نَہیں رَہوں گا یَہاں، اَب کے مَیں نے سوچا ہے - (غزل)

عؔلی خان — جون 23، 2013 12:42 شام
*~* غزل *~*
نَہیں رَہوں گا یَہاں، اَب کے مَیں نے سوچا ہے
بِکھیر دوں گا یہ جَاں، اَب کے مَیں نے سوچا ہے
تَمام عُمر اُمیدوں پہ کوئی کیسے جیے
نَہ جی سکوں گا یُوں مَاں!، اَب کے مَیں نے سوچا ہے
مَیں ہِجرَتوں کے مُسلسَل عَذاب سے تَنگ ہوں
نَہ اور بَدلوں ٹھکَاں، اَب کے مَیں نے سوچا ہے
مَیں کب تَلک یُونہی غَم کو سَجائے بیٹھا رَہوں
مَیں بَند کرلُوں دُکاں، اَب کے مَیں نے سوچا ہے
بَہاریں ویسے بھی مُجھ سے خَفا ہی رہتی ہیں
مَیں اوڑھ لُوں گا خِزاں، اَب کے مَیں نے سوچا ہے
دُعائیں یُوں بھی کب اپنی قَبُول ہوتی ہیں
تو کیوں ہوں ان کا زیَاں، اَب کے مَیں نے سوچا ہے
جو زِندگی کے ڈرامے مِیں آخری ہے عؔلی
وہ پہلے دیکھوں سَماں، اَب کے مَیں نے سوچا ہے
© عؔلی خان – www.AliKhan.org/book.pdf
مہدی نقوی حجاز — جون 23، 2013 12:58 شام
قابلِ تعریف۔ لیکن تیسرے شعر کا پہلا مصرع بےبحرا ہو رہا ہے۔ دیکھ لیجے۔ اور "اب کے" املا غلط ہے "اب کہ" ہونا چاہیے!
عؔلی خان — جون 23، 2013 1:27 شام
'مَیں ہِجرَتوں کے مُسلسَل عَذاب سے تَنگ ہوں' وزن مِیں ہے۔ اور "اب کے" بارے میں بتانے کا شکریہ۔
مہدی نقوی حجاز — جون 23، 2013 1:28 شام
'مَیں ہِجرَتوں کے مُسلسَل عَذاب سے تَنگ ہوں' وزن مِیں ہے۔ اور "اب کے" بارے میں بتانے کا شکریہ۔

شکریہ کی کوئی بات نہیں!
"تنگ" گر رہا ہے۔ آپ دقت کیجے۔
عؔلی خان — جون 23، 2013 1:31 شام
گرنے دیں جی۔ اِس کو میرِی گستاخی سمجھیے۔ شکریہ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D9%8E%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%B1%D9%8E%DB%81%D9%88%DA%BA-%DA%AF%D8%A7-%DB%8C%D9%8E%DB%81%D8%A7%DA%BA%D8%8C-%D8%A7%D9%8E%D8%A8-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D9%8E%DB%8C%DA%BA-%D9%86%DB%92-%D8%B3%D9%88%DA%86%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%BA%D8%B2%D9%84.65126/