میں قلم کو اپنے سیاہئ شب تار دوں تو غزل لکھوں

عینی مروت — اکتوبر 15، 2017 1:40 شام
اپنی ایک غزل پیش خدمت ہے ۔۔۔
آپکی اصلاح،تبصروں و مشوروں کی امید کے ساتھ۔۔
میں قلم کو اپنے سیاہئ شبِ تار دوں تو غزل لکھوں
کبھی لاکے بامِ فلک سے چاند اتاردوں تو غزل لکھوں
مرےالجھے الجھے حروف بھی مری ذات ایسے ہیں گنجلک
جو عبارتوں کی خمیدہ زلفیں سنوار دوں تو غزل لکھوں
مری عمرِ رفتہ پلٹ ذرا، مجھے بخش دے مرا بچپنا
وہی بھولپن میں بیاں کے دل میں اتار دوں تو غزل لکھوں
مرے شیشہ ء دلِ بدگماں پہ جو دھند چھائی ہے جابجا
وہ اداس آنکھوں کی بارشوں سے نکھار دوں تو غزل لکھوں
یہیں دفن سب مرے خواب ہیں ، مری آرزو کےگلاب ہیں
دل نارسا تجھے اب کے، نام مزار دوں تو غزل لکھوں
اے مصورہ جو تو کھینچ دے وہ حسین خاکہ ء زندگی
بڑے ناز سے اسے شوخ رنگِ بہار دوں تو غزل لکھوں
~نورالعین عینی~​
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 15، 2017 5:13 شام
کیابہتی ندیا کی طرح رواں غزل ہے۔ خوبصورت۔بہت داد قبول ہو
La Alma — اکتوبر 15، 2017 6:28 شام
اس شعریت اور تغزل کے کیا کہنے. الفاظ پہ دسترس بھی خوب ہے. امید ہے آپ کی ندرتِ فکر سے ہم بھی فیضیاب ہو سکیں گے.
مرےالجھے الجھے حروف بھی مری ذات ایسے ہیں گنجلک
جو عبارتوں کی خمیدہ زلفیں سنوار دوں تو غزل لکھوں
عمدہ بیانیہ ہے.
مری عمرِ رفتہ پلٹ ذرا، مجھے بخش دے مرا بچپنا
وہی بھولپن میں بیاں کے دل میں اتار دوں تو غزل لکھوں
آپ نے چونکہ مشورہ طلب کیا ہے تو اس ضمن میں عرض ہے کہ اتنے اچھے شعر میں " بیاں کے دل " تھوڑا مزا کرکرا کر رہا ہے.
"وہی بھولپن میں بیان میں جو اتار دوں تو غزل لکھوں" شاید زیادہ مناسب ہو.
مرے شیشہ ء دلِ بدگماں پہ جو دھند چھائی ہے جابجا
وہ اداس آنکھوں کی بارشوں سے نکھار دوں تو غزل لکھوں
دوسرے مصرع میں "وہ" کی بجا" اسے" کا محل ہے.
اگر رائے صائب معلوم نہ ہو تو نظر انداز کر دیجئے گا.
آپ کے مزید کلام کا انتظار رہے گا. :):)
ہادیہ — اکتوبر 15، 2017 6:39 شام
واہ۔۔۔ زبردست۔ کمال لکھا۔ اصلاح تو وہی کرسکتے ہیں جو شاعری کے فن سے آگاہ ہیں۔ ہماری طرف سے بہت سی داد۔۔
محمد وارث — اکتوبر 16، 2017 4:18 صبح
واہ بہت خوب، لاجواب!
محمد عدنان اکبری نقیبی — اکتوبر 16، 2017 5:02 صبح
اے مصورہ جو تو کھینچ دے وہ حسین خاکہ ء زندگی
بڑے ناز سے اسے شوخ رنگِ بہار دوں تو غزل لکھوں
واہ بہنا زبردست۔بہت خوبصورت کلام کیا۔مبارک باد قبول فرمائے۔
الف عین — اکتوبر 16، 2017 5:07 شام
لا المیٰ نے ماشاء اللہ درست معروضہ پیش کیا ہے۔ میری طرف سے بھی ایک اور۔ ردیف بدل کر اگر ’غزل کہوں‘ کر دی جائے تو؟؟؟
ویسے غزل واقعی بہت اچھی ہے۔ مبارکباد۔
الف عین — اکتوبر 16، 2017 5:08 شام
کیا قلمی نام نورالعین عینی استعمال کرتی ہو؟ یہ اس لیے کہ ’سمت‘ میں شامل کرنی ہیں نا تمہاری نظمیں!
عینی مروت — اکتوبر 17، 2017 3:56 شام
کیابہتی ندیا کی طرح رواں غزل ہے۔ خوبصورت۔بہت داد قبول ہو
بہت نوازش سر۔۔
آپ سب کی پسندیدگی سے بہت حوصلہ ملتا ہے
سلامت رہیں
عینی مروت — اکتوبر 17، 2017 4:16 شام
اس شعریت اور تغزل کے کیا کہنے. الفاظ پہ دسترس بھی خوب ہے. امید ہے آپ کی ندرتِ فکر سے ہم بھی فیضیاب ہو سکیں گے.
عمدہ بیانیہ ہے.
آپ نے چونکہ مشورہ طلب کیا ہے تو اس ضمن میں عرض ہے کہ اتنے اچھے شعر میں " بیاں کے دل " تھوڑا مزا کرکرا کر رہا ہے.
"وہی بھولپن میں بیان میں جو اتار دوں تو غزل لکھوں" شاید زیادہ مناسب ہو.
دوسرے مصرع میں "وہ" کی بجا" اسے" کا محل ہے.
