آصف شفیع — فروری 23، 2009 10:34 صبح
غزل:
نیند میں جا چکی ہے رانی بھی
قصہ گو! ختم کر کہانی بھی
شہرِ دل کو اجاڑنے والو!
یہ محبت کی ہے نشانی بھی
قافلہ کھو گیا ہے صحرا میں
ختم ہونے لگا ہے پانی بھی
لوگ خیموں کو بھی جلاتے ہیں
اور کرتے ہیں نوحہ خوانی بھی
تو نے چاہت کے خواب دیکھے تھے
دیکھ اشکوں کی اب روانی بھی
اس طرح تو جدا نہیں ہوتے
چھوڑتے ہیں کوئی نشانی بھی
آج ملنے ہی کو چلے آؤ
خوب ہے رنگِ آسمانی بھی
پھوٹ یونہی نہیں پڑی آصف
اس میں شامل ہے بد گمانی بھی
( آصف شفیع)
فرخ منظور — فروری 23، 2009 11:59 صبح
خوبصورت غزل ہے۔ شکریہ آصف بھائی!
محمد وارث — فروری 23، 2009 3:53 شام
بہت خوبصورت غزل ہے آصف صاحب لا جواب، بہت اچھے اشعار ہیں!
شہرِ دل کو اجاڑنے والو!
یہ محبت کی ہے نشانی بھی
تو نے چاہت کے خواب دیکھے تھے
دیکھ اشکوں کی اب روانی بھی
واہ واہ واہ، لا جواب!
الف عین — فروری 24، 2009 5:06 صبح
واہ۔۔ اچھی غزل ہے۔۔ مجھے اپنا ایک شعر یاد آ گیا۔
نہ اپنی آنکھ میں تھا ایک بوند پانی بھی
نہ جانے کیسے مگر آ گئی روانی بھی
محمد نعمان — فروری 24، 2009 11:50 صبح
شہرِ دل کو اجاڑنے والو!
یہ محبت کی ہے نشانی بھی
آصف بھائی بہت خوب
نہ اپنی آنکھ میں تھا ایک بوند پانی بھی
نہ جانے کیسے مگر آ گئی روانی بھی
استاد محترم کیا بات ہے آپکی۔۔
زینب — فروری 25، 2009 5:02 صبح
تو نے چاہت کے خواب دیکھے تھے
دیکھ اشکوں کی اب روانی بھی
اس طرح تو جدا نہیں ہوتے
چھوڑتے ہیں کوئی نشانی بھی
پھوٹ یونہی نہیں پڑی آصف
اس میں شامل ہے بد گمانی بھی
بہت خوب ۔شاندار۔۔۔۔۔۔
ش زاد — فروری 25، 2009 8:30 صبح
بہت خوب آصف صاحب
فاتح — فروری 25، 2009 2:03 شام
سبحان اللہ! انتہائی عمدہ غزل ہے۔ مبارک باد قبول ہو، یوںتو تمام اشعار ہی خوبصورت ہیں مگر ذیل کے اشعار کا تو جواب نہیں:
نیند میں جا چکی ہے رانی بھی
قصہ گو! ختم کر کہانی بھی
قافلہ کھو گیا ہے صحرا میں
ختم ہونے لگا ہے پانی بھی
لوگ خیموں کو بھی جلاتے ہیں
اور کرتے ہیں نوحہ خوانی بھی
پھوٹ یونہی نہیں پڑی آصف
اس میں شامل ہے بد گمانی بھی
آصف شفیع — فروری 25، 2009 3:46 شام
سبحان اللہ! انتہائی عمدہ غزل ہے۔ مبارک باد قبول ہو، یوںتو تمام اشعار ہی خوبصورت ہیں مگر ذیل کے اشعار کا تو جواب نہیں:
نیند میں جا چکی ہے رانی بھی
قصہ گو! ختم کر کہانی بھی
قافلہ کھو گیا ہے صحرا میں
ختم ہونے لگا ہے پانی بھی
لوگ خیموں کو بھی جلاتے ہیں
اور کرتے ہیں نوحہ خوانی بھی
پھوٹ یونہی نہیں پڑی آصف
اس میں شامل ہے بد گمانی بھی
ٍفاتح صاحب! داد دینے کا بہت شکریہ۔ نوازش۔ درا صل میں نے تین غزلیں اسی ملتی جلتی زمین میں ایک ہی دفعہ کہیں تھیں اور تینوں کا رنگ بھی ایک جیسا ہی ہے۔ تیسری غزل بھی پوسٹ کر دوں گا تاکہ تینوں کو ایک ہی نشست میں پڑھا جا سکے۔ شکریہ
سید محمد نقوی — فروری 25، 2009 8:17 شام
لوگ خیموں کو بھی جلاتے ہیں
اور کرتے ہیں نوحہ خوانی بھی
سبحان اللہ۔ بہت عمدہ
مسلمانوں کا حال کچھ ایسا ہی ہے۔ اللہ ہمیں نجات دے۔ ان شاء اللہ
شکریہ
شاہ حسین — فروری 25، 2009 10:30 شام
بہت خوب جناب
فاتح — فروری 25، 2009 10:33 شام
ٍفاتح صاحب! داد دینے کا بہت شکریہ۔ نوازش۔ درا صل میں نے تین غزلیں اسی ملتی جلتی زمین میں ایک ہی دفعہ کہیں تھیں اور تینوں کا رنگ بھی ایک جیسا ہی ہے۔ تیسری غزل بھی پوسٹ کر دوں گا تاکہ تینوں کو ایک ہی نشست میں پڑھا جا سکے۔ شکریہ
حضور! ہم سراپا انتظار ہیں
ش زاد — مارچ 3، 2009 11:17 صبح
واہ واہ کیا عمدہ غزل ہے
ایم اے راجا — مارچ 3، 2009 7:41 شام
بہت خوب واہ واہ اصف صاحب