نوشین فاطمہ عبدالحق — مئی 19، 2017 2:20 شام
سنا ہے میرے پیچھے خوب رویا ہے
تعجب ہے مگر پھر بھی وہ زندہ ہے
یہ پنچھی میٹھا کیسے بول لیتا ہے
مجھے شک ہے ترے گاؤں سے آیا ہے
تجھے میں آج کل پہچان لیتی ہوں
سر آئینہ تو ہے , عکس میرا ہے
نہ گھبراؤ , نہیں مشہور ہوتے ہم
نہ تو مجنوں نہ میرا نام لیلی ہے
تجھے میں کج ادا سمجھوں یا پھر انجان
یہ انداز تغافل بھی معما ہے
قمر کو چاہیے کچھ دیر رک جائے
ندی میں عکس کوئی اور ابھرا ہے
مقفل کر دیے جائیں گے دروازے
مگر جو نفس پر تقوی کا پہرہ ہے
محبت اس کی جیسے کوئی بدلہ تھی
وہ اک دو دن میں کچھ ایسے ہی بدلا ہے
ارے بھئی واہ ! کس نے یاد فرمایا ؟
کبوتر میری چھت پر آ کے بیٹھا ہے
وفا ہو جیسے اس کے جینز میں شامل
خدا جانے وہ لڑکا کس کا بیٹا ہے
رقابت کی تو اک دوجے کو جھیلو اب
ذرا معلوم تو ہو کون اچھا ہے
عناصر عشق کے بھی چار ہیں لیکن
ابلتا آب ہے اور شعلہ ٹھنڈا ہے ۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — مئی 19، 2017 2:24 شام
تجھے میں آج کل پہچان لیتی ہوں
سر آئینہ تو ہے , عکس میرا ہے
واہ بہت خوب
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 19، 2017 3:20 شام
سنا ہے میرے پیچھے خوب رویا ہے
تعجب ہے مگر پھر بھی وہ زندہ ہے
یہ پنچھی میٹھا کیسے بول لیتا ہے
مجھے شک ہے ترے گاؤں سے آیا ہے
تجھے میں آج کل پہچان لیتی ہوں
سر آئینہ تو ہے , عکس میرا ہے
نہ گھبراؤ , نہیں مشہور ہوتے ہم
نہ تو مجنوں نہ میرا نام لیلی ہے
تجھے میں کج ادا سمجھوں یا پھر انجان
یہ انداز تغافل بھی معما ہے
قمر کو چاہیے کچھ دیر رک جائے
ندی میں عکس کوئی اور ابھرا ہے
محبت اس کی جیسے کوئی بدلہ تھی
وہ اک دو دن میں کچھ ایسے ہی بدلا ہے
ارے بھئی واہ ! کس نے یاد فرمایا ؟
کبوتر میری چھت پر آ کے بیٹھا ہے
وفا ہو جیسے اس کے جینز میں شامل
خدا جانے وہ لڑکا کس کا بیٹا ہے
رقابت کی تو اک دوجے کو جھیلو اب
ذرا معلوم تو ہو کون اچھا ہے
۔
اوریجنل شاعرہ ۔ بہت خوبصورت
نوشین فاطمہ عبدالحق — مئی 20، 2017 5:09 صبح
نوشین فاطمہ عبدالحق — مئی 20، 2017 5:09 صبح
اوریجنل شاعرہ ۔ بہت خوبصورت
شکریہ جناب
سلامت رہیں
عاطف ملک — مئی 20، 2017 5:17 صبح
سنا ہے میرے پیچھے خوب رویا ہے
تعجب ہے مگر پھر بھی وہ زندہ ہے
یہ پنچھی میٹھا کیسے بول لیتا ہے
مجھے شک ہے ترے گاؤں سے آیا ہے
تجھے میں آج کل پہچان لیتی ہوں
سر آئینہ تو ہے , عکس میرا ہے
نہ گھبراؤ , نہیں مشہور ہوتے ہم
نہ تو مجنوں نہ میرا نام لیلی ہے
تجھے میں کج ادا سمجھوں یا پھر انجان
یہ انداز تغافل بھی معما ہے
قمر کو چاہیے کچھ دیر رک جائے
ندی میں عکس کوئی اور ابھرا ہے
مقفل کر دیے جائیں گے دروازے
مگر جو نفس پر تقوی کا پہرہ ہے
محبت اس کی جیسے کوئی بدلہ تھی
وہ اک دو دن میں کچھ ایسے ہی بدلا ہے
ارے بھئی واہ ! کس نے یاد فرمایا ؟
کبوتر میری چھت پر آ کے بیٹھا ہے
وفا ہو جیسے اس کے جینز میں شامل
خدا جانے وہ لڑکا کس کا بیٹا ہے
رقابت کی تو اک دوجے کو جھیلو اب
ذرا معلوم تو ہو کون اچھا ہے
عناصر عشق کے بھی چار ہیں لیکن
ابلتا آب ہے اور شعلہ ٹھنڈا ہے ۔
غزل لکھی ہے ایسی آپ نے نوشی
کہ اس پر داد دینا فرض بنتا ہے

نوشین فاطمہ عبدالحق — مئی 20، 2017 5:45 صبح
غزل لکھی ہے ایسی آپ نے نوشی
کہ اس پر داد دینا فرض بنتا ہے

سلامت رہیں۔
ڈاکٹرعامر شہزاد — مئی 20، 2017 6:06 صبح
مقفل کر دیے جائیں گے دروازے
مگر جو نفس پر تقوی کا پہرہ ہے
بہت ہی اعلیٰ اور خوبصورت کلام۔۔ ڈھیروں داد ۔ خوش رہیں
نوشین فاطمہ عبدالحق — مئی 20، 2017 6:28 صبح
بہت ہی اعلیٰ اور خوبصورت کلام۔۔ ڈھیروں داد ۔ خوش رہیں
نوازش
محمداحمد — جون 3، 2017 8:37 صبح
واہ
بہت خوبصورت غزل ہے۔
کیا کہنے!
نوشین فاطمہ عبدالحق — جون 27، 2017 4:14 شام
واہ
بہت خوبصورت غزل ہے۔
کیا کہنے!
تشکر
بہت دعائیں