میں کہ اک شب کا ہوں سفر جیسے
اور تو خوشبو ئے سحر جیسے
نازگی خواب ِ فصل ِ گل تو سنو !
ایک تتلی کا ہو یہ پر جیسے
زیر لب مسکراہٹوں کا سبب ؟
حال ِ دل سے ہو بے خبر جیسے !
تپش ِ شوق سے جلائیں ہیں جو
وہی آنکھیں ہوں میرا گھر جیسے
تو ہوا ہمسفر تو لگنے لگا
زندگانی ہو مختصر جیسے
اور تو خوشبو ئے سحر جیسے
نازگی خواب ِ فصل ِ گل تو سنو !
ایک تتلی کا ہو یہ پر جیسے
زیر لب مسکراہٹوں کا سبب ؟
حال ِ دل سے ہو بے خبر جیسے !
تپش ِ شوق سے جلائیں ہیں جو
وہی آنکھیں ہوں میرا گھر جیسے
تو ہوا ہمسفر تو لگنے لگا
زندگانی ہو مختصر جیسے