میں گلابوں کی تجارت کا نہیں ہوں قائل

حسیب احمد حسیب — اپریل 13، 2016 10:37 شام
غزل

کوئی احساس بنے روح میں اترا جائے
وہ میرے پاس نہ آئے تبھی سوچا جائے
میں گلابوں کی تجارت کا نہیں ہوں قائل
پھول مرجھائے تبھی شاخ سے توڑا جائے
میری آنکھوں میں رہے اور دکھائی بھی نہ دے
وہ ذرا دور چلا جائے تو دیکھا جائے
عشق کی پیاس ہے جلتا ہوا دریا بھی ہے
گھونٹ دو گھونٹ کی حاجت ہے کہ ڈوبا جائے
اس کے نامے تو جلا ڈالے ہیں میں نے لیکن
راکھ پھیلی ہے اسے کیسے سمیٹا جائے
بات کہنی بھی ضروری ہے مگر بہتر ہے
کوئی میزان تو لے آئے کہ تولا جائے

مجھ سے ہتھیار نگاہوں کے یہ کہتے ہیں حسیب
ہم شکنجے ہیں ہمیں دیکھ کے پھینکا جائے
حسیب احمد حسیب
محمد تابش صدیقی — اپریل 14، 2016 3:33 صبح
بہت خوب حسیب بھائی
بات کہنی بھی ضروری ہے مگر بہتر ہے
کوئی میزان تو لے آئے کہ تولا جائے
نوشین فاطمہ عبدالحق — اپریل 14، 2016 5:36 صبح
اس کے نامے تو جلا ڈالے ہیں میں نے لیکن
راکھ پھیلی ہے اسے کیسے سمیٹا جائے
بہت خوب ! کیا کہنے .
اکمل زیدی — اپریل 14، 2016 5:58 صبح
جلتا ہوا دریا بھی ہے
یہ جلتا کہیں چلتا تو نہیں ..؟
سید لبید غزنوی — اپریل 14، 2016 6:05 صبح
بہت خوب عمدہ انتخاب۔۔۔۔بہت اچھی شراکت۔۔اللہ آپ کو خیر وبرکت سے نوازے آمین
محمد تابش صدیقی — اپریل 14، 2016 6:10 صبح
بہت خوب عمدہ انتخاب۔۔۔۔بہت اچھی شراکت۔۔اللہ آپ کو خیر وبرکت سے نوازے آمین
انتخاب نہیں ان کا اپنا کلام ہے۔ :)
اکمل زیدی — اپریل 14، 2016 6:11 صبح
انتخاب نہیں ان کا اپنا کلام ہے۔ :)
ارے اپنے کلام میں سے یہاں شئیر کرنے کا انتخاب کہنا چاہ رہے ہونگے لبید صاحب ...;)
محمد تابش صدیقی — اپریل 14، 2016 1:44 شام
انتخاب نہیں ان کا اپنا کلام ہے۔ :)
زیک ناقص املاء کی نشاندہی بھی کر دیں، تاکہ درست کر سکوں۔ :)
زیک — اپریل 14، 2016 2:16 شام
زیک ناقص املاء کی نشاندہی بھی کر دیں، تاکہ درست کر سکوں۔ :)
معذرت، غلطی سے بٹن دب گیا تھا۔
یاز — اپریل 14، 2016 4:16 شام
بہت عمدہ غزل ہے حسیب صاحب۔
آخری شعر میں شاید اس تصحیح کی ضرورت ہے۔
مجھ سے ہتھیار نگاہوں کے یہ کہتے ہیں حسیب
اس کے علاوہ درج ذیل مصرعہ میں "میری آنکھوں رہے" کے استعمال پہ مجھے کچھ شبہ سا لگ رہا ہے۔ (ہو سکتا ہے کہ غلط ہی لگ رہا ہو)۔
میری آنکھوں رہے اور دکھائی بھی نہ دے
حسیب احمد حسیب — اپریل 14، 2016 9:53 شام
یہ جلتا کہیں چلتا تو نہیں ..؟
جی نھیں
حسیب احمد حسیب — اپریل 14، 2016 10:00 شام
بہت عمدہ غزل ہے حسیب صاحب۔
آخری شعر میں شاید اس تصحیح کی ضرورت ہے۔
مجھ سے ہتھیار نگاہوں کے یہ کہتے ہیں حسیب
اس کے علاوہ درج ذیل مصرعہ میں "میری آنکھوں رہے" کے استعمال پہ مجھے کچھ شبہ سا لگ رہا ہے۔ (ہو سکتا ہے کہ غلط ہی لگ رہا ہو)۔
میری آنکھوں رہے اور دکھائی بھی نہ دے
درست فرمایا " کے " کی ہی جگہ ہے
"میری آنکھوں میں رہے" کتابت کی غلطی سے " میں " رہ گیا
سید لبید غزنوی — اپریل 18، 2016 9:50 صبح
انتخاب نہیں ان کا اپنا کلام ہے۔ :)
شکریہ رہنمائی کے لیے۔۔مجھے لگا تھا کہ شاید انھوں نے کسی کے کلام سے انتخاب کیا ہے۔۔۔خیر یہ انکا اپنا کلام ہے تو بہت خوشی کی بات ہے اور میں دوبارہ ہی نہیں سہبارہ بھی انکو داد دینے کو تیار ہوں اللہ ان کو خیر برکت سے نوازے۔۔آمین
سید لبید غزنوی — اپریل 18، 2016 9:53 صبح
ارے اپنے کلام میں سے یہاں شئیر کرنے کا انتخاب کہنا چاہ رہے ہونگے لبید صاحب ...;)
زیدی صاحب آپ کی مزاحیہ شخصیت میرے دل کو بڑی بھائی ہے۔۔۔ویسے آپ یہ بھی مراد لے سکتے ہیں۔۔بات تو کچھ اور تھی ۔۔۔خیر مجھے خوشی ہے کہ آپ احباب مجھے محبت دیتے ہیں اللہ آپ سب کو سلامت رکھے آمین
محمداحمد — اپریل 20، 2016 7:11 صبح
واہ
بہت خوب غزل ہے حسیب بھائی !
لطف آیا پڑھ کر۔
ظہیراحمدظہیر — اپریل 26، 2016 7:06 شام
بہت خوب حسیب بھائی ! کیا بات ہے ! کئی اچھے اشعار ہیں !!!!
بس ان قوافی پر ہم سکوت اختیار کریں گے ۔ :):):)
حسیب احمد حسیب — اپریل 28، 2016 3:18 شام
بہت خوب حسیب بھائی ! کیا بات ہے ! کئی اچھے اشعار ہیں !!!!
بس ان قوافی پر ہم سکوت اختیار کریں گے ۔ :):):)
آپ کا سکوت مجھے تشویش میں مبتلا کیے دیتا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%D9%84%D8%A7%D8%A8%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%AC%D8%A7%D8%B1%D8%AA-%DA%A9%D8%A7-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%84.89330/