ناصحوں کو کیا خبر کیا لطف مے خانے میں ہے

محمد شکیل خورشید — مئی 4، 2020 12:31 صبح
ناصحوں کو کیا خبر کیا لطف مے خانے میں ہے
کیسی مستی کیا اَلَسْتی اس کے پیمانے میں ہے
محوِ رقصِ سازِ عشق اس کی گلی میں کب سے ہوں
دیر کیا جانے اب اس کے بام تک آنے میں ہے
کیا کہوں اس انجمن میں کس طرح بیٹھا ہوں میں
بت یہاں رکھا ہوا ہے دل تو ویرانے میں ہے
یہ فسوں ہے یا وبا، یا تیری فرقت کا اثر
ایک نامعلوم دقت سانس کے آنے میں ہے
میری تو ہر بات میں نام اس کا آتا ہے شکیل
ذکر میرا بھی کہیں کیا اس کے افسانے میں ہے​

محترم@الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن
محترم سید عاطف علی
محترم ظہیراحمدظہیر
و دیگر احباب کی نذر
مزمل شیخ بسمل — مئی 4، 2020 2:26 صبح
یہ فسوں ہے یا وبا، یا تیری فرقت کا اثر
ایک نامعلوم دقت سانس کے آنے میں ہے
بہت عمدہ۔
واہ واہ۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — مئی 4، 2020 4:13 صبح
بہت عمدہ، سبحان اللہ!
محمد شکیل خورشید — مئی 4، 2020 3:18 شام
بہت عمدہ۔
واہ واہ۔
شکریہ
محمد شکیل خورشید — مئی 4، 2020 3:19 شام
بہت عمدہ، سبحان اللہ!
شکریہ جناب
ظہیراحمدظہیر — مئی 4، 2020 5:46 شام
بہت خوب! اچھے اشعار ہیں شکیل صاحب!
چونکہ آپ نے دعوتِ تبصرہ دی ہے سو اپنی ناقص رائے پیش کردیتا ہوں ۔
ناصحوں کو کیا خبر کیا لطف مے خانے میں ہے
کیسی مستی کیا اَلَسْتی اس کے پیمانے میں ہے
۔ کس کے پیمانے میں؟ یہاں مشار الیہ کا کوئی ذکر یا کوئی کنایہ موجود نہیں ۔ اگر پیمانے کی کوئی تخصیص کردی جائے تو شعر کا معیار بلند ہوجائے گا ۔ مثلاً عشق کا پیمانہ ، دل کا پیمانہ وغیرہ
محوِ رقصِ سازِ عشق اس کی گلی میں کب سے ہوں
دیر کیا جانے اب اس کے بام تک آنے میں ہے
۔ محوِ رقصِ سازِ عشق کی ترکیب درست نہیں ہے ۔ محوِ رقص برسازِ عشق درست ہوگا ۔ اسے یوں کردیکھئے: محوِ رقصِ عشق ہوں اُس کی گلی میں کب سے میں
کیا کہوں اس انجمن میں کس طرح بیٹھا ہوں میں
بت یہاں رکھا ہوا ہے دل تو ویرانے میں ہے
۔ یہاں دل کی رعایت سے بُت کے بجائے جسم ، بدن یا تن کا محل ہے ۔ اسے یوں کردیکھئے : تن یہاں رکھا ہوا ہے دل تو ویرانے میں ہے
یہ فسوں ہے یا وبا ، یا تیری فرقت کا اثر
ایک نامعلوم دقت سانس کے آنے میں ہے
- یہاں وبا کا کوئی محل نہیں ہے ۔یہاں مرض ، عارضہ ، روگ یا بیماری کا محل ہے ۔ جب فردِ واحد کی بات ہوتی ہے تو یہ نہیں کہا جاتا کہ مجھے وبا ہے یا فلاں شخص کو وبا ہوگئی ہے ۔ وبا اس صورتحال کو کہاجاتا ہے کہ جب بیک وقت بے شمار لوگ کسی چھوت کے مرض میں مبتلا ہوجائیں ۔ دوسری بات یہ کہ فسوں اور وبا کا اس طرح تقابل بھی بے ربط سا لگ رہا ہے ۔
الف نظامی — مئی 5، 2020 12:56 صبح
پیمانے سے مستی کا تعلق تو سمجھ میں آتا ہے لیکن الستی کا پیمانے سے کیا ربط ہے؟
محمد شکیل خورشید — مئی 5، 2020 1:35 صبح
بہت خوب! اچھے اشعار ہیں شکیل صاحب!
چونکہ آپ نے دعوتِ تبصرہ دی ہے سو اپنی ناقص رائے پیش کردیتا ہوں ۔
ناصحوں کو کیا خبر کیا لطف مے خانے میں ہے
کیسی مستی کیا اَلَسْتی اس کے پیمانے میں ہے
۔ کس کے پیمانے میں؟ یہاں مشار الیہ کا کوئی ذکر یا کوئی کنایہ موجود نہیں ۔ اگر پیمانے کی کوئی تخصیص کردی جائے تو شعر کا معیار بلند ہوجائے گا ۔ مثلاً عشق کا پیمانہ ، دل کا پیمانہ وغیرہ
محوِ رقصِ سازِ عشق اس کی گلی میں کب سے ہوں
دیر کیا جانے اب اس کے بام تک آنے میں ہے
۔ محوِ رقصِ سازِ عشق کی ترکیب درست نہیں ہے ۔ محوِ رقص برسازِ عشق درست ہوگا ۔ اسے یوں کردیکھئے: محوِ رقصِ عشق ہوں اُس کی گلی میں کب سے میں
کیا کہوں اس انجمن میں کس طرح بیٹھا ہوں میں
بت یہاں رکھا ہوا ہے دل تو ویرانے میں ہے
۔ یہاں دل کی رعایت سے بُت کے بجائے جسم ، بدن یا تن کا محل ہے ۔ اسے یوں کردیکھئے : تن یہاں رکھا ہوا ہے دل تو ویرانے میں ہے
یہ فسوں ہے یا وبا ، یا تیری فرقت کا اثر
ایک نامعلوم دقت سانس کے آنے میں ہے
- یہاں وبا کا کوئی محل نہیں ہے ۔یہاں مرض ، عارضہ ، روگ یا بیماری کا محل ہے ۔ جب فردِ واحد کی بات ہوتی ہے تو یہ نہیں کہا جاتا کہ مجھے وبا ہے یا فلاں شخص کو وبا ہوگئی ہے ۔ وبا اس صورتحال کو کہاجاتا ہے کہ جب بیک وقت بے شمار لوگ کسی چھوت کے مرض میں مبتلا ہوجائیں ۔ دوسری بات یہ کہ فسوں اور وبا کا اس طرح تقابل بھی بے ربط سا لگ رہا ہے ۔

