نظم: ایک مکالمہ

محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 21، 2020 7:52 صبح
عزیزان گرامی اور معزز اساتذۂ کرام، آداب!
ایک پرانی (آزاد) نظم بعنوان ’’ایک مکالمہ‘‘ آپ سب کی بصارتوں کی نذر کررہا ہوں۔ امید ہے احباب توجہ فرمائیں گے اور اپنی قیمتی آراء سے نوازیں گے۔
دعاگو،
راحلؔ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مکالمہ
ہوا ایسا اچانک ایک دن
اس نے کہا مجھ سے
مجھے تم سے محبت ہے!
ذرا چونکا میں،
اور اس سے کہا
تم کو خبر ہے کچھ، کہ تم کیا کہہ رہی ہو یہ؟
کبھی تم نے بھلا دیکھی ہے راتوں کی سیہ بختی؟
کبھی پندرہ کے افسردہ سے گھٹتے چاند کے دکھ کو بھی سمجھا ہے؟
یا پھر
کیا رتجگوں میں کرب ہوتا ہے، کبھی تم نے یہ جانا ہے؟
یہ سن کر ایک پل خاموش رہ کر یہ کہا اس نے
کہ ہاں یہ ٹھیک ہے میں نے کبھی شب کی سیہ بختی نہیں دیکھی
مگر،
دن کے اجالوں میں یہ جانا ہے
محبت نکھری نکھری ہے!
کبھی پندرہ کے گھٹتے چاند کے دکھ کو نہیں سمجھا
مگر چودہ کے اجلے چاند سے
آنکھوں کو جب بھی خیرہ کرتی ہوں
تمہارا عکس دکھتا ہے
کبھی بھی رتجگوں کے کرب کو جانا نہیں میں نے
مگر جاناں
مری نیندوں میں، خوابوں کی حسیں سب وادیوں میں
بس تمہارا، بس تمہارا لمس ہوتا ہے
مرے ہمدم!
حصارِ خودپرستی سے نکل کر تم اگر سوچو
تو یہ بھی ایک انداز محبت ہے!
محمداحمد — جنوری 21، 2020 1:55 شام
بہت خوب!!
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 21، 2020 3:28 شام
بہت شکریہ احمد صاحب، آپ کی توجہ اور پذیرائی کے لئے ممنونِ احسان ہوں۔
دعاگو،
راحلؔ
انس معین — جنوری 21، 2020 4:54 شام
بہت خوب ۔۔ :redheart:
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 21، 2020 5:01 شام
بہت شکریہ بھائی :)
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 21، 2020 7:19 شام
فاخر رضا بھائی، اس میں "معلوماتی" کیا لگا آپ کو؟ :)
فاخر رضا — جنوری 22، 2020 2:21 صبح
آپ نے بٹن بہت قریب قریب لگا دیئے ہیں. انہیں تھوڑا دور کیجیے. ورنہ کوئی نہ کوئی غلطی ہوتی رہے گی
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 22، 2020 3:46 صبح
خوبصورت نظم محمّد احسن سمیع :راحل: بھائی داد قبول فرمائیے۔
بس درج ذیل مصرع کو تبدیل فرمالیجیے کہ دکھتا کوئی لفظ نہیں۔ یہاں شاید "نظر آتا " کا محل ہے۔
تمہارا عکس دکھتا ہے

تمہارا عکس ہی دیکھوں
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 22، 2020 7:22 صبح
آپ نے بٹن بہت قریب قریب لگا دیئے ہیں. انہیں تھوڑا دور کیجیے. ورنہ کوئی نہ کوئی غلطی ہوتی رہے گی
جناب آپ کی توجہ اور پذیرائی کے لئے ممنون و متشکر ہوں، جزاک اللہ :)
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 22، 2020 7:23 صبح
خوبصورت نظم محمّد احسن سمیع :راحل: بھائی داد قبول فرمائیے۔
بس درج ذیل مصرع کو تبدیل فرمالیجیے کہ دکھتا کوئی لفظ نہیں۔ یہاں شاید "نظر آتا " کا محل ہے۔
تمہارا عکس ہی دیکھوں
محترم خلیل صاحب، آداب!
داد و پذیرائی کے لئے احسان مند ہوں۔ آپ نے نہایت مفید مشورہ عنایت کیا، اس کے لئے خصوصی شکریہ، جزاک اللہ۔
دعاگو،
راحلؔ
Wajih Bukhari — فروری 6، 2020 1:27 شام
بہت دلپذیر۔
Wajih Bukhari — فروری 6، 2020 1:29 شام
آخری شعر کی کچھ وضاحت فرمائیے
حصارِ خودپرستی سے نکل کر تم اگر سوچو
تو یہ بھی ایک انداز محبت ہے!
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 7، 2020 8:46 شام
بہت شکریہ وجیہہ صاحب، پذیرائی کے لئے شکرگزار ہوں۔
آخری دومصرعوں کی بابت آپ نے دریافت فرمایا ہے۔ نظم کے تسلسل کے تناظر میں دیکھیں تو جس سے مکالمہ کیا گیا ہے اس کا کہنا یہ ہے کہ لازم نہیں کہ محبت ہمیشہ احساس غم، دکھوں اور کرب سے ہی عبارت ہو، کسی کے لئے یہ خوشی و سرشاری کا پیغام بھی لاسکتی ہے، اور مخطوب کی محبت کچھ ایسی ہی ہے۔ شاعر کو اپنا کو اپنی ذات سے باہر جھانک کر اپنا "وژن" وسیع کرنے کی ضرورت ہے :)
دعاگو،
راحل۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%B8%D9%85-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%81.110103/