نہ جانے کیا دل ۔ خانہ خراب چاہتا ہے

ایس فصیح ربانی — مئی 16، 2010 8:42 شام
غزل - نہ جانے کیا دل ۔ خانہ خراب چاہتا ہے
محمد وارث — مئی 17، 2010 5:42 صبح
آپ نے جو تصویر دی وہ تو نظر نہیں آ رہی سو بہتر ہے کہ اردو میں ٹائپ کر کے لکھ دیں۔
والسلام
ایس فصیح ربانی — مئی 27، 2010 9:36 صبح
غزل
نہ جانے کیا دل ۔ خانہ خراب چاہتا ہے
کہ ہر سوال کا مثبت جواب چاہتا ہے
ہمارے ہاتھ خزا‎ؤں نے باندھ رکھے ہیں
وہ اپنی زلف میں تازہ گلاب چاہتا ہے
گھٹی گھٹی ہی سہی، کچھ صدائیں اٹھتی ہیں
زمانہ جیسے کوئی انقلاب چاہتا ہے
ابھی قرار کی منزل سے دور رہنے دو
یہ دل کچھ اور ابھی اضطراب چاہتا ہے
یہ بات کاش ہماری سمجھ میں آ جائے
ہمارے عہد کا بچہ کتاب چاہتا ہے
عجیب سوچ کا مالک ہے قافلہ سالار
کہ اپنی راہ میں خود ہی سراب چاہتا ہے
فصیح میں اسے تعبیر دے تو سکتا ہوں
مگر وہ شخص تو آنکھوں میں خواب چاہتا ہے
شاہین فصیح ربانی
فرخ منظور — مئی 27، 2010 10:06 صبح
اچھی غزل ہے فصیح صاحب۔ میرے خیال میں عروضی اغلاط بھی نہیں ہیں۔ بہتر طور پر اساتذہ کرام بتائیں گے۔
محمد وارث — مئی 27، 2010 12:13 شام
اچھی غزل ہے فصیح صاحب، عمدہ اشعار ہیں۔
صرف یہ کہ چوتھے شعر میں دوسرے مصرعے میں 'ابھی' کی تکرار کھٹکی ہے، اس کو پلیز دیکھ لیں۔
ایس فصیح ربانی — مئی 27، 2010 5:20 شام
آپ تمام احباب کا تہہ-دل سے ممنون ہوں۔
فاتح — مئی 27، 2010 5:55 شام
خوبصورت غزل پر داد اور مبارک باد قبول کیجیے۔ خصوصاً مقطع لا جواب ہے۔ سبحان اللہ!
ایس فصیح ربانی — مئی 29، 2010 2:50 شام
فاتح جی
آپ کی بہت شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%DB%81-%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%AF%D9%84-%DB%94-%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81-%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8-%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92.29896/