واقعہ آپ نے پورا تو سنایا ہی نہیں

ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2024 6:18 صبح
ایک سادہ سی غزل آپ صاحبانِ ذوق کے پیشِ خدمت ہے ۔ پچھلے برس وطنِ عزیز میں بالخصوص جو صورتحال رہی اس کے تجزیے اور اس پر نقد و نظر کی کچھ جھلکیاں ان اشعار میں شاید آپ کو نظر آئیں ۔ امید ہے کہ کچھ اشعار آپ کو پسند آئیں گے۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف!
***
واقعہ آپ نے پورا تو سنایا ہی نہیں
میرے قصے میں مرا ذکر تو آیا ہی نہیں
کس طرح مان لوں تصویر کی سچائی کو
پسِ منظر جو چھپا ہے وہ دکھایا ہی نہیں
بھر دیئے یوں تو مؤرخ نے ہزاروں دفتر
جو حقیقت میں ہوا تھا وہ بتایا ہی نہیں
تخمِ امید کہ بویا تھا جسے پُرکھوں نے
خاکِ کم ظرف نے اب تک تو اگایا ہی نہیں
وہ مکاں جس نے دیا سایۂ فیضانِ اماں
رہنے والوں نے اُسے اپنا بنایا ہی نہیں
عکس ہوگا یہ کسی اور کا ، گھبرائیں نہ آپ
آئنہ آپ کو میں نے تو دکھایا ہی نہیں
دل لگا کر سُنے سب پند و نصائح میں نے
یہ الگ بات اُنہیں دل میں بٹھایا ہی نہیں
مجھے شرمندۂ قرطاس و قلم رکھتا ہے
ایک احساس جو لفظوں میں سمایا ہی نہیں
رنگ بھرتا ہی رہا عمر کے خاکے میں ظہیؔر
کوئی چہرہ تو ابھر کر کبھی آیا ہی نہیں
****
ظہیر ؔ احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۲۳ ء
سیما علی — مارچ 3، 2024 10:12 صبح
مجھے شرمندۂ قرطاس و قلم رکھتا ہے
ایک احساس جو لفظوں میں سمایا ہی نہیں
کیا کہنے ،بہت اعلیٰ و ارفع !
ظہیر بھائی سلامت رہیے ۔اللہ تعالیٰ آپکو اپنی امان میں رکھے ۔آمین
ایس ایس ساگر — مارچ 3، 2024 10:35 صبح
بہت عمدہ ۔ ہر شعر لاجواب ہے۔
اللہ تعالٰی آپ پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔ آمین۔
سید عاطف علی — مارچ 3، 2024 10:54 صبح
جو حقیقت میں ہوا تھا وہ بتایا ہی نہیں
واہ کیا بات ہے ۔ خؤب اشعار ہیں ظہیر بھائی ۔ سلامت سلامت ۔
محمد عبدالرؤوف — مارچ 3، 2024 11:58 صبح
واہ واہ بہت خوب، ماشاء اللّٰه ہر شعر خوب ہے۔
الف عین — مارچ 3، 2024 4:32 شام
واہ، اچھی غزل ہے ظہیراحمدظہیر
شکیل احمد خان23 — مارچ 4، 2024 5:08 صبح
متعلمین ِ اُردُو ہوں کہ متعلقین ِ ادب، دونوں کے لیے ظہیر صاحب کی پیش کردہ، دونوں ہی اصنافِ ادب( نظم و نثر) میں سیکھنے ، ساتھ چلنے اور اختیار کرلینے کے ساز وسامان اور مال و اسباب، وافر انداز میں مہیا ہیں۔یہ جو ایک اچھی نظم دیکھ کر ہم داد دینے کے لیے بے چین ہوہو جاتے ہیں یا ایک عمدہ تحریر پڑھ کر پھڑک پھڑک اُٹھتے ہیں تو دراصل یہ ہمارے اندر کے حددرجہ متجسس ،ایک عددہی سہی ،متعلم کی کارستانیاں ہیں جو ہر تصنیف و تالیف، تحریر و تخلیق کی طرف اِنہی (داد دینے اور پھڑک پھڑک جانے کی کیفیات) سے لطف اندوز ہونے کے لیے متوجہ ہوتا ہے ۔۔۔۔اور کبھی خالی ہاتھ ، بے نیل ِ مرام لوٹ جاتا ہے اور کبھی جھولیاں بھر بھر کر لوٹایا جاتا ہے ۔ ظہیر صاحب آپ کاکوئی شعر ، آپ کا نثر ی شہ پارہ ، آپ کی زبان ، آپ کا بیان،طرز و اُسلوب،شائقین ِ ادب میں کسی کو بھی تو مایوس اور خالی ہاتھ نہیں جانے دیتا ،واہ،شکریہ!
