نظم :: ’’ دائرہ ‘‘ -- از : م۔م۔مغلؔ

مغزل — مارچ 15، 2012 7:09 صبح
’’ دائرہ ‘‘
(تازہ نظم )
صبح سے لے کر شام تلک مجبوریاں ۔۔
شام سے رات گئے تک۔۔۔
رنجش رہتی ہے۔۔۔
بھولی بھٹکی ایک خوشی بھی آتی ہے۔۔۔
صدیوں جیسا۔۔۔
ایک خلا بھی رہتا ہے۔۔۔
رات گئے سے۔۔۔
صبح تلک محرومیاں۔۔۔
صبح سے لے کر شام تلک مجبوریاں !!
م۔م۔مغلؔ
مغزل — مارچ 15، 2012 7:46 صبح
فرحت کیانی بہن اور حماد بھائی پسندیدگی کے لیے سراپا سپاس ہوں ، سلامت باشید روز بخیر
کاشفی — مارچ 15، 2012 7:51 صبح
بہت خوب جناب!
الف عین — مارچ 15، 2012 3:52 شام
اچھی نظم ہے، مگر اتنی مایوسی کیوں؟ کفر تو نہیں کہہ رہا لیکن مایوسی مکروہ ضرور ہے۔
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 15، 2012 6:38 شام
کیا خوب ہے۔ داد قبول ہو جنابِ عالی
مغزل — مارچ 28، 2012 7:13 صبح
شکریہ کاشفی بھائی سلامت رہیں
مغزل — مارچ 28، 2012 7:15 صبح
اچھی نظم ہے، مگر اتنی مایوسی کیوں؟ کفر تو نہیں کہہ رہا لیکن مایوسی مکروہ ضرور ہے۔
بابا جانی آپ کی چشمِ عنایت ہے ، رہی بات مکروہ کی تو میں معدودے چند ’’ نثموں ‘‘ میں کچھ کہہ پایا تھا وہ محفل میں شامل کرتا ہوں۔۔۔ ربطہ ملاحظہ کیجے
مغزل — مارچ 28، 2012 7:15 صبح
کیا خوب ہے۔ داد قبول ہو جنابِ عالی
بہت شکریہ قبلہ ۔۔ لختِ دل پیش کیا ہے قبلہ آپ نے سراہا اور عزت بخشی ، سراپا سپاس ہوں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%B8%D9%85-%E2%80%99%E2%80%99-%D8%AF%D8%A7%D8%A6%D8%B1%DB%81-%E2%80%98%E2%80%98-%D8%A7%D8%B2-%D9%85%DB%94%D9%85%DB%94%D9%85%D8%BA%D9%84%D8%94.50294/