وسعتِ تحریر میں صحرا سی پہنائی نہ تھی - منیب فاتحؔ

منیب احمد فاتح — فروری 17، 2013 7:38 صبح
یہ غزل اصلاحِ سخن میں تو نہیں مگر کوئی خامی نظر آئے تو ضرور آگاہ کریں:
وسعتِ تحریر میں صحرا سی پہنائی نہ تھی
جتنی ہم سمجھے تھے غم میں اتنی گہرائی نہ تھی
آنکھ میری بھی ا گرچہ کم تماشائی نہ تھی
کچھ بیاں کرنے کو لیکن تابِ گویائی نہ تھی
چارہ گر مانا دوائے زخمِ تنہائی نہ تھی
دیکھ لینے میں مریضوں کو تو رسوائی نہ تھی
اک ہمارا دل تھا جس کے پاس دانائی نہ تھی
سیلِ غم تھا اور خوئے بادہ پیمائی نہ تھی
میرے مداحین نکلے قبر میں منکر نکیر
حشر تک صحبت رہی ایسی کہ تنہائی نہ تھی
وائے مایوسی برائے دیدہ ہائے موسوی
ذوقِ نظارہ تھا لیکن کوئی بینائی نہ تھی
حلف پھر اس نے اٹھایا داد رس ہونے کا حیف
جس کے ایوانوں میں فاتح میری شنوائی نہ تھی
نامعلوم اول — فروری 17، 2013 7:54 صبح
بہت خوب۔ ایسی غزل اور اصلاح کا ذکر؟ میری ہوتی تو کہتا، اب کسی کو اصلاح کرانی ہے تو آ جائے۔
منیب احمد فاتح — فروری 17، 2013 9:34 صبح
بہت خوب۔ ایسی غزل اور اصلاح کا ذکر؟ میری ہوتی تو کہتا، اب کسی کو اصلاح کرانی ہے تو آ جائے۔
ہاہا۔ بہت شکریہ
مغزل — فروری 17، 2013 10:51 صبح
یہ غزل اصلاحِ سخن میں تو نہیں مگر کوئی خامی نظر آئے تو ضرور آگاہ کریں:
وسعتِ تحریر میں صحرا سی پہنائی نہ تھی
جتنی ہم سمجھے تھے غم میں اتنی گہرائی نہ تھی
آنکھ میری بھی ا گرچہ کم تماشائی نہ تھی
کچھ بیاں کرنے کو لیکن تابِ گویائی نہ تھی
چارہ گر مانا دوائے زخمِ تنہائی نہ تھی
دیکھ لینے میں مریضوں کو تو رسوائی نہ تھی
اک ہمارا دل تھا جس کے پاس دانائی نہ تھی
سیلِ غم تھا اور خوئے بادہ پیمائی نہ تھی
میرے مداحین نکلے قبر میں منکر نکیر
حشر تک صحبت رہی ایسی کہ تنہائی نہ تھی
وائے مایوسی برائے دیدہ ہائے موسوی
ذوقِ نظارہ تھا لیکن کوئی بینائی نہ تھی
حلف پھر اس نے اٹھایا داد رس ہونے کا حیف
جس کے ایوانوں میں فاتح میری شنوائی نہ تھی

منیب فاتحؔ سلامت باشید عمدہ غزل کہی ہے جناب نے ماشا اللہ ۔ کلاسیکی رویے میں ایسے شعر ردیف و قوافی کی قید میں دینا بھی کم کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے ۔
اس غزل میں اگر کوئی خامی ہے تو اس کا ’’پرفیکٹ ‘‘ ہونا ہے اور خوبی ہے تو بھی ’’پرفیکٹ‘‘ ہونا ہے سو ہر دو اعتبار سے غزل اسالیبِ غزل کی نصابی اور روایتی
معیار پر نہ صرف پوری اترتی ہے بلکہ متقدمین متاخرین اور متوسطین کے لیے چراغ آفریدم کی عمدہ مثال ہے جو افراد کلاسیک کے نام پر بوسیدگی کو ادب سمجھتے
ہیں اگر وہ آپ کی مذکورہ بالا غزل کی قراءت ہی کر لیں تو کم از کم ہمارے کثیر ادبی کلاسیکی روایتی سرمائے سے منھ نہ موڑیں۔ داد حاضر ہے پیارے صاحب ۔۔
سدا سلامت شاد باد کامران ، خیلی روز بخیر
منیب احمد فاتح — فروری 17، 2013 1:57 شام
منیب فاتحؔ سلامت باشید عمدہ غزل کہی ہے جناب نے ماشا اللہ ۔ کلاسیکی رویے میں ایسے شعر ردیف و قوافی کی قید میں دینا بھی کم کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے ۔
اس غزل میں اگر کوئی خامی ہے تو اس کا ’’پرفیکٹ ‘‘ ہونا ہے اور خوبی ہے تو بھی ’’پرفیکٹ‘‘ ہونا ہے سو ہر دو اعتبار سے غزل اسالیبِ غزل کی نصابی اور روایتی معیار پر نہ صرف پوری اترتی ہے بلکہ متقدمین متاخرین اور متوسطین کے لیے چراغ آفریدم کی عمدہ مثال ہے جو افراد کلاسیک کے نام پر بوسیدگی کو ادب سمجھتے ہیں اگر وہ آپ کی مذکورہ بالا غزل کی قراءت ہی کر لیں تو کم از کم ہمارے کثیر ادبی کلاسیکی روایتی سرمائے سے منھ نہ موڑیں۔ داد حاضر ہے پیارے صاحب ۔۔
سدا سلامت شاد باد کامران ، خیلی روز بخیر
لطف دارین!
