نئی غزل: لوٹ آئی ہیں پھر وہی راتیں

محمد شکیل خورشید — جون 16، 2021 7:35 صبح
لوٹ آئی ہیں پھر وہی راتیں
وہ تری یاد وہ تری باتیں
ہم سے پوچھو ہے کیا عذاب اس میں
ہم نے کھائی ہیں عشق میں ماتیں
ہر گھٹا لے کے اس کی یاد آئی
کیسی غمناک ہیں یہ برساتیں
درد، آنسو، سکوت، بے خوابی
رات لائی ہے پھر یہ سوغاتیں
آؤ اشکوں سے اب وضو کرلیں
پھر سے کرنی ہیں کچھ مناجاتیں
شہرِ یاراں میں ہے یہ کیا آسیب
کتنی ویران ہیں یہاں راتیں
روز جاتا ہوں اس گلی میں شکیل
ان سے باقی ہیں کچھ ملاقاتیں
محترم الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن
اور دیگر احباب و اساتذہ کی نذر
محمد خلیل الرحمٰن — جون 16، 2021 7:41 صبح
لوٹ آئی ہیں پھر وہی راتیں
وہ تری یاد وہ تری باتیں
ہم سے پوچھو ہے کیا عذاب اس میں
ہم نے کھائی ہیں عشق میں ماتیں
ہر گھٹا لے کے اس کی یاد آئی
کیسی غمناک ہیں یہ برساتیں
درد، آنسو، سکوت، بے خوابی
رات لائی ہے پھر یہ سوغاتیں
آؤ اشکوں سے اب وضو کرلیں
پھر سے کرنی ہیں کچھ مناجاتیں
شہرِ یاراں میں ہے یہ کیا آسیب
کتنی ویران ہیں یہاں راتیں
روز جاتا ہوں اس گلی میں شکیل
ان سے باقی ہیں کچھ ملاقاتیں
محترم الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن
اور دیگر احباب و اساتذہ کی نذر
خوبصورت خوب صورت
محمد شکیل خورشید — جون 16، 2021 9:15 صبح
حوصلہ افزائی کا شکریہ سر
میم الف — جون 16، 2021 10:31 صبح
ہم سے پوچھو ہے کیا عذاب اس میں
ہم نے کھائی ہیں عشق میں ماتیں
جی شکیل بھائی
پھر آج کچھ بتا ہی دیں۔
میم الف — جون 16، 2021 10:32 صبح
ماشا٫اللہ - بہت عمدہ اشعار!
محمد عدنان اکبری نقیبی — جون 16، 2021 10:44 صبح
ماشا٫اللہ ،
بہت عمدہ اور خوبصورت غزل
محمد شکیل خورشید — جون 16، 2021 1:31 شام
ماشا٫اللہ ،
بہت عمدہ اور خوبصورت غزل
شکریہ جناب
محمد شکیل خورشید — جون 16، 2021 1:31 شام
ماشا٫اللہ - بہت عمدہ اشعار!
حوصلہ افزائی کا شکریہ
محمد شکیل خورشید — جون 16، 2021 1:33 شام
جی شکیل بھائی
پھر آج کچھ بتا ہی دیں۔
کیا بتائیں عذاب کیا کیا ہیں
یونہی تخلیقِ فن نہیں ہوتی
محمد عبدالرؤوف — جون 16، 2021 2:19 شام
بہت خوب، ماشاءاللہ
گُلِ یاسمیں — جون 16، 2021 2:28 شام
بہت خوب
میم الف — جون 16، 2021 3:07 شام
ہم سے پوچھو ہے کیا عذاب اس میں
ہم نے کھائی ہیں عشق میں ماتیں
جی شکیل بھائی
پھر آج کچھ بتا ہی دیں۔
کیا بتائیں عذاب کیا کیا ہیں
یونہی تخلیقِ فن نہیں ہوتی
واہ شکیل صاحب
سنو سنو ہماری بات سنو
جاؤ ہم نہیں بتاتے - کسی اور سے سن لو
اسی طرح،
اب ہم پوچھتے ہیں تو آپ کہتے ہیں کیا بتائیں
چہ خوب!
الف عین — جون 16، 2021 3:48 شام
واہ، خوبصورت غزل یے
ظہیراحمدظہیر — جون 16، 2021 4:02 شام
واہ واہ! بہت خوب ! اچھی غزل ہے شکیل بھائی !
درد، آنسو، سکوت، بے خوابی
رات لائی ہے پھر یہ سوغاتیں
کیا بات ہے ! کیا اچھا کہا ہے!
ایس ایس ساگر — جون 16، 2021 4:30 شام
بہت خوب سر۔عمدہ غزل ہے۔
داد قبول کیجیے۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔آمین
محمد شکیل خورشید — جون 16، 2021 9:10 شام
بہت خوب، ماشاءاللہ
شکریہ جناب
محمد شکیل خورشید — جون 16، 2021 9:10 شام
شکریہ بہن
محمد شکیل خورشید — جون 16، 2021 9:12 شام
واہ شکیل صاحب
سنو سنو ہماری بات سنو
جاؤ ہم نہیں بتاتے - کسی اور سے سن لو
اسی طرح،
اب ہم پوچھتے ہیں تو آپ کہتے ہیں کیا بتائیں
چہ خوب!
"کہاں تک سنو گے، کہاں تک سنائیں"
مرے شعر میری کہانی بتائیں
محمد شکیل خورشید — جون 16، 2021 9:14 شام
واہ، خوبصورت غزل یے
شکریہ استادِ محترم، آپ کی توثیق سے سند مل جاتی ہے
محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 16، 2021 10:16 شام
ماشاء اللہ ۔۔۔ بہت خوب شکیل بھائی ۔۔۔ خوبصورت غزل ہے۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%A6%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%84%D9%88%D9%B9-%D8%A2%D8%A6%DB%8C-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%D9%88%DB%81%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA.116665/