سب سے پہلے تو بہت بہت شکریہ
میری ادنیٰ سے کاوش پڑھنے کا
پسند کرنے کا
تبصرہ کرنے کا
سمجھانے کا استاد محترم کے اعتراض کے خلاصہ کرنے کا
اگر رہ گئی تو ایک بات کہ استاد محترم کے مشورے کا خلاصہ نہیں ہوا
کیا یہ شعر ناقابلِ اصلاح ہے ، جو اسے القط کر دیا جائے،
اور اگر اس کے علاوہ جو کچھ آپ کی بارک بین نگاہ نے دیکھا ہے اگر بیان کر دیں تو خوشی ہوگی اس سے مجھے اپنی اصلاح کرنے اور آئندہ بھی ان جزویات کا خیال رکھنے کا احساس پیدا ہوگااور اگر نہ بھی ہو تو اور دوسرے حضرات اور نئے نئے شعراء اس علمی بحث سے سیکھیں گے۔
آپ نے اپنا قیمتی وقت مجھ پر صرف کیا ، جسکا جتنا بھی شکریہ ادا کروں کم ہے، باقی اہل زبان کا اپنی زبان سے بے توجہی کا رجہان تلخ سہی مگر ایک حقیقت ہے، جسکا کا واقعی افسوس ہے۔ اسکے باوجود ایسے سرپھرے لوگ موجود ہیں زبان اردو کی زلف سنوارنے میں مصروف ہیں ، جیسا کہ ہماری محفل ،
عنایت
ایک طالب علم کی با ت آپ نے بزرگ ہو کر بھی پڑھی اور اس کو اہمیت دی، اس بات کا بہت شکریہ۔
ہم شاعر لوگ کچھ باتیں بھول جایا کرتے ہیں۔۔ شاعری کرتے ہی کیوں ہیں؟ ظاہر ہے، اس لیے کہ اس سے ہمارے ذہن کو سکون ملتا ہے۔۔۔ کچھ کمی سی جو اپنی ذات میں محسوس ہوتی ہے، وہ پوری ہوتی ہے یا پھر یوں کہیے کہ بہت کچھ کہنے کو جی چاہتا ہے۔۔۔ وہ اشعار کے ذریعے بیان کردیتے ہیں۔
لیکن شاعری کا ایک بہت اہم اور بنیادی قسم کا مقصد ہے جو ہم اکثر نظر انداز کردیتے ہیں۔ وہ اپنی زبان کی ترویج اور فروغ ہے۔ ہم جب اچھے سے اچھا شعر کہنے کی کوشش کرتے ہیں تو بعض اوقات اردو کو کم کم جاننے والے بھی جب کسی شعر کے مطلب سے آشنا ہوتے ہیں تو جھوم اٹھتے ہیں۔ نو جوان نسل جو اردو سے دور ہورہی ہے، اس کا جی چاہتا ہے کہ وقت نکال کر اردوشاعری پڑھے۔۔۔ بعض لوگ ڈکشنریاں نکال کر دیکھتے ہیں اور زبان سیکھتے ہیں کہ جس زبان میں ایک بات اتنی خوبصورتی سے بیان ہوئی ہے، وہ بات اس زبان کے سمندر میں ایک قطرے کی حیثیت رکھتی ہے۔۔۔ جب قطرہ اتنا خوبصورت ہے تو سمندر کا حسن کیسا ہوگا؟ وہ کیسا دکھائی دیتا ہوگا؟
آپ کا سوال بے جانہیں بلکہ بہت اہم اور ضروری ہے ۔ کیاآپ کا شعر ناقابلِ اصلاح ہے ، جو اسے القط کر دیا جائے؟ تخلیق سے خالق ایک ماں کی طرح محبت کرتا ہے، ایک ایک شعر پر محنت کرنے کے بعد ہی کوئی شاعر اسے منظر عام پر لاتا ہے۔۔۔ بھلا کسی کے کہنے پر ہی کیوں اسے ختم کیاجائے؟ اس کی کوئی معقول وجہ بھی تو بتائی جانی چاہئے۔۔ تو تھوڑی سی وجہ میں نے بتائی تھی کہ اہل زبان ایسے نہیں کہتے، اور ابلاغ نہیں ہوا وغیرہ۔۔ اب آخر میں یہ سوال باقی بچتا ہے کہ کیا یہ ناقابل اصلاح ہے؟ِ ۔۔۔ میرا جواب اثبات میں ہے، کیونکہ فی الحال مجھے اس کی کوئی دیگر معقول صورت دکھائی نہیں دے رہی، جس میں یہ غلطیاں بھی دور ہوجائیں جن کی طرف میں نے اشارہ کیا اور مضمون ، قافیہ، ردیف اور بحر بھی وہی رہے۔ لیکن انسانی ذہن خدا کی وہ انمول تخلیق ہے جس کا مقابلہ دنیا کا کوئی کمپیوٹر نہیں کرسکتا۔ اس لیے کسی بھی اچھے شاعر بشمول آپ کو خود بھی اچانک کوئی ایسا مصرع سوجھ سکتا ہے جو ہر طرح کی غلطیوں سے پاک ، خوبصورت ، گزشتہ خیال سے زیاد واضح اور جاندار ہو ۔ سو میں نے جو اس شعر کو ناقابل اصلاح کہہ دیا ہے، میرا جواب خود بخود غلط ثابت ہوجائے گا۔
تصویر کا دوسرارخ بھی دیکھئے، شاید اس طرح بات کچھ اور کھل کر سامنے آسکے۔
یہاں اسی سوال کو الٹ کر پوچھا جائے کہ دیگر کہنے والے تو اس شعر کے خلاف ہیں اور آپ اس کے حق میں۔ ایسا کیوں ہے؟ (حالانکہ ایسا کوئی اصرار آپ نے کیا نہیں ہے، محض ایک سوال ہی پوچھا ہے )، تو اس کا جواب یہ ہے کہ شاعری ۔اور نثر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کسی ادیب یا کہانی نویس سے کہا جاتا کہ فلاں جملہ غلط ہوگیا ہے ، اسے بدلیے تووہ بڑی آسانی سے اسے بدل سکتا تھا۔ شاعری میں اول تو یہ کام مشکل ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ بڑی دھوکے باز چیز ہے۔ جیسی دکھائی دیتی ہے، ویسی ہوتی نہیں ہے۔ اس میں الفاظ کی ترتیب ایک خاص تاثر پیدا کرتی ہے۔ آپ اسے گنگنا سکتے ہیں۔ اس لیے زیادہ تر شعراء محض شعر کے کسی بحر میں موزوں ہوجانے کو ہی کافی سمجھتے ہیں ، جبکہ یہ معیار نہیں ہے۔ اسی مضمون میں آپ اس سے کئی گنا بہتر شعر کہہ سکتے ہیں، پھر یہی کیوں؟۔۔ اس سوال کے بہت سے جواب ہوسکتے ہیں، لیکن آپ کا کیا جواب ہے؟ یہ جاننا زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ یہ شعر حذف کرنے پر ہی کیوں زور دیاجارہا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے اس شعر میں جو نقص دیکھا، پوری غزل میں نہیں دیکھا۔ اب اس شعر کو یونہی چھوڑ دیاجائے گا تو غزل میں خامی دکھائی دے گی، حذف کریں گے تو شعر جائے گا، لیکن غزل بچ جائے گی ۔اب آپ شعر بچاتے ہیں یا غزل، یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔۔۔ ۔۔(کوئی وضاحت اور چاہئے تو پھر حاضر ہوجاؤں گا۔ حالانکہ اس بار جواب کافی طویل ہوگیا ہے۔ )
کوئی بات بری لگی ہو تو معذرت ۔۔۔