نہ کوئی باد نما تھا نہ ستارہ اپنا

ظہیراحمدظہیر — فروری 4، 2018 4:23 صبح

نہ کوئی باد نما تھا نہ ستارہ اپنا
رہنما کوئی اگر تھا تو یہ رستہ اپنا
زندگی گزری تضادات سے لڑتے لڑتے
فیصلے سارے تھے اوروں کے ، طریقہ اپنا​

بے سلیقہ تو نہیں ، بے سروسامان سہی
دست و بازو کو بنائیں گے وسیلہ اپنا
مان کرمشورے اپنوں کے اٹھایا ہے قدم
دیکھئے اب کیا نکلتا ہے نتیجہ اپنا
ڈر تو لگتا ہے بہت تیرگئ فردا سے
پیچھے ہٹنا بھی نہیں خیر وتیرہ اپنا
بادبانوں پہ بھروسے کا یہ نکلا انجام
آگیا ہاتھ ہواؤں کے سفینہ اپنا
مشغلہ کسبِ ہنر پہلے کبھی ہوتا تھا
بیچنا علم وہنر اب ہے ذریعہ اپنا
مسلکِ کُل کو نہیں جانتے ہم کیا ہے ظہیرؔ
بات جو سچ ہے وہی بات عقیدہ اپنا
ظہیرؔاحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۰۵​
محمد تابش صدیقی — فروری 4، 2018 5:53 صبح
زندگی گزری تضادات سے لڑتے لڑتے
فیصلے سارے تھے اوروں کے ، طریقہ اپنا

مان کرمشورے اپنوں کے اٹھایا ہے قدم
دیکھئے اب کیا نکلتا ہے نتیجہ اپنا

بادبانوں پہ بھروسے کا یہ نکلا انجام
آگیا ہاتھ ہواؤں کے سفینہ اپنا

مشغلہ کسبِ ہنر پہلے کبھی ہوتا تھا
بیچنا علم وہنر اب ہے ذریعہ اپنا

مسلکِ کُل کو نہیں جانتے ہم کیا ہے ظہیرؔ
بات جو سچ ہے وہی بات عقیدہ اپنا

کیا ہی اچھے اشعار ہیں ظہیر بھائی۔ بہت اعلیٰ
ظہیراحمدظہیر — فروری 5، 2018 6:33 شام
کیا ہی اچھے اشعار ہیں ظہیر بھائی۔ بہت اعلیٰ
آداب تابش بھائی! بہت نوازش! اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے !
محمد عدنان اکبری نقیبی — فروری 5، 2018 6:52 شام
واہ ظہیر بھائی بہت خوب۔سلامت رہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%DB%81-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%AF-%D9%86%D9%85%D8%A7-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%D9%86%DB%81-%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%81-%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7.100031/