تفصیلی رہنمائی کا شکریہ محترم! کوشش کرتا ہوں اصلاح کی
محمد شکیل خورشید — مئی 5، 2020 1:51 صبح
پیمانے سے مستی کا تعلق تو سمجھ میں آتا ہے لیکن الستی کا پیمانے سے کیا ربط ہے؟
پیمانے کو عارفانہ معنوں میں لیں تو الستی سے نسبت بنتی ہے۔
الف نظامی — مئی 5، 2020 2:20 صبح
پیمانے کو عارفانہ معنوں میں لیں تو الستی سے نسبت بنتی ہے۔
الست کیا کسی کیفیت کا نام ہے ؟
یوم الست ارواح سے میثاق لیا گیا تھا "الست بربکم"۔ اب اگر پیمانے سے الست کو جوڑنا ہے تو الست کو کیفیت بنانا پڑے گا جیسے مستی ایک کیفیت ہے۔ یا یہ سمجھا جائے کہ پیمانے کی مئے یوم الست والی ہے؟
Anees jan — مئی 5، 2020 6:49 شام
بہت عمدہ غزل ہے ماشاءاللہ
محمد شکیل خورشید — مئی 6، 2020 9:15 شام
محترم الف عین صاحب کی رہنمائی کا منتظر ہوں، اب نظر پڑی کہ اوپر انہیں ٹیگ درست نہیں ہو پایا
محمد شکیل خورشید — مئی 6، 2020 9:17 شام
بہت عمدہ غزل ہے ماشاءاللہ
حوصلہ افزائی کا شکریہ
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 6، 2020 9:20 شام
محترم الف عین صاحب کی رہنمائی کا منتظر ہوں، اب نظر پڑی کہ اوپر انہیں ٹیگ درست نہیں ہو پایا
استادِ محترم اس لڑی میں جم ہی آتے ہیں۔ واہ واہ کرنے سے زیادہ انہیں اصلاح پسند ہے۔
الف عین — مئی 7، 2020 5:00 صبح
متفق ہوں ظہیراحمدظہیر سے اور الف نظامی سے بھی۔ اور اگر پیمانے کو ڈفائن کر دیا جائے تو شاید الست کا محل نکل جائے لیکن تب بھی اس سے 'الستی' کا اسم بنانے کا جواز نہیں لگتا۔
مجھے مقطع کا پہلا مصرعہ بھی پسند نہیں آیا ۔ میری تو' میں میری کی ی کا اسقاط اور پھر' تو' کا طویل کھنچ آ روانی متاثر کرتا ہے۔ اور تفنن کے طور پر، اس سے لہجہ بھی ایسا لگتا ہے جیسے کہہ رہے ہون کہ' میری تو ایسی کی تیسی!!'
محمد شکیل خورشید — مئی 8، 2020 1:30 صبح
متفق ہوں ظہیراحمدظہیر سے اور الف نظامی سے بھی۔ اور اگر پیمانے کو ڈفائن کر دیا جائے تو شاید الست کا محل نکل جائے لیکن تب بھی اس سے 'الستی' کا اسم بنانے کا جواز نہیں لگتا۔
مجھے مقطع کا پہلا مصرعہ بھی پسند نہیں آیا ۔ میری تو' میں میری کی ی کا اسقاط اور پھر' تو' کا طویل کھنچ آ روانی متاثر کرتا ہے۔ اور تفنن کے طور پر، اس سے لہجہ بھی ایسا لگتا ہے جیسے کہہ رہے ہون کہ' میری تو ایسی کی تیسی!!'
گویا صورتحال تو
مصحفیؔ ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم
تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا
والی بن گئی
شکریہ ،محترم، از سرِ نو کوشش کروں گا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%AD%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%AE%D8%A8%D8%B1-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D9%84%D8%B7%D9%81-%D9%85%DB%92-%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%92.111648/