نظم ۔۔۔ شاعری ۔۔۔ از محمد احمدؔ

محمداحمد — ستمبر 29، 2016 9:29 صبح
شاعری
رات خوشبو کا ترجمہ کرکے
میں نے قرطاسِ ساز پر رکھا
صبح دم
چہچہاتی چڑیا نے
مجھ سے آکر کہا
یہ نغمہ ہے
میں نے دیکھا
کہ میرے کمرے میں
چارسو تتلیاں پریشاں ہیں
اور دریچے سے جھانکتا اندر
لہلاتا گلاب تنہا ہے
محمد احمدؔ
یہ 2014 کی نظم ہے میرے بلاگ پر تھی لیکن محفل میں نہیں تھی سو نقد و نظر کے لئے یہاں پوسٹ کر رہا ہوں۔
محمد تابش صدیقی — ستمبر 29، 2016 10:04 صبح
خوبصورت
عبدالقیوم چوہدری — ستمبر 29، 2016 10:17 صبح
مجھے یہی سمجھ آئی ہے کہ آپ نے تتلیوں کا گلاب کھو لیا ہے اور چڑیا کہہ رہی کہ آپ نے چنگا نہیں کیتا۔:p
ویسے یہ پابند بحور ہی ہے ؟ یا مجھے ایویں بھیلیکھا لگ رہا ؟
La Alma — ستمبر 29، 2016 10:26 صبح
بہت خوب .
تتلیاں تو خوشبو کے تعاقب میں آئی تھیں یہ الگ بات ہے کہ گمراہ ہو گئیں .اس سارے قصّے میں چڑیا سمجھدار نکلی . خاصی معاملہ فہم ثابت ہوئی .
محمداحمد — ستمبر 29، 2016 10:33 صبح

حوصلہ افزائی کا شکریہ تابش بھائی!
خوش رہیے۔ :)
محمداحمد — ستمبر 29، 2016 10:37 صبح
مجھے یہی سمجھ آئی ہے کہ آپ نے تتلیوں کا گلاب کھو لیا ہے اور چڑیا کہہ رہی کہ آپ نے چنگا نہیں کیتا۔:p

چڑیا سے بہتر نغمے کو کون پہچان سکتا تھا سو وہ پہچان گئی ۔ شکوہ البتہ تتلیوں کی طرف سے بنتا ہے اگر اُنہیں صورتحال کی سنگینی کا علم ہو جائے۔ :)
ویسے یہ پابند بحور ہی ہے ؟ یا مجھے ایویں بھیلیکھا لگ رہا ؟
زمرہ تو پابندِ بحور کا ہی ہے۔ :)
اب یہ تو اساتذہ ہی بتائیں گے کہ یہ پابندِ بحور ہے یا نہیں۔ :)
محمداحمد — ستمبر 29، 2016 10:40 صبح

شکریہ ! خوش رہیے۔ :)
تتلیاں تو خوشبو کے تعاقب میں آئی تھیں یہ الگ بات ہے کہ گمراہ ہو گئیں .اس سارے قصّے میں چڑیا سمجھدار نکلی . خاصی معاملہ فہم ثابت ہوئی .

:)
معاملہ فہم تو آپ بھی اچھی خاصی ہیں۔ :)
یوسف سلطان — ستمبر 29، 2016 10:43 صبح
بہت خوب
عبدالقیوم چوہدری — ستمبر 29، 2016 10:43 صبح
چڑیا سے بہتر نغمے کو کون پہچان سکتا تھا سو وہ پہچان گئی ۔ شکوہ البتہ تتلیوں کی طرف سے بنتا ہے اگر اُنہیں صورتحال کی سنگینی کا علم ہو جائے۔ :)
چڑیا اور تتلیاں دونوں عموماً مونث میں شمار ہوتی ہیں، اس لیے آپ کی مزید کھچائی ہم سے نہیں ہو پائے گی۔:p
چڑیا سے بہتر نغمے کو کون پہچان سکتا تھا سو وہ پہچان گئی ۔ شکوہ البتہ تتلیوں کی طرف سے بنتا ہے اگر اُنہیں صورتحال کی سنگینی کا علم ہو جائے۔ :)
اب یہ تو اساتذہ ہی بتائیں گے کہ یہ پابندِ بحور ہے یا نہیں۔ :)
ہیں جی۔۔۔۔۔۔۔:surprise:
آپ بھی تو استاد ہی ہیں۔
محمداحمد — ستمبر 29، 2016 10:50 صبح
چڑیا اور تتلیاں دونوں عموماً مونث میں شمار ہوتی ہیں، اس لیے آپ کی مزید کھچائی ہم سے نہیں ہو پائے گی۔

