نظم : (ماں کی یاد)

Shahzad hussain — ستمبر 26، 2015 1:06 شام
کچھ سنو تو بولوں میں
بات یہ پرانی ہے
گرمیوں کے دن تھے وہ
صبح کی گڑی ہو گی
میں اداس بیٹھا تھا
سوچ میں کہیں گم تھا
اپنے ہی خیالوں میں
پھر مجھے اچانک یہ
سانحہ کی خبر ملی
سانحہ بھی ایسا تھا
روح کو مری جس نے
زخم کچھ لگا یا تھا
ماں نہیں مری میری
مر گیا میں تھا شا ید
کچھ سنو تو بولوں میں
بات یہ پرانی ہے
آج میں جو روتا ہوں
دل سوال کرتا ہے
وجہ کیا ہے رونے کی
ماں تو اک امانت تھی
میں جواب دیتا ہوں
کچھ نظر نہیں آتا
دوستوں کی محفل میں
سب پرائے لگتے ہیں
عید بھی تو ویسی ہے
جیسی ماں کے ہوتے تھی
پر نہیں خوشی کوئی
دل یہ چاہے میرا کے
کاش وقت لوٹ آئے
کاش وقت لوٹ آئے
کاش وقت لوٹ آئے
Shahzad hussain — ستمبر 26، 2015 1:14 شام
ابھی مکمل نہی مری نظر میں سر الف عین آپ نے میرا ایک یا دو کلام پہلے بھی پڑا ھے مہربانی ھو گی اگر بتا دیں کے کلام موزوں ہے یا نہیں اور مجھے مزید یہ نظم لکھنی چاہیے یا اس کو ہی بھتر اختتام دے کے ختم کر دوں
ساری کی ساری نظم بحر میں ہے سواے اک لفظ ( خبر ) کے اس پہ بھی کچھ روشنی ڈال دیجے گا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%B8%D9%85-%D9%85%D8%A7%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%DB%8C%D8%A7%D8%AF.84827/