نظم: شہرِ ناپرساں

محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 15، 2021 9:15 صبح

شہر ناپرساں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا تھا
مگر جب سے درندوں نے
ہے دیکھا حال سہمے سہمے انسانوں کی بستی کا
تو یہ اعلان کر ڈالا
کہ اب ان کے نگر میں بھی کوئی دستور نہ ہوگا!
وہ کہتے ہیں
اگر تم کو اجازت ہے
بلامقصد کسی کمزور انساں کو ستانے کی
تو ہم تو پھر درندے ہیں
ہے تم سے بڑھ کے لاقانونیت پر حق ہمارا بھی!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد عبدالرؤوف — جون 15، 2021 9:20 صبح
کیا پہلی لائن کو واوین میں لکھنا زیادہ مناسب نہیں؟
محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 15، 2021 9:22 صبح
کیا پہلی لائن کو واوین میں لکھنا زیادہ مناسب نہیں؟
اگر ’’ہوتا ہے‘‘ لکھتا تو ضرور واوین میں لکھتا ۔۔۔ ویسے بھی زہرہ نگاہ کی نظم اتنی مشہور ہے کہ پہلا مصرع ’’سیلف ایکسپلینٹری‘‘ ہے :)
محمد عبدالرؤوف — جون 15، 2021 9:26 صبح
اگر ’’ہوتا ہے‘‘ لکھتا تو ضرور واوین میں لکھتا ۔۔۔ ویسے بھی زہرہ نگاہ کی نظم اتنی مشہور ہے کہ پہلا مصرع ’’سیلف ایکسپلینٹری‘‘ ہے :)
بالکل ٹھیک، اسی لیے تو جو ہمارے دل میں کھٹکتا ہے اسے فوراً آپ دوستوں کے حوالے کر دیتے ہیں :)
گُلِ یاسمیں — جون 15، 2021 12:09 شام
بہت خوب
خوش رہئیے
ام عبدالوھاب — جون 15، 2021 12:31 شام
واہ واہ،،،،،،،،،، بہت خوب۔
حیواں ، پھر بھی حیواں ہے
ہے انساں سے بہت پیچھے۔۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح انسان،
اب بھی اس سے آگے ہے
کوئی تو حد نظر آئے گی،حیواں کو درندگی گی
مگرحضرت انسان ،درندگی میں بھی اشرف ہے۔
ظہیراحمدظہیر — جون 15، 2021 3:05 شام
ویسے بھی زہرہ نگاہ کی نظم اتنی مشہور ہے کہ پہلا مصرع ’’سیلف ایکسپلینٹری‘‘ ہے :)
:):):)
ہرچند ہو معارفِ اردو کی گفتگو
بنتی نہیں ہے کلمۂ انگلش کہے بغیر
راحل بھائی ، لفظ کے چناؤ میں یہ مرحلہ واقعی مشکل تھا ۔ ازحدغور کرنے پر یہ سمجھ میں آیا کہ سیلف ایکسپلینیٹری کی"ایکسپلینیشن" اردو میں یوں بھی کی جاسکتی ہے ۔ "یہ مشہور مصرع اپنا تعارف آپ ہے ۔" :)
محمد عبدالرؤوف — جون 15، 2021 3:09 شام
ہرچند ہو معارفِ اردو کی گفتگو
بنتی نہیں ہے کلمۂ انگلش کہے بغیر
آپ نے "انگلش" سے تو اپنی وزنی بات میں اور وزن ڈال دیا :)
ظہیراحمدظہیر — جون 15، 2021 3:16 شام
آپ نے "انگلش" سے تو اپنی وزنی بات میں اور وزن ڈال دیا :)
بالکل میاں ! اس انگلش کے بغیر کوئی بے وزنی سی بے وزنی ہوگی !
غالب کو تکلیف پہنچائے بغیر اسی بات کو یوں بھی کہا جاسکتا تھا : بنتی نہیں ہے کلمۂ افرنگ کے بغیر
اس طرح مطلب تو ادا ہوجاتا لیکن بقول یوسفی مقصد فوت ہوجاتا ۔ :D
ایس ایس ساگر — جون 15، 2021 3:19 شام
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا تھا
مگر جب سے درندوں نے
ہے دیکھا حال سہمے سہمے انسانوں کی بستی کا
تو یہ اعلان کر ڈالا
کہ اب ان کے نگر میں بھی کوئی دستور نہ ہوگا!
وہ کہتے ہیں
اگر تم کو اجازت ہے
بلامقصد کسی کمزور انساں کو ستانے کی
تو ہم تو پھر درندے ہیں
ہے تم سے بڑھ کے لاقانونیت پر حق ہمارا بھی!
بہت خوب راحل بھائی۔
ماشاءاللہ۔ خوبصورت نظم ہے۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 15، 2021 9:50 شام
جزاک اللہ ۔۔۔ متشکرم
محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 15، 2021 9:51 شام
واہ واہ،،،،،،،،،، بہت خوب۔
حیواں ، پھر بھی حیواں ہے
ہے انساں سے بہت پیچھے۔۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح انسان،
اب بھی اس سے آگے ہے
کوئی تو حد نظر آئے گی،حیواں کو درندگی گی
مگرحضرت انسان ،درندگی میں بھی اشرف ہے۔
داد و پذیرائی کے لیے از حد ممنون ہوں ۔۔۔ جزاک اللہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 15، 2021 9:52 شام
:):):)
ہرچند ہو معارفِ اردو کی گفتگو
بنتی نہیں ہے کلمۂ انگلش کہے بغیر
راحل بھائی ، لفظ کے چناؤ میں یہ مرحلہ واقعی مشکل تھا ۔ ازحدغور کرنے پر یہ سمجھ میں آیا کہ سیلف ایکسپلینیٹری کی"ایکسپلینیشن" اردو میں یوں بھی کی جاسکتی ہے ۔ "یہ مشہور مصرع اپنا تعارف آپ ہے ۔" :)
جزاک اللہ ظہیرؔ بھائی ۔۔۔ اظہار پسندیدگی اور توجہ کے لیے نہایت ممنون و متشکر ہوں۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 15، 2021 9:52 شام
بہت خوب راحل بھائی۔
ماشاءاللہ۔ خوبصورت نظم ہے۔
جزاک اللہ ساگر بھائی، داد و پذیرائی کے لیے شکرگزار ہوں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%B8%D9%85-%D8%B4%DB%81%D8%B1%D9%90-%D9%86%D8%A7%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%A7%DA%BA.116653/