نظم: کہ میں اک بانجھ لڑکا ہوں (مہدی نقوی حجاز)

مہدی نقوی حجاز — اپریل 18، 2014 9:15 صبح
”کہ میں اک بانجھ لڑکا ہوں“
سنو تم ٹھیک کہتی تھی
کہ میں نے جھوٹ بولا ہے
کہ میں نے پیار کے جھوٹے
بہت جھوٹے
تمہارے سامنے دعوے کیے ہیں
مگر تم جانتی ہو نا
کہ میں اک بانجھ لڑکا ہوں
میں اپنی کوکھ میں عشق اور محبت کو
جنم دے ہی نہیں سکتا
اور اپنے بانجھ پن کی ہی وجہ سے
تم ایسی خوبصورت لڑکیوں سے
میں شرمندہ ہوں، لیکن
یقیں جانو
اگر تم اپنی چاہت کو، محبت کو
مجھے دو گی،
تو میں ان کو بہت ہی ناز سے
پالوں گا، پوسوں گا
انہیں اپنی محبت جان کر میں
جگر کا خوں پلاؤں گا
انہیں انگلی پکڑ کر نفرتوں کے سرخ مرمر پر
میں خود چلنا سکھاؤں گا
انہیں آباد کر دوں گا!
تم اپنی اتنی ساری چاہتوں میں سے
مجھے بھی کچھ عطا کر دو
تو میں بھی اپنی امیدوں بھری جھولی
میں الفت کا خزانہ لے کے جاؤں گا
تمہیں دل سے دعا دوں گا!!
مہدی نقوی حجازؔ
مزمل شیخ بسمل — اپریل 18، 2014 9:52 صبح
بہت عمدہ نظم۔ بس ایک ہی سقم رہ گیا۔ بطور نظر کا ٹیکہ۔
مہدی نقوی حجاز — اپریل 18، 2014 9:53 صبح
بہت عمدہ نظم۔ بس ایک ہی سقم رہ گیا۔ بطور نظر کا ٹیکہ۔
وزن کی گڑبڑ؟!
مزمل شیخ بسمل — اپریل 18، 2014 9:57 صبح

نہیں وزن درست ہے۔ وجہ کا تلفظ غلط باندھا ہے۔
نیرنگ خیال — اپریل 18، 2014 10:22 صبح
بہت خوب بانجھ لڑکے۔۔۔۔ شاندار
مہدی نقوی حجاز — اپریل 20، 2014 5:17 شام
نہیں وزن درست ہے۔ وجہ کا تلفظ غلط باندھا ہے۔
وجہ کو سبب سے بدل دیا گیا :)
محمود احمد غزنوی — اپریل 20، 2014 5:29 شام
میری محبت قبول کرلو ۔۔۔!!!
غریب شاعر کے آنسوؤں کا
حقیر تحفہ قبول کرلو۔۔۔۔۔!!!
نایاب — اپریل 20، 2014 6:34 شام
بہت خوب
بہت دعائیں
ساقی۔ — اپریل 20، 2014 7:22 شام
شادی سے پہلے خود کو بانجھ کہنا ،ساری عمر کی تنہائی دے سکتا ہے ۔اختیاط لازم ہے۔:)
ساقی۔ — اپریل 20، 2014 7:24 شام
انہیں انگلی پکڑ کر نفرتوں کے سرخ مرمر پر
میں خود چلنا سکھاؤں گا

نفرتوں کے مرمر پر کیوں ؟
الف عین — اپریل 21، 2014 2:56 صبح
بانجھ کی جگہ کچھ اور لفظ کہو۔۔۔
مرمر اور سرخ؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%B8%D9%85-%DA%A9%DB%81-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DA%A9-%D8%A8%D8%A7%D9%86%D8%AC%DA%BE-%D9%84%DA%91%DA%A9%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%81%D8%AF%DB%8C-%D9%86%D9%82%D9%88%DB%8C-%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%B2.73616/