ورثہٴ درد ہے تنہائی چھپالی جائے

ظہیراحمدظہیر — فروری 3، 2016 5:43 شام
ورثہٴ درد ہے تنہائی چھپالی جائے
اپنے حصے کی یہ جاگیر سنبھالی جائے
کون دیکھے گا تبسم کی نمائش سے پرے
ٹوٹی دیوار پہ تصویر لگالی جائے
اختلافات نہ بن جائیں تماشہ اے دوست
بیچ میں اب کوئی دیوار اٹھالی جائے
اپنی رفتار سے اب آوٴ گزاریں دن رات
وقت کے ہاتھ سے زنجیر چھڑالی جائے
آنکھ بھر آئے کسی کی ، نہ دُکھے دل کوئی
ایسی تقریبِ ملاقات نکالی جائے
نہ ہی ادراکِ انا جس کو ، نہ پاسِ اقدار
اُس مسیحا سے بھلا کیسے دوا لی جائے
کیا سنائیں تمہیں ہم شہر ِ یقیں کے حالات
لوگ کہتے ہیں کہ امید اٹھالی جائے
ورنہ شمشیر بچے گی نہ بچیں گے بازو
وار کرنا ہے تو پھر وار نہ خالی جائے
جان کیا چیز ہے بن آئے جب عزّت پہ ظہیر
سر بچے یا گرے ، دستار بچالی جائے
ظہیر احمد ظہیر ۔ ۔ ۔۲۰۰۲​
محمد تابش صدیقی — فروری 3، 2016 6:10 شام
کیا کہنے ظہیر بھائی
نہ ہی ادراکِ انا جس کو ، نہ پاسِ اقدار
اُس مسیحا سے بھلا کیسے دوا لی جائے
سید اسد معروف — فروری 4، 2016 5:18 صبح
بہت اچھے ظہیر بھائی!
اختلافات نہ بن جائیں تماشہ اے دوست
بیچ میں اب کوئی دیوار اٹھالی جائے
اپنی رفتار سے اب آوٴ گزاریں دن رات
وقت کے ہاتھ سے زنجیر چھڑالی جائے
محمد بلال اعظم — فروری 4، 2016 2:14 شام
اپنی رفتار سے اب آوٴ گزاریں دن رات
وقت کے ہاتھ سے زنجیر چھڑالی جائے

نہ ہی ادراکِ انا جس کو ، نہ پاسِ اقدار
اُس مسیحا سے بھلا کیسے دوا لی جائے

ورنہ شمشیر بچے گی نہ بچیں گے بازو
وار کرنا ہے تو پھر وار نہ خالی جائے

جان کیا چیز ہے بن آئے جب عزّت پہ ظہیر
سر بچے یا گرے ، دستار بچالی جائے
واہ
بہت عمدہ اشعار

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%88%D8%B1%D8%AB%DB%81%D9%B4-%D8%AF%D8%B1%D8%AF-%DB%81%DB%92-%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7%D9%84%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92.87717/