نہ ملے تم ، تو ملا کوئی تمہارے جیسا

ظہیراحمدظہیر — مارچ 29، 2018 11:02 شام
ایک بہت ہی پرانی غزل سرکلر فائل سے براہِ راست آپ احباب کی خدمت میں پیش ہے ۔ شاید آپ کو پسند آئے ۔​

نہ ملے تم ، تو ملا کوئی تمہارے جیسا
فائدہ عشق میں دیکھا ہے خسارے جیسا
موج اڑاتی ہوئی مخمور سمندر آنکھیں
ڈھونڈتی رہ گئیں اک شخص کنارے جیسا
عشق حیراں ہے ابھی پہلی نظر کے مانند
حسن ابھی تک ہے وہ خاموش نظارے جیسا
اک دھنک میرے تصور کو بنا رکھتا ہے
اُن لبوں پر جو تبسم ہے اشارے جیسا
وہ کہیں میرا تشخص نہ کچل کر رکھدے
مہرباں ہاتھ جو لگتا ہے سہارے جیسا
دیکھئے کیسے گزرتی ہے شب ِ تنہائی
سوزِ دل آج بھڑکتا ہے شرارے جیسا
ظہیر احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۰۳​
عبید انصاری — مارچ 30، 2018 3:35 صبح
زبردست! ہمیشہ کی طرح
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 30، 2018 3:38 صبح
اور خوب صورت ہمیشہ کی طرح
جاسمن — مارچ 30، 2018 3:59 صبح
ارے واہ!اتنی پیاری سی غزل۔
خاموش نظارے جیسی ۔
زبردست پہ ڈھیروں زبریں۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 30، 2018 4:12 صبح
کیا کہنے ظہیر بھائی۔
وہ کہیں میرا تشخص نہ کچل کر رکھدے
مہرباں ہاتھ جو لگتا ہے سہارے جیسا
اس شعر کی تو کیا ہی بات ہے۔
نہ ملے تم ، تو ملا کوئی تمہارے جیسا
فائدہ عشق میں دیکھا ہے خسارے جیسا

موج اڑاتی ہوئی مخمور سمندر آنکھیں
ڈھونڈتی رہ گئیں اک شخص کنارے جیسا

دیکھئے کیسے گزرتی ہے شب ِ تنہائی
سوزِ دل آج بھڑکتا ہے شرارے جیسا
خوب
فہد اشرف — مارچ 30، 2018 6:36 صبح
واہ واہ! کیا خوبصورت غزل ہے۔ لاجواب
ایک بہت ہی پرانی غزل سرکلر فائل سے براہِ راست آپ احباب کی خدمت میں پیش ہے ۔ شاید آپ کو پسند آئے ۔​

نہ ملے تم ، تو ملا کوئی تمہارے جیسا
فائدہ عشق میں دیکھا ہے خسارے جیسا
موج اڑاتی ہوئی مخمور سمندر آنکھیں
ڈھونڈتی رہ گئیں اک شخص کنارے جیسا
عشق حیراں ہے ابھی پہلی نظر کے مانند
حسن ابھی تک ہے وہ خاموش نظارے جیسا
اک دھنک میرے تصور کو بنا رکھتا ہے
اُن لبوں پر جو تبسم ہے اشارے جیسا
وہ کہیں میرا تشخص نہ کچل کر رکھدے
مہرباں ہاتھ جو لگتا ہے سہارے جیسا
دیکھئے کیسے گزرتی ہے شب ِ تنہائی
سوزِ دل آج بھڑکتا ہے شرارے جیسا
ظہیر احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۰۳​
سید عمران — مارچ 30، 2018 7:38 صبح
بہت خوب ظہیر بھائی۔۔۔
ابھی پچھلی غزل کا مزہ زباں پر تھا کہ نئی ڈش موجود!!!
فرحان محمد خان — مارچ 30، 2018 2:46 شام
آپ کی غزل سے مہدی نقوی حجاز بھائی کی غزل یاد آ گئی اور خاص طور پر یہ شعر
دل کا اچھا ہے مگر وقت کے ہاتھوں مجبور
ہم غریبوں کا خدا بھی ہے ہمارے جیسا
سین خے — مارچ 30، 2018 4:07 شام
وہ کہیں میرا تشخص نہ کچل کر رکھدے
مہرباں ہاتھ جو لگتا ہے سہارے جیسا
دیکھئے کیسے گزرتی ہے شب ِ تنہائی
سوزِ دل آج بھڑکتا ہے شرارے جیسا

واہ! کیا کہنے! بہت ہی عمدہ غزل :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%DB%81-%D9%85%D9%84%DB%92-%D8%AA%D9%85-%D8%8C-%D8%AA%D9%88-%D9%85%D9%84%D8%A7-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D8%AC%DB%8C%D8%B3%D8%A7.100701/