ہزاروں غم محبت کے مرادیں پانے آتے ہیں
یہ دل درگاہِ الفت ہے یہاں نذرانے آتے ہیں​
نیرنگ خیال — مارچ 4، 2024 6:33 صبح
واہ واہ۔۔۔۔ ماشاءاللہ۔۔۔ ایک سے ایک شعر۔۔۔ ایک سے ایک موضوع۔۔۔۔ کیا بات ہے۔۔۔ دریا کوزے میں بند کر دیا۔۔۔۔ آپ کے کیا کہنے ظہیر بھائی۔۔۔۔ محبت آپ کے لیے ہر دم۔۔۔
وہ مکاں جس نے دیا سایۂ فیضانِ اماں
رہنے والوں نے اُسے اپنا بنایا ہی نہیں

عکس ہوگا یہ کسی اور کا ، گھبرائیں نہ آپ
آئنہ آپ کو میں نے تو دکھایا ہی نہیں

یہ دو اشعار اس لیے اقتباس کیے ہیں کہ ڈالے والوں کو اگر سمجھ آجائیں تو وہ امریکہ آپ کے پیچھے آجائیں۔۔۔۔ پر الحمداللہ۔۔۔ وہ کسی بھی قسم کے ذوق سے عاری ہیں۔
عظیم — مارچ 4، 2024 9:15 صبح
بہت خوب ہے، واہ
ظہیراحمدظہیر — مارچ 4، 2024 3:51 شام
کیا کہنے ،بہت اعلیٰ و ارفع !
ظہیر بھائی سلامت رہیے ۔اللہ تعالیٰ آپکو اپنی امان میں رکھے ۔آمین
بہت بہت شکریہ، سیما آپا!
جو شعر اس غزل کا آپ کو پسند آیا وہ میرے دل کی آواز بھی ہے اور حقیقت کا غماز بھی۔
آپ ہمیشہ دعائیں دیتی ہیں ، اس کے لیے خصوصی شکریہ! اللہ کریم آپ کو فلاحِ دارین عطا فرمائے! آمین!
ظہیراحمدظہیر — مارچ 4، 2024 3:52 شام
بہت عمدہ ۔ ہر شعر لاجواب ہے۔
اللہ تعالٰی آپ پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔ آمین۔
بہت شکریہ ، نوازش! بہت ممنون ہوں ، بھائی! اللہ کریم سلامت رکھے۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 4، 2024 3:53 شام
واہ کیا بات ہے ۔ خؤب اشعار ہیں ظہیر بھائی ۔ سلامت سلامت ۔
آداب ، تسلیمات ! بہت نوازش ہے ، عاطف بھائی! نظرِ کرم کے لیے ممنون ہوں ۔ اللہ کریم سلامت رکھے ، شاد و آباد رہیں ۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 4، 2024 3:54 شام
واہ واہ بہت خوب، ماشاء اللّٰه ہر شعر خوب ہے۔
بہت شکریہ ، بہت نوازش ، عبدالرؤف ! بہت ممنون ہوں ۔ اللہ کریم اپنی امان میں رکھے ، خیر و فضل عطا فرمائے! آمین
ظہیراحمدظہیر — مارچ 4، 2024 3:57 شام
آداب ، آداب! ذرہ نوازی ہے ، اعجاز بھائی! قدر افزائی کے لیے سراپا سپاس ہوں!
