وہ جو کر رہے تھے ساقی

اسامہ جمشید — اکتوبر 11، 2012 8:43 صبح
وہ جو کر رہے تھے ساقی
ترے وصل کی دعائیں​

وہی رند مر گئے ہیں
انہیں ڈس گئی وفائیں​

جہاں ہر طرف ہوں قاتل
وہا ں کیا کریں بلائیں​

کبھی پڑھ رہے تھے ہمکو
یہ جو کرگئے قضائیں​

ہمیں حسن نے ہي لوٹا
ہمیں کھا گئی ادائیں​

کہیں شام ہو رہی ہے
چلو ہم دیا جلائیں​

وہ جو سن رہے تھے نغمہ
وہی کر گئے خطائیں​
جنید اقبال — اکتوبر 11، 2012 9:00 صبح
بہت خوب
اسامہ جمشید — اکتوبر 11، 2012 9:21 صبح
نوازش؎
الف عین — اکتوبر 12، 2012 3:19 صبح
خوب
محمد حفیظ الرحمٰن — اکتوبر 12، 2012 9:01 صبح
واہ جمشید صاحب زبردست۔ بحر بھی بڑی رواں ہے۔ مزہ آ گیا۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ-
اسامہ جمشید — اکتوبر 12، 2012 10:13 صبح
شکریہ استاد گرامی
اسامہ جمشید — اکتوبر 12، 2012 10:14 صبح
واہ جمشید صاحب زبردست۔ بحر بھی بڑی رواں ہے۔ مزہ آ گیا۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ-
شکریہ حفیظ صاحب۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%88%DB%81-%D8%AC%D9%88-%DA%A9%D8%B1-%D8%B1%DB%81%DB%92-%D8%AA%DA%BE%DB%92-%D8%B3%D8%A7%D9%82%DB%8C.55285/