نوحہ

محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 20، 2014 5:52 صبح

نوحہ
محمد خلیل الرحمٰن
’’جمہوریت اِک طرزِ حکومت ہے کہ جِس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے‘‘

اِک بار عدد بن کے جو بکسوں میں پڑے ہیں
ہر بات میں، بے بات میں بولا نہیں کرتے
بے دِ ل ہیں ، ضمیر اپنے ابھی بیچ چکے ہیں
پہلو میں وہ دھڑکن کو ٹٹولا نہیں کرتے
اِس طرزِ سیاست کی سیاست ہے نرالی
سسٹم کی بُرائی کبھی کھولا نہیں کرتے
باری کے جو رسیا ہیں وہی کھیل رہے ہیں
کمّی کبھی اِس کھیل میں بولا نہیں کرتے
موجودہ سیاست بھی تو جاگیر ہے اُن کی
گھٹّی میں پڑی ہے ، اسے گھولا نہیں کرتے
سوجاؤ الیکشن تو ابھی دور ہیں لوگو!
اِس نیند میں آنکھوں کوتو کھولا نہیں کرتے
سوئے ہوئے لوگو! کبھی جاگو گے نہیں کیا؟
پر سوئے ہوئے لوگ تو بولا نہیں کرتے
جِس قائدِ اعظم نے ہمیں ملک دیا تھا
اُس نام کو مٹی میں تو رولا نہیں کرتے​
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 20، 2014 7:43 صبح
ٹیگ: جناب الف عین ، جناب محمد یعقوب آسی ، جناب محمد وارث ، جناب محمود احمد غزنوی ، جناب سید عاطف علی ، جناب مزمل شیخ بسمل ، جناب مہدی نقوی حجاز ، جیہ بٹیا ، جناب نایاب ، جناب تلمیذ ، جناب محمدعلم اللہ اصلاحی ،جناب سید شہزاد ناصر، جناب محمد اسامہ سَرسَری، جناب نیرنگ خیال
سید عاطف علی — اپریل 20، 2014 7:46 صبح
اچھی ضربیں لگائیں ہیں خلیل بھائی۔بہت خوب
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 20، 2014 8:39 صبح
واہ بہت خوب۔۔۔
لطف آگیا۔
محمود احمد غزنوی — اپریل 20، 2014 9:12 صبح
اس راز کو اک مردِ فرنگی نے کیا فاش
ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے
جیہ — اپریل 20، 2014 10:03 صبح
واہ بہت خوب
مگر یہ شعر سمجھ میں نہیں آیا کہ پہلے اور دوسرے مصرعے میں ربط کیا ہے
اِک بار عدد بن کے جو بکسوں میں پڑے ہیں
ہر بات میں، بے بات میں بولا نہیں کرتے
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 20، 2014 10:30 صبح
واہ بہت خوب
مگر یہ شعر سمجھ میں نہیں آیا کہ پہلے اور دوسرے مصرعے میں ربط کیا ہے
ووٹرز صرف انتخاب کے دن ووٹ کی شکل میں باکس میں موجود ہوتے ہیں۔ اگلے پانچ سال تک انہیں کچھ کہنے کی اجازت نہیں۔
جیہ — اپریل 20، 2014 10:38 صبح
درست مگر قرینہ موجود نہیں کہ یہاں مراد ووٹروں سے ہے۔
منصور مکرم — اپریل 22، 2014 7:38 شام
اچھی حقیقت تو بیان کی ہے۔
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 14، 2016 5:44 صبح
جشنِ آزادی مبارک
ظہیراحمدظہیر — اگست 14، 2016 7:00 صبح
اِس طرزِ سیاست کی سیاست ہے نرالی​
سسٹم کی بُرائی کبھی کھولا نہیں کرتے​

بہت تلخ حقیقت بیان کی ہے خلیل بھائی ۔ ہر سطح پر جو مسائل موجود ہیں ان کا صحیح تجزیہ یہی ہے ۔ بس جو ہورہا ہو ہونے دو والا رویہ ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D9%88%D8%AD%DB%81.73669/