اللہ کریم آپ کا سایا سلامت رکھے ، صحت و عافیت سے مالا مال رکھے ! آمین
ظہیراحمدظہیر — مارچ 4، 2024 4:03 شام
متعلمین ِ اُردُو ہوں کہ متعلقین ِ ادب، دونوں کے لیے ظہیر صاحب کی پیش کردہ، دونوں ہی اصنافِ ادب( نظم و نثر) میں سیکھنے ، ساتھ چلنے اور اختیار کرلینے کے ساز وسامان اور مال و اسباب، وافر انداز میں مہیا ہیں۔یہ جو ایک اچھی نظم دیکھ کر ہم داد دینے کے لیے بے چین ہوہو جاتے ہیں یا ایک عمدہ تحریر پڑھ کر پھڑک پھڑک اُٹھتے ہیں تو دراصل یہ ہمارے اندر کے حددرجہ متجسس ،ایک عددہی سہی ،متعلم کی کارستانیاں ہیں جو ہر تصنیف و تالیف، تحریر و تخلیق کی طرف اِنہی (داد دینے اور پھڑک پھڑک جانے کی کیفیات) سے لطف اندوز ہونے کے لیے متوجہ ہوتا ہے ۔۔۔۔اور کبھی خالی ہاتھ ، بے نیل ِ مرام لوٹ جاتا ہے اور کبھی جھولیاں بھر بھر کر لوٹایا جاتا ہے ۔ ظہیر صاحب آپ کاکوئی شعر ، آپ کا نثر ی شہ پارہ ، آپ کی زبان ، آپ کا بیان،طرز و اُسلوب،شائقین ِ ادب میں کسی کو بھی تو مایوس اور خالی ہاتھ نہیں جانے دیتا ،واہ،شکریہ!
ہزاروں غم محبت کے مرادیں پانے آتے ہیں
یہ دل درگاہِ الفت ہے یہاں نذرانے آتے ہیں​
سبحان اللہ! کیا بات ہے آپ کے تبصروں کی ! دل خوش ہوجاتا ہے پڑھ کر!
بہت نوازش ، بہت محبت ہے آپ کی! حسنِ نظر اور حسنِ ظن کے لیے ممنون ہوں ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے!
شکیل احمد بھائی ، پھر گزارش ہے کہ اپنی تحاریر سے اردو محفل کو رونق بخشیے ۔اس لطف و کرم کو جوابی مراسلوں تک محدود نہ کیجیے۔ قارئین کو محروم نہ رکھیے ۔ تنقید کے شعبےمیں اس قسم کےتخلیقی تبصروں کی ضرورت ہے ۔ مشاہیر اور اکابرین کے کام پر تبصرےلکھیے ۔ اپنے قلم کے جوہر کو دوام عطا کیجیے۔ امید ہے مایوس نہیں کریں گے۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 4، 2024 4:15 شام
واہ واہ۔۔۔۔ ماشاءاللہ۔۔۔ ایک سے ایک شعر۔۔۔ ایک سے ایک موضوع۔۔۔۔ کیا بات ہے۔۔۔ دریا کوزے میں بند کر دیا۔۔۔۔ آپ کے کیا کہنے ظہیر بھائی۔۔۔۔ محبت آپ کے لیے ہر دم۔۔۔
محبت تو آپ کی ہے نین بھائی!اس توجہ اور پذیرائی کے لیے بہت ممنون ہوں ۔اس محبت اورقدردانی کا مقروض ہوں ۔ اللہ کریم آپ کو خوش رکھے ، گراں باریِ روز و شب کو ہلکا کردے اور قدم قدم آسانیاں پیدا فرمائے! آمین !
یہ دو اشعار اس لیے اقتباس کیے ہیں کہ ڈالے والوں کو اگر سمجھ آجائیں تو وہ امریکہ آپ کے پیچھے آجائیں۔۔۔۔ پر الحمداللہ۔۔۔ وہ کسی بھی قسم کے ذوق سے عاری ہیں۔
کس قدر ذوق سے عاری ہیں یہ ڈالے والے!
