نہیں موجود پر مثل ہوا ہے چار سو ہے

احمد وصال — دسمبر 9، 2020 12:11 شام
نہیں موجود ، پر مثل ہوا ہے، چار سو ہے
اکیلے میں کہ جس کی یاد محو گفتگو ہے
ادائیں، سادگی، شوخی ،تغافل , ایک جا ہیں
کوئی تصویر تیرے رنگ میں ہے یا کہ تو ہے
بلا کی تشنگی کا ہو مداوا کس طرح سے
ہر اک منظر پہ ویرانی ہے اور خالی سبو ہے
بہانہ کچھ بھی ہو پوچھے ہمارا حال تو بھی
نہیں پابند تو اس کا، فقط اک آرزو ہے
کبھی جنگل کی ہرنی ہاتھ آئی ہے کسی کی
سگانِ شہر کی پھر کس لیے سب جستجو ہے
جو انکاری محبت کا تھا اب طالب ہے اس کا
کہاں اس کو چھپائے گا محبت مشک بو ہے
محبت میں طہارت کا یہ پیمانہ ہو احمد
کہ دل ہے قبلہ رو ، ہر لفظ بھی کیا باوضو ہے
محمد احسن سمیع راحلؔ — دسمبر 9، 2020 12:39 شام
اچھی غزل ہے احمدؔ بھائی ۔۔۔ بس مطلع میں موجود کے بعد کاما لگا دیں ۔۔۔ کہیں لوگ اس پر کو پر نہ سمجھ لیں :)
احمد وصال — دسمبر 9، 2020 12:47 شام
اچھی غزل ہے احمدؔ بھائی ۔۔۔ بس مطلع میں موجود کے بعد کاما لگا دیں ۔۔۔ کہیں لوگ اس پر کو پر نہ سمجھ لیں :)
بہت محبت۔ ۔
پسندیدگی کا شکریہ
توجہ دلانے کے لیے سپاس گزار ہوں
سحر کائنات — دسمبر 9، 2020 5:45 شام
محبت میں طہارت کا یہ پیمانہ ہو احمد
کہ دل ہے قبلہ رو ، ہر لفظ بھی کیا باوضو ہے
بہت اچھی غزل ہے
اس شعر کے دوسرے مصرعے میں کیا کی اہمیت نہیں سمجھ آئی
احمد وصال — دسمبر 10، 2020 12:56 صبح
محبت میں طہارت کا یہ پیمانہ ہو احمد
کہ دل ہے قبلہ رو ، ہر لفظ بھی کیا باوضو ہے
بہت اچھی غزل ہے
اس شعر کے دوسرے مصرعے میں کیا کی اہمیت نہیں سمجھ آئی
الحب للہ و البغض للہ
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 12، 2020 9:04 شام
بہت خوب! اچھے شعر ہیں ، احمد وصال صاحب!
عاطف ملک — دسمبر 14، 2020 4:27 شام
اچھی غزل ہے احمد وصال بھائی۔
داد قبول کیجیے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF-%D9%BE%D8%B1-%D9%85%D8%AB%D9%84-%DB%81%D9%88%D8%A7-%DB%81%DB%92-%DA%86%D8%A7%D8%B1-%D8%B3%D9%88-%DB%81%DB%92.114225/