نہ ساقی کی نگہ سے اور نہ پیمانے سے ملتی ہے

نمرہ — دسمبر 19، 2018 7:27 شام
نہ ساقی کی نگہ سے اور نہ پیمانے سے ملتی ہے
شرابِ معرفت خلوت کے میخانے سے ملتی ہے
اگر بیگانگی ملتی ہے اپنوں سے تو کیا غم ہے
ہمیں اپنائیت جنگل سے، ویرانے سے ملتی ہے
فقیروں کے لیے غم اور خوشی بالکل برابر ہیں
مگر یہ آگہی بھی رنج کے آنے سے ملتی ہے
جھلک بھی دیکھنا ممکن نہیں ہے غیر کو اس کی
ضیا جو ذہن کے خود ہی جِلا پانے سے ملتی ہے
یہ دنیا اک فریبِ آرزو کا کارخانہ ہے
یہاں جو چیز ملتی ہے وہ ٹھکرانے سے ملتی ہے
ہمیں کیا راس آئے وہ خوشی جو اور لوگوں کو
وفورِ شوق میں چپ چاپ بہہ جانے سے ملتی ہے
حضورِ شمع پھرتے ہیں ذرا سا فاصلہ رکھ کر
ہماری وسعتِ پرواز پروانے سے ملتی ہے
بڑھا اصرار جو حد سے تو اس نے یہ کہا ہنس کر
تری ہر بات میرے ایک دیوانے سے ملتی ہے​
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 20، 2018 2:06 صبح
خوب صورت کلام۔ بہت سی داد
عبید انصاری — دسمبر 20، 2018 2:13 صبح
ہمیشہ کی طرح بہترین۔
سردار محمد نعیم — دسمبر 20، 2018 3:04 صبح
بہت خوب ۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — دسمبر 20، 2018 4:06 صبح
ماشاءاللہ ۔
عمدہ اور زبردست غزل ۔
الف عین — دسمبر 20، 2018 7:57 صبح
خوب غزل ہے، داد قبول کرو
فہد اشرف — دسمبر 20، 2018 8:14 صبح
بہت ہی خوب غزل ہے طبیعت خوش ہو گئی پڑھ کے۔
کاشف اختر — دسمبر 21، 2018 6:42 صبح
واہ واہ سبحان اللہ، بہت خوبصورت کلام ۔ ہر شعر عمدہ۔
فرحان محمد خان — دسمبر 21، 2018 1:06 شام
بہت خوب غزل واہ
قرۃالعین اعوان — دسمبر 21، 2018 9:41 شام
ہمیں کیا راس آئے وہ خوشی جو اور لوگوں کو
وفورِ شوق میں چپ چاپ بہہ جانے سے ملتی ہے
بہت ہی خوب نمرہ
عمدہ!
فاخر رضا — دسمبر 22، 2018 2:07 صبح
زبردست
اکمل زیدی — دسمبر 22، 2018 4:47 صبح
یہ دنیا اک فریبِ آرزو کا کارخانہ ہے
یہاں جو چیز ملتی ہے وہ ٹھکرانے سے ملتی ہے
اعلیٰ ۔ ۔ ۔
عاطف ملک — دسمبر 26، 2018 1:47 صبح
لا جواب:notworthy:
بالخصوص یہ اشعار تو بے حد پسند آئے۔
فقیروں کے لیے غم اور خوشی بالکل برابر ہیں
مگر یہ آگہی بھی رنج کے آنے سے ملتی ہے

یہ دنیا اک فریبِ آرزو کا کارخانہ ہے
یہاں جو چیز ملتی ہے وہ ٹھکرانے سے ملتی ہے

حضورِ شمع پھرتے ہیں ذرا سا فاصلہ رکھ کر
ہماری وسعتِ پرواز پروانے سے ملتی ہے
یہ غزل ہمیں اس قدر اچھی لگی کہ ہم اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیے بغیر رہ نہیں سکے۔امید ہے کہ آپ ہماری اس جسارت کو معاف کر دیں گی۔
پیروڈی: خوشی بیگم جو تیرے مائیکے جانے سے ملتی ہے
حاجی حنیف — دسمبر 29، 2018 11:42 صبح
لائک کس طرح کرتے ہیں
یاسر شاہ — دسمبر 29، 2018 12:07 شام
لائک کس طرح کرتے ہیں
حضرت اب لائک کرنے کی عمر گزر گئی -:)
فلسفی — دسمبر 29، 2018 2:13 شام
حضرت اب لائک کرنے کی عمر گزر گئی -:)
شاہ جی آپ تو اہل سخن میں سے ہیں۔ آپ کو تو معلوم ہونا چاہئیے کہ "لائک" کا عمر سے کوئی تعلق نہیں۔ :)
کیا آپ کو شاہ جی کہہ کر مخاطب کرسکتا ہوں؟ اگر مناسب نہیں سمجھتے تو معذرت۔
یاسر شاہ — دسمبر 29، 2018 3:31 شام
کیا آپ کو شاہ جی کہہ کر مخاطب کرسکتا ہوں؟ اگر مناسب نہیں سمجھتے تو معذرت۔
اس میں ناراضی کیسی ؟آپ پاجی بھی کہہ دیجئے -:)
فاخر رضا — دسمبر 29، 2018 4:58 شام
لائک کس طرح کرتے ہیں
کیا کر کے دکھاؤں
سفیر آفریدی — دسمبر 29، 2018 11:15 شام
را
سفیر آفریدی — دسمبر 29، 2018 11:30 شام
بہترین

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%DB%81-%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%DA%AF%DB%81-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%86%DB%81-%D9%BE%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D9%84%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%92.104749/