نئی غزل۔ گھر بنایا تھا جو مکان کے ساتھ

محمد شکیل خورشید — جولائی 21، 2020 7:59 شام
رات گزرے گی کیا امان کے ساتھ
یا کسی اور امتحان کے ساتھ
زندگی بھر قدم اٹھا نہ سکے
اس نے روکا تھا ایسے مان کے ساتھ
یوں حوادث میں زندگی بیتی
پل بھی گزرا نہیں امان کے ساتھ
ڈھونڈتا ہوں میں بام و در میں اسے
گھر بنایا تھا جو مکان کے ساتھ
کوئی سایا نصیب میں نہ ہوا
نہ رکی دھوپ سائبان کے ساتھ
دل میں تیرا ہی نقش ہر دم ہے
گرچہ مانا نہیں زبان کے ساتھ
رات میں بھی سکوں ملِا نہ شکیل
دن تو گزرا ہی تھا تکان کے ساتھ
محترم الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن
اور دیگر احباب و اساتذہ کی نذر
الف عین — جولائی 22، 2020 7:46 صبح
اچھی غزل ہے
محمد شکیل خورشید — جولائی 22، 2020 6:30 شام
حوصلہ افزائی کا شکریہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — جولائی 23، 2020 9:31 صبح
رات میں بھی سکوں ملِا نہ شکیل
دن تو گزرا ہی تھا تکان کے ساتھ
واہ! اچھا کہا ہے شکیلؔ بھائی۔
ایس ایس ساگر — جولائی 23، 2020 11:49 صبح
رات گزرے گی کیا امان کے ساتھ
یا کسی اور امتحان کے ساتھ
زندگی بھر قدم اٹھا نہ سکے
اس نے روکا تھا ایسے مان کے ساتھ
یوں حوادث میں زندگی بیتی
پل بھی گزرا نہیں امان کے ساتھ
ڈھونڈتا ہوں میں بام و در میں اسے
گھر بنایا تھا جو مکان کے ساتھ
کوئی سایا نصیب میں نہ ہوا
نہ رکی دھوپ سائبان کے ساتھ
دل میں تیرا ہی نقش ہر دم ہے
گرچہ مانا نہیں زبان کے ساتھ
رات میں بھی سکوں ملِا نہ شکیل
دن تو گزرا ہی تھا تکان کے ساتھ
بہت خوب۔ خوبصورت غزل ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%A6%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84%DB%94-%DA%AF%DA%BE%D8%B1-%D8%A8%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%D8%AC%D9%88-%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE.112548/