نظم بعنوان تذبذب

Wajih Bukhari — فروری 4، 2022 12:45 شام
4 فروری 2022
تذبذب
کہنے لگا اک روز مرا دل وہ حسیں ہے
یونہی نہیں میں ہو گیا مائل وہ حسیں ہے
تُو دیکھ کہ مثلِ مہِ کامل وہ حسیں ہے
دنیا کی ہر اک شے کے مقابل وہ حسیں ہے
کچھ دیر تو اٹھا نہیں میں دل کے جہاں سے
اکتا کے پھر اک بار نکل آیا وہاں سے
لوٹا تو حقیقت میں کچھ اپنا ہی اثر تھا
جس سمت بھی دیکھا تو جہاں حسن کا گھر تھا
آنکھوں میں تراشا تو ہر اک سنگ گہر تھا
سرشار مناظر سے مرا ذوقِ نظر تھا
سوچا کہ حسیں اور بھی آفاق میں ہونگے
بت اور بھی تقدیر کے اوراق میں ہونگے
معلوم ہے ناداں کوئی مجھ سا نہیں ہو گا
اس طرح تو وہ مجھ سے شناسا نہیں ہو گا
کچھ دل کو تامُّل سے دلاسہ نہیں ہوگا
مانگے بنا سیراب یہ پیاسا نہیں ہو گا
اب سوچتا ہوں اس سے کہوں اپنی کتھا میں
پھر سوچتا ہوں اور ٹھہر جاؤں ذرا میں
Wajih Bukhari — فروری 4، 2022 12:49 شام
شاید قافیے کے اسالیب سے اس میں بھی روگردانی کی جسارت کی ہے۔ پیشگی معذرت قبول فرمائیے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%B8%D9%85-%D8%A8%D8%B9%D9%86%D9%88%D8%A7%D9%86-%D8%AA%D8%B0%D8%A8%D8%B0%D8%A8.118072/