نہ کلیوں اور پھولوں کی مہک ہے ۔۔ ذوالفقار نقوی

ذوالفقار نقوی — اپریل 19، 2014 9:42 صبح
نہ کلیوں اور پھولوں کی مہک ہے
مری مٹی ہے، میری ہی مہک ہے
نہ کلیوں اور پھولوں کی مہک ہے
مری مٹی ہے، میری ہی مہک ہے
مرے دشتِ جنوں سے کون گذرا
یہ کس کی اب تلک باقی مہک ہے
کہاں سے آئے ہیں شعلے لپکتے
کہ اِن میں جانی پہچانی مہک ہے
دیے میں خونِ دل ڈالا ذرا کیا
ہواؤں سے الجھنے کی مہک ہے
کسی آہٹ پہ میری سانس اُکھڑی
مگر سانسوں میں البیلی مہک ہے
ہَوا پر غیر کا قبضہ ہے بے شک
رچی اِس میں مگر تیری مہک ہے
ذوالفقار نقوی​
سید شہزاد ناصر — اپریل 19، 2014 10:58 صبح
بہت خوب :)
ایک مدت کے بعد دیکھ کر خوشی ہوئی
بہت خوبصورت غزل
داد قبول کریں
اللہ کرے زور قلم زیادہ
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 19، 2014 4:01 شام
خوبصورت غزل پر بہت سی داد قبول فرمائیں۔
ذوالفقار نقوی — اپریل 26، 2014 8:59 صبح
بہت خوب :)
ایک مدت کے بعد دیکھ کر خوشی ہوئی
بہت خوبصورت غزل
داد قبول کریں
اللہ کرے زور قلم زیادہ

بہت شکریہ سید شہزاد ناصر صاحب ...حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں
ذوالفقار نقوی — اپریل 26، 2014 9:11 صبح
خوبصورت غزل پر بہت سی داد قبول فرمائیں۔

بہت شکریہ عالی جناب @سرسری صاحب ...
ابن رضا — اپریل 26، 2014 9:47 صبح
خوب است محترم
ذوالفقار نقوی — اپریل 29، 2014 1:33 شام

تشکر ابن رضا صاحب
محمداحمد — اپریل 29، 2014 2:55 شام
واہ واہ واہ
بہت اچھی غزل ہے محترم۔
عبد الرحمن — اپریل 29، 2014 3:57 شام
بہت اچھی غزل ہے۔
ذوالفقار نقوی — مئی 1، 2014 5:17 صبح
واہ واہ واہ
بہت اچھی غزل ہے محترم۔

نوازش محمد احمد صاحب
ذوالفقار نقوی — مئی 1، 2014 5:18 صبح

حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں عالی جناب
ذوالفقار نقوی — مئی 1، 2014 5:46 صبح
معزز اراکین محفل سے غزل کے محاسن و معائب پر بهی بات کرنے کی گزارش هے
ذوالفقار نقوی — مئی 11، 2014 1:34 شام
محمد یعقوب آسی صاحب
محمد یعقوب آسی — مئی 11، 2014 1:51 شام
نہ کلیوں اور پھولوں کی مہک ہے
مری مٹی ہے، میری ہی مہک ہے
مرے دشتِ جنوں سے کون گذرا
یہ کس کی اب تلک باقی مہک ہے
کہاں سے آئے ہیں شعلے لپکنے
کہ اِن میں ایک جانی سی مہک ہے
دیے میں خونِ دل ڈالا ذرا سا
ہواؤں سے الجھنے کی مہک ہے
کسی آہٹ پہ میری سانس اُکھڑی
مگر سانسوں میں البیلی مہک ہے
ہَوا پر غیر ہے قابض، تو ہووے
رچی اِس میں مگر تیری مہک ہے
ذوالفقار نقوی​
مناسب ہے۔
لپکنے کی جگہ لپکتے رکھ کر دیکھئے
خونِ دل والے مصرعوں میں ربط کمزور ہے
تو ہووے ۔۔۔ یہ اسلوب یہاں تو اپنی کشش کھو بیٹھا، آپ جانئے!
دو شعری مجموعوں کے خالق کو اس غزل پر ’’ڈھیروں داد‘‘ نہیں دی جا سکتی۔
الف عین — مئی 12، 2014 3:07 صبح
اچھی غزل ہے،
جانی سی مہک اچھا نہیں لگتا۔ پہچانی سی مہک نہیں کیا جا سکتا؟
ذوالفقار نقوی — جون 11، 2016 7:16 صبح
اچھی غزل ہے،
جانی سی مہک اچھا نہیں لگتا۔ پہچانی سی مہک نہیں کیا جا سکتا؟
کہاں سے آئے ہیں شعلے لپکنے
کہ ان میں جانی پہچانی مہک ہے
الف عین — جون 11، 2016 7:27 صبح
کہاں سے آئے ہیں شعلے لپکنے
کہ ان میں جانی پہچانی مہک ہے
اب بہتر ہو گیا ہے شعر
ذوالفقار نقوی — جون 11، 2016 9:12 صبح
اب بہتر ہو گیا ہے شعر
بہت شکریہ محترم

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%DB%81-%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D9%85%DB%81%DA%A9-%DB%81%DB%92-%DB%94%DB%94-%D8%B0%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%81%D9%82%D8%A7%D8%B1-%D9%86%D9%82%D9%88%DB%8C.73645/