:)
گو کہ ہم ساری بات نہیں سمجھے پھر بھی نتیجے پر شاد ہیں۔ :)
ہیں جی۔۔۔۔۔۔۔:surprise:
آپ بھی تو استاد ہی ہیں۔

ارے کہاں بھائی صاحب! :)
کیوں محفل سے نکلوانے پر تُلے ہیں ہمیں۔ :)
آخری بار جب ہمیں اُستاد کہا گیا تو وہ جملہ کچھ یوں تھا: "ٹائم کیا ہوا ہے اُستاد؟" :D:p
محمد وارث — ستمبر 29، 2016 11:10 صبح
خوبصورت نظم ہے احمد صاحب، کیا کہنے۔
عبدالقیوم چوہدری — ستمبر 29، 2016 11:11 صبح
گو کہ ہم ساری بات نہیں سمجھے پھر بھی نتیجے پر شاد ہیں۔ :)
الحمدللہ۔
کیوں محفل سے نکلوانے پر تُلے ہیں ہمیں۔ :)
اتنے نیک کام میں دیر کیسی، آج سے ہی شروع کر دیتے ہیں استاد جی:ROFLMAO:
آخری بار جب ہمیں اُستاد کہا گیا تو وہ جملہ کچھ یوں تھا: "ٹائم کیا ہوا ہے اُستاد؟"
پھر آپ کے تو بارہ بج گئے ہونے ہیں:p
محمد وارث — ستمبر 29، 2016 11:14 صبح
آپ بھی تو استاد ہی ہیں۔
آخری بار جب ہمیں اُستاد کہا گیا تو وہ جملہ کچھ یوں تھا: "ٹائم کیا ہوا ہے اُستاد؟" :D:p
اس سے اپنے کالج کا دور یاد آ گیا۔ ہمارا ایک کافی سینیئر دوست تھا، اس کو ایک لڑکا "اُستاد" کہتا تھا۔ ایک دن وہ صاحب فرمانے لگے کہ تمھیں علم ہے یہ مجھے استاد کیوں کہتا ہے؟ وہ اس لیے کہ جب کوئی کام خراب کر دے تو فصیحت مجھے سننی پڑے کہ "جا تیرے اُستاد کی۔۔۔۔۔" :)
شیزان — ستمبر 29، 2016 11:34 صبح
زبردست۔ کیا کہنے۔۔ کیا موتی پروئے ہیں احمد بھائی
محمداحمد — ستمبر 29، 2016 1:30 شام

بہت شکریہ یوسف سلطان بھائی !
خوش رہیے۔ :)
محمداحمد — ستمبر 29، 2016 1:30 شام
خوبصورت نظم ہے احمد صاحب، کیا کہنے۔

بہت شکریہ وارث بھائی!
بے حد ممنون ہوں۔
الف عین — ستمبر 29، 2016 4:33 شام
اچھی نظم ہے ماشاء اللہ
نیرنگ خیال — ستمبر 29، 2016 4:44 شام
میری طرف سے بھی واہ واہ۔۔۔۔۔
بہت ہی خوبصورت نظم ہے۔۔۔ کیا کہنے احمد بھائی۔۔۔۔
چونکہ اس دھاگے میں سرگوشی کا رواج رواج پا چکا ہے۔۔۔ سو ہماری طرف سے بھی ایک تو بنتی تھی۔۔۔
اور وہ یہ کہ آپ نے گلاب کو تنہا کر کے تتلیاں کمرے میں گھیر کر اچھا نہیں کیا ویسے۔۔۔۔۔
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 30، 2016 2:31 صبح
رات خوشبو کا ترجمہ کرکے

میں نے قرطاسِ ساز پر رکھا
صبح دم
چہچہاتی چڑیا نے
مجھ سے آکر کہا
یہ نغمہ ہے
میں نے دیکھا
کہ میرے کمرے میں
چارسو تتلیاں پریشاں ہیں
اور دریچے سے جھانکتا اندر
لہلہاتا گلاب تنہا ہے

خوبصورت!! واہ واہ! کیا خوبصورت نظم ہے!!!
علامات کا بہت اچھا استعمال ہے اور بنت بھی بہت اچھی ہے !!! کئی دفعہ پڑھنے کو جی چاہتا ہے!!
بہت بہت بہت داد احمد بھائی آپ کے لئے!!! سلامت رہیں !
جاسمن — اکتوبر 1، 2016 3:25 صبح
ایک کھوئی کھوئی سی،خوشبو سی،ساز جیسی نظم۔جیسے ہولے سے چلے بادِ نسیم،جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے۔
کئی بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%B8%D9%85-%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A7%D8%B2-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF%D8%94.92192/