اگر رائے صائب معلوم نہ ہو تو نظر انداز کر دیجئے گا.
آپ کے مزید کلام کا انتظار رہے گا. :):)
اتنی ڈھیر ساری داد اور ان پرخلوص مشوروں کے لیے بہت ممنون ہوں بہنا۔۔۔سلامتی ہو
آپ کی بات لگی من کو۔۔۔ :)
وہی بھولپن میں بیان میں جو اتار دوں تو غزل لکھوں
دوسرے مصرعے کے بارے بھی آپکی بات بالکل ٹھیک ہے۔۔۔کوشش کروں گی کسی طرح "اسے"کی گنجائش نکل آئے۔۔۔کہ مفہوم بدلے بغیر کام بن جائے۔۔
فی الحال "وہ"پر گزارہ کر لیتے ہیں :)
عینی مروت — اکتوبر 17، 2017 4:18 شام
واہ۔۔۔ زبردست۔ کمال لکھا۔ اصلاح تو وہی کرسکتے ہیں جو شاعری کے فن سے آگاہ ہیں۔ ہماری طرف سے بہت سی داد۔۔
پسندیدگی کے لیے بہت سارا شکریہ ہادیہ بہنا
خوش رہیں :)
عینی مروت — اکتوبر 17، 2017 4:19 شام
واہ بہت خوب، لاجواب!
بہت بہت نوازش وارث بھائی
بہت سی دعائیں :)
عینی مروت — اکتوبر 17، 2017 4:20 شام
واہ بہنا زبردست۔بہت خوبصورت کلام کیا۔مبارک باد قبول فرمائے۔
آپ سب کی اپنائیت ہے عدنان بھائی
پسند کرنے کے لیے ڈھیر سارا شکریہ
سلامتی ہو
:)
عینی مروت — اکتوبر 17، 2017 4:35 شام
لا المیٰ نے ماشاء اللہ درست معروضہ پیش کیا ہے۔ میری طرف سے بھی ایک اور۔ ردیف بدل کر اگر ’غزل کہوں‘ کر دی جائے تو؟؟؟
ویسے غزل واقعی بہت اچھی ہے۔ مبارکباد۔
لا المی بہنا کی ایک غزل سے ہی انکی شعر گوئی و شعر فہمی کی صلاحیت کا اندازہ ہوا تھا استاد محترم!۔
دراصل مطلع میں قلم ،سیاہئ شب تار ۔۔دوسرے شعر کے مصرع اول میں الجھے الجھےحروف اور عبارتوں کی خمیدہ زلفیں وغیرہ جیسی لفظیات ذہن میں آتے ہوئے ردیف "غزل لکھوں " بن گئی تھی
میں آپکی ردیف کے مطابق بدل کر لکھ لیتی ہوں
دیکھتے ہیں کیسی لگتی ہے
میں قلم کو اپنے سیاہئ شبِ تار دوں تو غزل کہوں
کبھی لاکے بامِ فلک سے چاند اتاردوں تو غزل کہوں
مرےالجھے الجھے حروف بھی مری ذات ایسے ہیں گنجلک
جو عبارتوں کی خمیدہ زلفیں سنوار دوں تو غزل کہوں
مری عمرِ رفتہ پلٹ ذرا، مجھے بخش دے مرا بچپنا
وہی بھولپن میں بیان میں جواتار دوں تو غزل کہوں
مرے شیشہ ء دلِ بدگماں پہ جو دھند چھائی ہے جابجا
وہ اداس آنکھوں کی بارشوں سے نکھار دوں تو غزل کہوں
یہیں دفن سب مرے خواب ہیں ، مری آرزو کےگلاب ہیں
دل نارسا تجھے اب کے، نام مزار دوں تو غزل کہوں
اے مصورہ جو تو کھینچ دے وہ حسین خاکہ ء زندگی
بڑے ناز سے اسے شوخ رنگِ بہار دوں تو غزل کہوں
۔۔۔۔
اور پسندیدگی کے لیے بہت بہت شکریہ استاد محترم !
عینی مروت — اکتوبر 17، 2017 4:39 شام
کیا قلمی نام نورالعین عینی استعمال کرتی ہو؟ یہ اس لیے کہ ’سمت‘ میں شامل کرنی ہیں نا تمہاری نظمیں!
جی بالکل سر۔۔تقریبا ہر جگہ یہی قلمی نام ہے
یہاں تخلص کے ساتھ قبیلے کے نام کا لاحقہ ۔۔اب یوں لاحق ہوگیا کہ کسی کو بامروت لگ گئی کسی کو بےمروت
:)
abdul qayyum BWP — اکتوبر 25، 2017 12:49 شام
میں قلم کو اپنے سیاہئ شبِ تار دوں تو غزل لکھوں
کبھی لاکے بامِ فلک سے چاند اتاردوں تو غزل لکھوں
بہت خوب جی ۔ لا جواب واہ
عینی مروت — اکتوبر 25، 2017 1:00 شام
میں قلم کو اپنے سیاہئ شبِ تار دوں تو غزل لکھوں
کبھی لاکے بامِ فلک سے چاند اتاردوں تو غزل لکھوں
بہت خوب جی ۔ لا جواب واہ
بہت شکریہ جناب۔۔ذرہ نوازی ہے آپکی۔۔۔
سلامتی ہو

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%82%D9%84%D9%85-%DA%A9%D9%88-%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92-%D8%B3%DB%8C%D8%A7%DB%81%D8%A6-%D8%B4%D8%A8-%D8%AA%D8%A7%D8%B1-%D8%AF%D9%88%DA%BA-%D8%AA%D9%88-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA.98699/