بہت خوب ،
عرفان علوی عرفان بھائی! خوب کاوش ہے! بہت داد!
میں سمجھتا ہوں کہ ہر تخلیقی کاوش قابلِ ستائش ہوتی ہے اور ہر وہ لفظ جو سچائی پر مبنی ہو معتبر ہوتا ہے ۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ آزاد نظم آپ کے شایانِ شان نظر نہیں آئی۔ آپ کی کہنہ مشقی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے دیکھا تو یہ نظم مجھے متاثر نہ کرسکی۔ یہ میری ناقص اور ادنیٰ رائے ہے۔ میں "نثری نظم" کا تو بوجوہ سرے سے قائل ہی نہیں ہوں لیکن آزاد نظم کے بارے میں بھی میرا نقطۂ نظر تقریباً اُنہی وجوہات پر مبنی ہے۔میری ناقص رائے میں روایتی پابندیوں سے باہر نکلنے کا جواز صرف اور صرف تبھی پیدا کیا جاسکتا ہے جب کلام میں جدتِ مضمون اور ندرتِ بیان کے عناصر موجود ہوں ۔ اظہارِ خیال کے کینوس کو وسیع کرنے کی خاطر جب شاعر اپنے آپ کو قافیہ ردیف اور بحر کی پابندیوں سے آزاد کرتا ہے تو پھر لازم ہے کہ اس کینوس پر جو تصویر بنے وہ بہت ہی خوبصورت ہو۔ ورنہ پھر عروضی پابندیوں سے خود کو آزاد کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا اِلّا یہ کہ سہل پسندی مطلوب ہو۔
میری رائے میں آزاد نظم میں جو مصرع گھڑے جائیں ان میں بھی پابند شاعر ی کی طرح آہنگ ، شعریت اور غنائیت ہونی چاہیے۔ یا یوں کہیے کہ یہ عناصر کسی حد تک نظم کے بیشتر مصرعوں میں ہونا چاہئیں۔ شعری ضرورت کے تحت کچھ مصرعے اگر بالکل مختصر (یعنی یک رکنی یا دو رکنی وغیرہ) اور سپاٹ سے رکھنا پڑیں تو مضائقہ نہیں لیکن مجموعی طور پر نظم کو اپنے آہنگ اور بنت میں نثر سے واضح طور پر ممتاز ہونا چاہیے۔ میں اس نظم کی بنت کو دیکھتا ہوں تو آہنگ اور غنائیت کے عناصر کم نظر آتے ہیں۔ مصرعوں کی بنت اور بہاؤ اپنے مجموعی تاثر میں ایک نثری پیراگراف سے بہت قریب ہیں۔ آزاد نظم کی متعدد کامیاب اور خوبصورت مثالیں فیض اور افتخار عارف کے ہاں موجود ہیں اور ان کا تنقیدی جائزہ ہم سب کو بہت کچھ سمجھا اور سکھا سکتا ہے ۔ بعض آزاد نظمیں تو اتنی مؤثر اور کامیاب ہیں کہ ایک اچھی غزل کی طرح ایک دفعہ پڑھنے پر یاد ہوجاتی ہیں اور ان کی شعریت و غنائیت تادیر ذہن میں منقش رہتے ہیں۔
حاصلِ کلام یہ کہ عروضی پابندیوں سے آزادی کی قیمت ادا کرنا ضروری ہے۔ یہ قیمت جدتِ مضمون ، منفرد شاعرانہ پیرائے ، خوبصورت لفظیات ، مصرعوں کی ہم آہنگ بنت اور بے عیب روانی کی صورت میں ادا کی جاسکتی ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ وزن پر عبور رکھنے والا کوئی بھی شاعر کسی بھی نثر پارے کو ذرا سی کوشش سے آزاد "نظم" میں ڈھال سکتا ہے۔ لیکن ہم اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہر منظوم کلام شعر کے درجے پر نہیں پہنچتا۔ منظومیت شعری ڈھانچے کی بنیاد اور وجہ ضرور ہے لیکن شعر کو شعریت کے درجے پر پہنچنے کے لیے اس کے علاوہ بھی کئی عوامل درکار ہوتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں آزاد نظم کے شاعر کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان عوامل کا اپنی نظم میں ممکنہ حد تک استعمال کرے۔ قافیہ ردیف اور بحر کی پابندیاں ختم ہونے کے بعد نہ صرف اس کے پاس فکر و نظر کے لیے بہت وقت ہوتا ہے بلکہ الفاظ ، تراکیب اور مختلف پیرایوں سے تجربات کرنے کی بھی بہت گنجائش ہوتی ہے۔ گستاخی معاف ، میں پھر یہی کہوں گا کہ میری ناقص رائے میں روایتی پابندیوں سے باہر نکلنے کا جواز صرف اور صرف تبھی پیدا کیا جاسکتا ہے جب کلام میں جدتِ مضمون اور ندرتِ بیان کے عناصر موجود ہوں ۔ بہرحال ، یہ میری ذاتی اور ناقص رائے ہے ورنہ تو آزاد نظم کے نام پر جو کچھ لکھا جارہا ہے اس کی نسبت آپ کی نظم بدرجہابہتر ہے۔ عرفان بھائی ، اگر کچھ ناگوار گزرا ہو تو میں پیشگی معذرت خواہ ہوں اور معافی کا طلبگار ہوں ۔ امید ہے کہ آپ درگزر سے کام لیں گے ۔