نظم: گزرا سال

مہدی نقوی حجاز — جنوری 1، 2014 3:28 شام
نظم: گزرا سال
ہم نے پھر اک برس گزار دیا،
انکے آنے کی التجا کرتے
روتے روتے خدا خدا کرتے
ہم نے پھر اک برس گزار دیا
رات سوتے رہے تھکن کے سبب
دن میں تاروں کا انتظار کیا
ہم نے پھر اک برس گزار دیا
مہدی نقوی حجازؔ
(عندلیب صاحبہ کی فرمائش پر کل رات فی البدیہ کہی گئی نظم، ہنوز نامکمل، شاید کبھی مکمل ہو جائے :) )
ماہی احمد — جنوری 1، 2014 3:29 شام
اچھی شروعات :)
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 1، 2014 3:33 شام
نظم: گزرا سال
ہم نے پھر اک برس گزار دیا،
انکے آنے کی التجا کرتے
روتے روتے خدا خدا کرتے
ہم نے پھر اک برس گزار دیا
رات سوتے رہے تھکن کے سبب
دن میں تاروں کا انتظار کیا
ہم نے پھر اک برس گزار دیا
مہدی نقوی حجازؔ
(عندلیب صاحبہ کی فرمائش پر کل رات فی البدیہ کہی گئی نظم، ہنوز نامکمل، شاید کبھی مکمل ہو جائے :) )

واہ کیا بات ہے۔ داد قبول فرمائیں
مہدی نقوی حجاز — جنوری 1، 2014 3:51 شام
آپ کی کیسی رہی؟
مہدی نقوی حجاز — جنوری 1، 2014 3:51 شام
واہ کیا بات ہے۔ داد قبول فرمائیں
بہت نوازش حضور، بہت آداب! :) سلامت رہیں
ماہی احمد — جنوری 1، 2014 3:52 شام
میں نے نظم کی بابت کہا تھا ویسے۔ :)
مہدی نقوی حجاز — جنوری 1، 2014 3:54 شام
میں نے نظم کی بابت کہا تھا ویسے۔ :)
اسی سے ہی ایک بہت گنجلک موضوع ہم پر واضح ہو گیا، کہ ابہام قاری یا سننے والے کے ذہن میں ہوتا ہے، مصنف، شاعر یا کہنے والے کے الفاظ میں نہیں!! :)
ماہی احمد — جنوری 1، 2014 4:09 شام
اسی سے ہی ایک بہت گنجلک موضوع ہم پر واضح ہو گیا، کہ ابہام قاری یا سننے والے کے ذہن میں ہوتا ہے، مصنف، شاعر یا کہنے والے کے الفاظ میں نہیں!! :)
یہ آپ کو آج معلوم ہوا؟ میرا خیال تھا جس دن قلم اٹھایا ہو گا یہ جانتے ہوں گے آپ۔
مہدی نقوی حجاز — جنوری 1، 2014 4:15 شام
یہ آپ کو آج معلوم ہوا؟ میرا خیال تھا جس دن قلم اٹھایا ہو گا یہ جانتے ہوں گے آپ۔
محترمہ، جاننا اور بات ہے، جانتی آپ بھی ہیں نا!؟ چلیے پھر کسی دن کسی نشست میں یہ بات منوا کے تو دکھائیے گا! اس موضوع پر قریب ہر یک شنبہ آرٹس کانسل میں طویل بحث ہوتی ہے۔ جب کوئی کہہ دیتا ہے کہ آپ کا یہ شعر مبہم ہے۔ پھر وہاں دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایک شاعر غیر مہذب بھی ہو سکتا ہے !! :) :) :)
ملک عدنان احمد — جنوری 1، 2014 4:34 شام
نظم: گزرا سال
ہم نے پھر اک برس گزار دیا،
انکے آنے کی التجا کرتے
روتے روتے خدا خدا کرتے
ہم نے پھر اک برس گزار دیا
رات سوتے رہے تھکن کے سبب
دن میں تاروں کا انتظار کیا
ہم نے پھر اک برس گزار دیا
مہدی نقوی حجازؔ
(عندلیب صاحبہ کی فرمائش پر کل رات فی البدیہ کہی گئی نظم، ہنوز نامکمل، شاید کبھی مکمل ہو جائے :) )
آپکی یہ سخن وری جس نے
اردو محفل کو ہے سنوار دیا
ایسی نظمیں ہی گنگناتے ہوئے
ہم نے پھر اک برس گزار دیا
مہدی نقوی حجاز — جنوری 1، 2014 5:05 شام
آپکی یہ سخن وری جس نے
اردو محفل کو ہے سنوار دیا
ایسی نظمیں ہی گنگناتے ہوئے
ہم نے پھر اک برس گزار دیا
جناب، بہت خوب، ارے بھئی محفل میں تو اساتذہ کے کلام سے رونق ہے، ہم تو محض طفل مکتب کی حیثیت رکھتے ہیں۔
شاد رہیں حضور
طارق شاہ — جنوری 1، 2014 6:05 شام
اسی سے ہی ایک بہت گنجلک موضوع ہم پر واضح ہو گیا، کہ ابہام قاری یا سننے والے کے ذہن میں ہوتا ہے، مصنف، شاعر یا کہنے والے کے الفاظ میں نہیں!! :)
اور قاری کے ذہن میں ابہام کیوں اور کیسے آتا ہے ؟
کیا قدرتی عملِ اختراعی ہے ایسا ہونا ؟
( ابہام ہونا یا کسی چیز یا بات کا مبہم لگنا صرف دیکھ کر یا پڑھ سُن کر ہی ظاہر ہوتا ہے، اور اس کا اِنحصارذاتی مشاہدہ personal observation اور معنی فہمی یا شخصی grasping power پر ضرور ہے مگر شرط دید اور شنید کے بغیر یہ ممکن نہیں ،یعنی ابہام کے لئے موضوع یا مواد ہونا ضروری ہے ، واضح یا صاف ہونا یا با لکل نہ ہونا نہیں ):)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%B8%D9%85-%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D8%A7-%D8%B3%D8%A7%D9%84.70776/