:):):)
اشعار تو یقیناً ان کو سمجھ میں نہیں آئیں گے ، اللہ کرے آپ کا تبصرہ بھی سمجھ میں نہ آئے۔ ورنہ ڈالے والے پھر ڈالے والے ہیں ۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 4، 2024 4:16 شام
بہت بہت شکریہ ، بہت نوازش، عظیم بھائی! توجہ کے لیے ممنون ہوں ۔ اللہ کریم سلامت رکھے ، شاد و آباد رہیں!
نیرنگ خیال — مارچ 4، 2024 5:32 شام
محبت تو آپ کی ہے نین بھائی!اس توجہ اور پذیرائی کے لیے بہت ممنون ہوں ۔اس محبت اورقدردانی کا مقروض ہوں ۔ اللہ کریم آپ کو خوش رکھے ، گراں باریِ روز و شب کو ہلکا کردے اور قدم قدم آسانیاں پیدا فرمائے! آمین !
آمین و ایاکم۔۔۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا
کس قدر ذوق سے عاری ہیں یہ ڈالے والے!
:):):)
اشعار تو یقیناً ان کو سمجھ میں نہیں آئیں گے ، اللہ کرے آپ کا تبصرہ بھی سمجھ میں نہ آئے۔ ورنہ ڈالے والے پھر ڈالے والے ہیں ۔
سرور بارہ بنکوی کے ایک شعر میں چھوٹی سی ترمیم
متفق اس پر سبھی ہیں، کیا خدا کیا ناخدا
یہ ڈالا اب کہیں بھی جائے ساحل کے سوا
جاسمن — مارچ 5، 2024 9:30 صبح
سبحان اللہ! کیا بات ہے آپ کے تبصروں کی ! دل خوش ہوجاتا ہے پڑھ کر!
بہت نوازش ، بہت محبت ہے آپ کی! حسنِ نظر اور حسنِ ظن کے لیے ممنون ہوں ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے!
شکیل احمد بھائی ، پھر گزارش ہے کہ اپنی تحاریر سے اردو محفل کو رونق بخشیے ۔اس لطف و کرم کو جوابی مراسلوں تک محدود نہ کیجیے۔ قارئین کو محروم نہ رکھیے ۔ تنقید کے شعبےمیں اس قسم کےتخلیقی تبصروں کی ضرورت ہے ۔ مشاہیر اور اکابرین کے کام پر تبصرےلکھیے ۔ اپنے قلم کے جوہر کو دوام عطا کیجیے۔ امید ہے مایوس نہیں کریں گے۔
سو فیصد متفق۔
میں نے جب پہلا تفصیلی تبصرہ پڑھا تو بہت حیران ہوئی تھی کہ تبصرہ اس قدر زبردست ہے تو تحریر کیا ہو گی!!!
ماشاءاللہ، اللہ نے خوب خوب چُن کے جوہر دیے ہیں شکیل بھائی کو۔
جاسمن — مارچ 5، 2024 9:33 صبح
ظہیر بھائی! ابھی فلسطین کے حوالے سے آپ کی تحریر پڑھیں تھی۔ اب آپ کی یہ غزل پڑھ رہی ہوں۔
کل آپ کی تحریر پڑھ کے میں کافی دیر سوچتی رہی کہ ماشاءاللہ آپ کس قدر سمجھ دار اور ذہین ہیں۔ کیا کیا خوبیاں اللہ نے آپ کو عنایت کی ہیں۔ میں کافی دیر آپ پہ رشک کرتی رہی۔
اور اب یہ غزل۔۔۔ ہر شعر لاجواب۔ بے مثال۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%88%D8%A7%D9%82%D8%B9%DB%81-%D8%A2%D9%BE-%D9%86%DB%92-%D9%BE%D9%88%D8%B1%D8%A7-%D8%AA%D9%88-%D8%B3%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.120488/