والد مرحوم کے نام ۔۔۔۔

صفی حیدر — جون 6، 2018 11:42 شام
جس سی ہنسی حیات وہ شفقت ہے باپ کی
جس نے رلایا خون وہ رحلت ہے باپ کی
گو مرگ نے اسے کیا مجھ سے جدا مگر
جس کو نہیں ہے موت محبت ہے باپ کی
اس دور میں آسودگی سے رہ رہا ہوں میں
مجھ کو دیا ہے گھر یہ عنایت ہے باپ کی
احساس اس کے ہونے کا ہوتا ہے قبر سے
شامل جو ہے مٹی میں وہ نکہت ہے باپ کی
شیریں مزاج اس کا وراثت میں ہے ملا
موجود مجھ میں وہ ہی حلاوت ہے باپ کی
چلتا رہوں گا نقشِ قدم پر میں اس کے ہی
میں جانتا ہوں اس میں مسرت ہے باپ کی
رہتی ہے میرے پیشِ نظر ہر گھڑی صفی
مجھ کو عزیز جاں سے بھی عزت ہے باپ کی
محمد ریحان قریشی — جون 6، 2018 11:55 شام
بہت خوب.
اس دور میں آسودگی سے رہ رہا ہوں میں
شامل جو ہے مٹی میں وہ نکہت ہے باپ کی
درج بالا مصرعوں کا وزن درست نہیں. ان پر نظرِ ثانی کر لیجیے.
صفی حیدر — جون 7، 2018 12:45 صبح
بہت شکریہ سر آپ نے درست نشاندہی کی ... دوبارہ پوسٹ کرتا ہوں
صفی حیدر — جون 7، 2018 12:46 صبح
جس سی ہنسی حیات وہ شفقت ہے باپ کی
جس نے رلایا خون وہ رحلت ہے باپ کی
گو مرگ نے اسے کیا مجھ سے جدا مگر
جس کو نہیں ہے موت محبت ہے باپ کی
آسودگی سے آج اگر رہ رہا ہوں میں
مجھ کو دیا ہے گھر یہ عنایت ہے باپ کی
احساس اس کے ہونے کا ہوتا ہے قبر سے
شامل ہے مٹی میں جو وہ نکہت ہے باپ کی
شیریں مزاج اس کا وراثت میں ہے ملا
موجود مجھ میں وہ ہی حلاوت ہے باپ کی
چلتا رہوں گا نقشِ قدم پر میں اس کے ہی
میں جانتا ہوں اس میں مسرت ہے باپ کی
رہتی ہے میرے پیشِ نظر ہر گھڑی صفی
مجھ کو عزیز جاں سے بھی عزت ہے باپ کی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%AF-%D9%85%D8%B1%D8%AD%D9%88%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D9%86%D8%A7%D9%85-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94.101757/