نظر آئے جو آئینہ، عزاداری میں رہتے ہیں

نمرہ — جولائی 6، 2019 4:36 شام
استاد محترم جناب الف عین کی زمین میں۔
نظر آئے جو آئینہ، عزاداری میں رہتے ہیں
وگرنہ یوں تو ہم ہونے کی سرشاری میں رہتے ہیں
اگر سچ پوچھیے تو خود بھی کم کم علم ہوتا ہے
درون خواب رہتے ہیں کہ بیداری میں رہتے ہیں
ہمارے خواب نازک رو ہیں اور دنیا ہے پتھر خو
سو ہر لمحہ فقط ان کی نگہداری میں رہتے ہیں
فریب و وہم کہلاتی ہے اتنی سادگی، یعنی
نہایت سہل ہو جانے کی دشواری میں رہتے ہیں
کہیں کار جہاں بانی ملے تو کچھ کریں ہم بھی
ابھی تو آخری درجے کی بے کاری میں رہتے ہیں
ہمیں وقت و مکاں کی بندشیں کیا روک پائیں گی
جہاں رہتے ہیں اس دل کی عملداری میں رہتے ہیں
ٹھہر سکتا نہیں بار محبت سر پہ، ثابت ہے
مگر ہم ہیں کہ اب تک اس جگر کاری میں رہتے ہیں
یہ قصر خواب اپنی زندگی کا کل اثاثہ ہے
اسے تعمیر کر کے آپ مسماری میں رہتے ہیں
بظاہر مختصر ساعت تھی اک ترک تعلق کی
مگر ہم اب تلک اس لمحہ جاری میں رہتے ہیں
فاخر رضا — جولائی 6، 2019 6:38 شام
ہمارے خواب نازک رو ہیں اور دنیا ہے پتھر خو
سو ہر لمحہ فقط ان کی نگہداری میں رہتے ہیں
بہت اچھا شعر ہے
خواب دیکھنا، یہ حق ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا.
الف عین — جولائی 7، 2019 6:09 صبح
واہ بٹیا، شاگردی کا حق ادا کر دیا، مجھے اپنی غزل سے بہتر لگ رہی ہے یہ غزل!
سمت میں شامل کروں گا ہی اس کو تو
محمد عدنان اکبری نقیبی — جولائی 7، 2019 9:34 صبح
ماشاءاللہ۔
بہت اعلی ،شاندار غزل
فرحان محمد خان — جولائی 8، 2019 5:07 صبح
نہایت سہل ہو جانے کی دشواری میں رہتے ہیں
سبحان اللہ بہت خوب
La Alma — جولائی 8، 2019 9:52 صبح
بہت خوب!!
ایک عمدہ کاوش ہے۔
نظر آئے جو آئینہ، عزاداری میں رہتے ہیں
نجانے کیوں یہ پڑھ کر Mirrors مووی کا سین یاد آ گیا۔ :)
نمرہ — جولائی 8، 2019 5:36 شام
واہ بٹیا، شاگردی کا حق ادا کر دیا، مجھے اپنی غزل سے بہتر لگ رہی ہے یہ غزل!
سمت میں شامل کروں گا ہی اس کو تو
آپ کو پسند آئی، اس سے زیادہ اچھی بات کیا ہو سکتی ہے۔ ضرور شائع کیجیے۔
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 14، 2019 10:31 شام
بہت خوب نمرہ! کئی اچھے اشعار ہیں ! مقطع پسند آیا !
بظاہر مختصر ساعت تھی اک ترکِ تعلق کی
مگر ہم اب تلک اُس لمحہء جاری میں رہتے ہیں
واہ!
پتھر خو کی ترکیب کچھ نامناسب سی لگی ۔ میری رائے میں ہندی اور فارسی عربی الفاظ کی تراکیب بنانا درست ہے اور زبان کو وسعت دینے کی خاطراِن تراکیب کو فروغ دینا چاہئے ۔ لیکن ان تراکیب میں مخصوص ہندی حروف ٹ، ڈ،ڑ ، تھ، ٹھ، چھ وغیرہ سے پرہیز کرنا چاہئے تاکہ ترکیب کی ہم آہنگی اور صوتی خوبصورتی برقرا رہے ۔لبِ سڑک اور سختیء پتھر وغیرہ کی تراکیب کچھ اچھا تاثر نہیں چھوڑیں گی اور نہ ہی قبولِ عام پا سکیں گی ۔ :):):)
یاسر شاہ — ستمبر 21، 2019 6:06 صبح
محترمہ آپ کی غزل کے متعلق میں نے بھی کچھ لکھنا تھا مگر آپ تبصروں کا جواب نہیں دیتیں جوکہ میرے خیال سے خلاف تہذیب ہے لہٰذا فی الحال کچھ نہیں لکھتا -
بافقیہ — ستمبر 21، 2019 8:00 صبح
کہیں کار جہاں بانی ملے تو کچھ کریں ہم بھی
ابھی تو آخری درجے کی بے کاری میں رہتے ہیں
کمال ہے ۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%B8%D8%B1-%D8%A2%D8%A6%DB%92-%D8%AC%D9%88-%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81%D8%8C-%D8%B9%D8%B2%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA.107533/