدیل کیا جا سکتا ہے؟
گرو جی — جون 24، 2008 8:55 صبح
بلکل صیح فرمایا ہے ابو شامل بھائی
خیر مجھے تو غزل بہت اچھی لگی ہے۔
ایم اے راجا — جون 24، 2008 6:26 شام
کوئی بات نہیں راجا صاحب ثبات ہے فقط ایک تغیر کو زمانے میں۔:grin:
متنوع البحر غزل میں یہ بھی تو دیکھئے کہ موضوعات بھی کتنے سموئے گئے ہیں :cool:
اس میں کوئی شک نہیں بہت خوب غزل ہے، مگر بحر اور اوزان کی بھی تو ایک حیثیت ہے نا، بحرحال میں بحث نہیں کرنا چاہتا۔ شکریہ۔
محمد وارث — جون 25، 2008 4:42 صبح
بہت اچھی غزل ہے آپ کی جیا راؤ صاحبہ، لا جواب
محسن حجازی — جون 25، 2008 6:23 صبح
حضور حیثیت تو ان بحر اوزان ہی کی ہے ہماری بھلا کیا حیثیت؟ :grin:
دل دار — اگست 16، 2008 7:30 صبح
عارف کے کیا معنی ہیں
سید تفسیر حیدر — اگست 16، 2008 8:04 صبح
بہت ہی اعلی۔
مظفرمحسن — اگست 17، 2008 1:47 شام
بہت پیارا ھے۔۔۔۔مزے دار بھی ھے۔۔۔
محب علوی — اگست 17، 2008 4:02 شام
جیا عمدہ غزل ہے مگر اس کے ساتھ ایک مشکل ہے کہ
مظفر صاحب کی داد کی سمجھ نہیں آئی
بہت پیارا ھے۔۔۔۔مزے دار بھی ھے۔۔۔

یہ غزل کی تعریف ہو رہی ہے یا کسی کھانے کی چیز کی
محب علوی — اگست 18، 2008 1:06 صبح
میں تری داد کے اظہار سے پریشان بہت ہوں
مظفرمحسن — اگست 18، 2008 9:33 صبح
جیا عمدہ غزل ہے مگر اس کے ساتھ ایک مشکل ہے کہ
مظفر صاحب کی داد کی سمجھ نہیں آئی
یہ غزل کی تعریف ہو رہی ہے یا کسی کھانے کی چیز کی

بلبل کی زندگی گلو گلزار دیکھنا---
ھمارا زندگی تیرا دیدار دیکھنا-----
مغزل — اگست 19، 2008 8:37 صبح
واہ کیا کہنے جیا ۔
ماشا اللہ خون غزل ہے۔
اور خاصی مشکل بحر بھی۔
واہ۔
شاد کام سدا سلامت
تابہ روزِ قیامت
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B9%D8%B4%D9%82-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%AF%D8%AA-%D8%B3%DB%92-%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%D9%86-%D8%A8%DB%81%D8%AA-%DB%81%D9%88%DA%BA.13364/