سچ تو یہ ہے کہ آپ کے الفاظ میرے لئے نہایت حوصلہ افزاء ہیں۔ انٹرنیٹ پر آپ ایسے قدردانِ علم و فن کا اکٹھا ہونا ایک نعمت سے کم نہیں۔ افسوس ہے کہ وہ ابتدائی دور کہ جس میں صاحبِ فن کی رہنمائی چند دنوں میں سالوں کی مسافت طے کروا دیتی ہے، اکیلے گرتے پڑتے ہی گزرا مگر اب دعا ہے کہ آپ سے افراد کی صحبت کا تخم میرے فن کے لئے گھنا سایہ دار درخت بن سکے۔
جمالِ ہم نشیں در من اثر کرد
وگرنہ من ہمہ خاکم کہ ہستم
من بسیار سپاس گزار ھستم، دوستِ من۔
مدیحہ گیلانی — فروری 17، 2013 4:02 شام
واہ واہ ماشاءاللہ ۔۔۔کیا کہنے !
بےحد عمدہ غزل کہی آپ نے کہ لطف آ گیا ۔جیتے رہیئے۔
محمد بلال اعظم — فروری 17، 2013 4:17 شام
واہ منیب بھائی
گو کہ مجھے کلاسیکل شاعری کچھ زیادہ پسند نہیں لیکن کلاسیکل رنگ لیے آپ کی یہ غزل بہت پسند آئی۔
زبردست
امیداورمحبت — فروری 17، 2013 4:30 شام
خوب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 17، 2013 4:33 شام
”داد دو دادا کو“ ہے حکمِ اسامہ سَرسَری
پھر نہ کہنا آپ نے کیوں داد دلوائی نہ تھی
محمد وارث — فروری 18، 2013 6:45 صبح
خوب غزل ہے جناب، کیا کہنے
منیب احمد فاتح — فروری 19، 2013 10:47 صبح
واہ واہ ماشاءاللہ ۔۔۔ کیا کہنے !
