نظم

نوید ناظم — مئی 22، 2022 3:50 شام
مُرمّت
ریل کی پٹڑی کہیں جاتی نہیں اب
بند ہے آگے سے یہ
رات کو سیٹی کی اک آواز جو تھی
شُکر ہے اب وہ نہیں ہے
دھوکا پیدا کر دیا کرتی تھی یوں ہی
آرہا ہو جیسے کوئی
دُور سے آواز دیتا
یہ نگاہیں بھی جمی رہتی تھیں اس پٹڑی پہ دن بھر
مجھ کو لگتا تھا کہ اب جو بھی ٹرین آئی یہاں پر
لے کر آئے گی اُسے بھی
پر ٹرینیں تو گزر جاتی تھیں خالی
اور پٹڑی سانپ کے جیسے وہیں بلکھا کے سو جاتی تھی پھر سے
یہ سُنا ہے اِس پہ آگے کام ہونا ہے ذرا سا
میں بھی اِس دوران اب ٹوٹی ہوئی امید کو اک موڑ دوں گا
جلد پٹڑی ٹھیک ہو جائے گی لیکن
انتظار اب میں ٹرینوں کا مکمل چھوڑ دوں گا!
(نوید ناظم وٹو)
محمداحمد — مئی 22، 2022 4:52 شام
بہت خوب نوید بھائی!
گُلِ یاسمیں — مئی 22، 2022 5:43 شام
بہت خوب
سلامت رہئیے-
نوید ناظم — مئی 23، 2022 6:48 صبح
بہت خوب نوید بھائی!
یہ آپ کی محبت! شکریہ۔
نوید ناظم — مئی 23، 2022 6:48 صبح
بہت خوب
سلامت رہئیے-
ذوق سلامت! متشکرم۔
محمد عبدالرؤوف — مئی 23، 2022 7:34 صبح
بہت خوب نوید بھائی۔ اچھی نظم ہے
انتظار اب میں ٹرینوں کا مکمل چھوڑ دوں گا
اب تو پورا پاکستان آپ کے ساتھ ہے
نوید ناظم — مئی 23، 2022 9:02 صبح
بہت خوب نوید بھائی۔ اچھی نظم ہے
اب تو پورا پاکستان آپ کے ساتھ ہے
بڑی نوازش، آپ کا تبصرہ نظم سے زیادہ خوب ہے۔شُکر ہے کہ کچھ ستم مُلکی سطح پر ہوتے ہیں۔ ہاہاہا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%B8%D9%85.118472/