نہ آج روک مجھے اے بہار جانے دے - منیب احمد فاتحؔ

منیب احمد فاتح — جون 24، 2013 8:46 صبح
نہ آج روک مجھے اَے بہار جانے دے​
چمن پہ اَور بھی آئے نکھار جانے دے​
کسے گمان کروں آشنائے حالِ خراب
اگر نہ کوئی سرِ کوئے یار جانے دے​
لہو کو ننگ ہے اِن آبلوں سے پھوٹ بہے​
اَے خستہ پائی سوئے خارزار جانے دے​
گزارہ شہر میں مشکِل ہے بیچ آ مجھ کو​
یہ فکرِ iرفتگئ iکاروبارi جانےi دے
اُٹھا نہ پاؤں مرے سینۂ محبت سے
مبادا جان دلِ بے قرار جانے دے
سنا ہے دَشت میں فاتحؔ تکے ہے تیری راہ​
اَے شہر آرا وہاں کچھ غبار جانے دے
محمد علم اللہ — جون 24، 2013 3:14 شام
ٹیگ نامہ​
مدیحہ گیلانی — جون 27، 2013 2:29 شام
واہ خوب کہا آپ نے ماشاءاللہ !
لہو کوننگ ہے اِن آبلوں سے پھوٹ بہے
اَے خستہ پائی سوئے خارزار جانے دے
درج بالا شعر سے ہمیں میر کا یہ شعر یاد آگیا کہ
آبلے کی سی طرح ٹھیس لگی، پھوٹ بہے
درد مندی میں گئی ساری جوانی اُسکی
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔
محمد خلیل الرحمٰن — جون 27، 2013 5:02 شام
بہت عمدہ غزل ہے منیب احمد فاتح بھائی۔ داد قبول فرمائیے
منیب احمد فاتح — جون 27، 2013 6:04 شام
بہت عمدہ غزل ہے منیب احمد فاتح بھائی۔ داد قبول فرمائیے

بہت شکریہ خلیل الرحمن صاحب۔ آپ کی داد سے دل بڑھتا ہے۔
منیب احمد فاتح — جون 27، 2013 6:06 شام
واہ خوب کہا آپ نے ماشاءاللہ !
لہو کوننگ ہے اِن آبلوں سے پھوٹ بہے
اَے خستہ پائی سوئے خارزار جانے دے
درج بالا شعر سے ہمیں میر کا یہ شعر یاد آگیا کہ
آبلے کی سی طرح ٹھیس لگی، پھوٹ بہے
درد مندی میں گئی ساری جوانی اُسکی
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔

؎ نسبت بہت اچھی ہے اگر حال برا ہے​
میرے شعر سے آپ کو حضرت میرؔ کا شعر یاد آیا، میرے لئے اعزاز ہے۔ بہت شکریہ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%DB%81-%D8%A2%D8%AC-%D8%B1%D9%88%DA%A9-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D8%A7%DB%92-%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1-%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92-%D8%AF%DB%92-%D9%85%D9%86%DB%8C%D8%A8-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD%D8%94.65157/