بےحد عمدہ غزل کہی آپ نے کہ لطف آ گیا ۔جیتے رہیئے۔
جی بہت شکریہ۔۔۔
منیب احمد فاتح — فروری 19، 2013 10:55 صبح
واہ منیب بھائی
گو کہ مجھے کلاسیکل شاعری کچھ زیادہ پسند نہیں لیکن کلاسیکل رنگ لیے آپ کی یہ غزل بہت پسند آئی۔
زبردست
زور کافی لگایا ہے۔ کلاسیکی انداز اور مضامین تازہ، شاید اسی لئے آپ کو پسند آئی۔ بہت نوازش۔
منیب احمد فاتح — فروری 19، 2013 10:58 صبح
خوب غزل ہے جناب، کیا کہنے
بہت شکریہ۔ آپ کا خوب کہنا بہت انعام ہے۔
مغزل — فروری 19، 2013 1:21 شام
سچ تو یہ ہے کہ آپ کے الفاظ میرے لئے نہایت حوصلہ افزاء ہیں۔ انٹرنیٹ پر آپ ایسے قدردانِ علم و فن کا اکٹھا ہونا ایک نعمت سے کم نہیں۔
افسوس ہے کہ وہ ابتدائی دور کہ جس میں صاحبِ فن کی رہنمائی چند دنوں میں سالوں کی مسافت طے کروا دیتی ہے، اکیلے گرتے پڑتے ہی گزرا
مگر اب دعا ہے کہ آپ سے افراد کی صحبت کا تخم میرے فن کے لئے گھنا سایہ دار درخت بن سکے۔
جمالِ ہم نشیں در من اثر کرد
وگرنہ من ہمہ خاکم کہ ہستم
من بسیار سپاس گزار ھستم، دوستِ من۔

روز باشید برادرِ عزیز خیلی بسیار ممنون :)
ارے ارے فاتحِ ثانی بھائی مجھ ایسے کم نصیب اور کج فہم کی صحبتِ بد تو خود میرے لیے نقصان دہ ہے۔۔:):)
لیکن آپ یہاں محفل میں ضرور ہماری طرح کچھ نہ کچھ ضرور سیکھ ہی لیں گے۔:angel:
پیارے صاحب یہ محبتِ محض ہے کہ آپ نے مجھ ناگوار کی فروگذاشت کو حسنِ ظن سے اس قدرمحبتوں سے نوازا ۔:bighug:
انشا اللہ مراسلت کا شرف حاصل رہے گا۔ جزاک اللہ
محمداحمد — فروری 19، 2013 1:27 شام
واہ واہ واہ۔۔۔۔!
بہت ہی لاجواب غزل ہے جناب منیب احمد فاتح صاحب،
پڑھ کر دل خوش ہو گیا۔۔۔!
خاکسار کی جانب سے ڈھیروں ڈھیر داد قبول فرمائیے۔
منیب احمد فاتح — فروری 19، 2013 2:44 شام
واہ واہ واہ۔۔۔ ۔!
بہت ہی لاجواب غزل ہے جناب منیب احمد فاتح صاحب،
پڑھ کر دل خوش ہو گیا۔۔۔ !
خاکسار کی جانب سے ڈھیروں ڈھیر داد قبول فرمائیے۔
بہت شکرگزار ہوں احمد صاحب۔ کسی کا دل تو خوش کیا ہم نے! ;)
محسن وقار علی — فروری 19، 2013 2:57 شام
چارہ گر مانا دوائے زخمِ تنہائی نہ تھی
دیکھ لینے میں مریضوں کو تو رسوائی نہ تھی
وائے مایوسی برائے دیدہ ہائے موسوی
ذوقِ نظارہ تھا لیکن کوئی بینائی نہ تھی
حلف پھر اس نے اٹھایا داد رس ہونے کا حیف
جس کے ایوانوں میں فاتح میری شنوائی نہ تھی
بہت ہی خوبصورت غزل ہے فاتح ثانی بھائی
داد قبول کیجیے:applause::applause::applause::applause::applause::applause::applause:
مہ جبین — فروری 19، 2013 3:04 شام
آنکھ میری بھی ا گرچہ کم تماشائی نہ تھی
کچھ بیاں کرنے کو لیکن تابِ گویائی نہ تھی
واہ واہ زبردست غزل منیب احمد فاتح
منیب احمد فاتح — فروری 19، 2013 4:17 شام
چارہ گر مانا دوائے زخمِ تنہائی نہ تھی
دیکھ لینے میں مریضوں کو تو رسوائی نہ تھی
وائے مایوسی برائے دیدہ ہائے موسوی
ذوقِ نظارہ تھا لیکن کوئی بینائی نہ تھی
حلف پھر اس نے اٹھایا داد رس ہونے کا حیف
جس کے ایوانوں میں فاتح میری شنوائی نہ تھی
بہت ہی خوبصورت غزل ہے فاتح ثانی بھائی
داد قبول کیجیے:applause::applause::applause::applause::applause::applause::applause:
'فاتح ثانی' شکریہ کہتا ہے ۔۔
منیب احمد فاتح — فروری 19، 2013 4:19 شام
آنکھ میری بھی ا گرچہ کم تماشائی نہ تھی
کچھ بیاں کرنے کو لیکن تابِ گویائی نہ تھی
واہ واہ زبردست غزل منیب احمد فاتح
شعر کی خاص پسندیدگی پر احسان مند ہوں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%88%D8%B3%D8%B9%D8%AA%D9%90-%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7-%D8%B3%DB%8C-%D9%BE%DB%81%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D9%86%DB%81-%D8%AA%DA%BE%DB%8C-%D9%85%D9%86%DB%8C%D8%A8-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD%D8%94.60006/