وہ حیلہ جُو بھی کمال کا تھا جو لڑکھڑایا تو مسکرایا

اسامہ جمشید — مئی 2، 2018 3:47 شام
وہ میرے دل کے اداس کمروں میں جگمگایا تو مسکرایا
وہ حیلہ جُو بھی کمال کا تھا جو لڑکھڑایا تو مسکرایا
اسے یہ خو تھی کہ میرے دل کے برامدے میں وہ رقص دیکھے
عجیب شے تھا کہ وسوسوں نے اسے ستایا تو مسکرایا
وہ محو حیرت تھا میری سوچوں کے کچھ کواڑوں کی خامشی پر
حسین چہرے نے سادگی سے سراغ پایا تو مسکرایا
وہ مسکراتی سے ایک شب تھی، کے ایک رُت تھی، کے ایک پل تھا
میں گل بدن کی عیاں شرارت کو چھیڑ آیا تو مسکرایا
وہ "آپ" تھے یا وہ "تم" تھے یا پھر "حضور" تھے یا "جناب" تھے وہ
اس اک غزالاں کو اتنے لہجوں میں جب بلایا تو مسکرایا
اسامہ جمشیدؔ
صبح 7 بجے، 1 مئی 2018، راولپنڈی​
محمد تابش صدیقی — مئی 2، 2018 4:18 شام
اچھی غزل ہے
عجیب شیہ تھا کہ وسوسوں نے اسے ستایا تو مسکرایا
شے
وہ محو حیرت تھا میری سوچوں کے بند کواڑوں کی خامشی پر
بند کا وزن فاع ہے فع باندھنا درست نہیں۔
وہ "آپ" تھے کے وہ "تم" تھے یا پھر "حضور" تھے یا "جناب" تھے وہ
کہ
کہ دو حرفی اچھا نہیں لگتا
اسامہ جمشید — مئی 2، 2018 5:30 شام
محمد تابش صدیقی صاحب بہت شکریہ ۔ ۔ ۔ تدوین کر دیے ہے بند کی جگہ کچھ کردیا اور کہ کی جگہ یا کردیا ۔ ۔ سپاس گزار ہوں حضور ۔ ۔ ۔
فرقان احمد — مئی 2، 2018 5:39 شام
اعلیٰ! روانی بھی ہے اور تغزل کا رنگ بھی۔
فاخر رضا — مئی 2، 2018 6:57 شام
ایک جوانوں میں مقبول شاعر ہیں جو ہمارے محمد وارث بھائی کو بہت پسند ہیں۔ انہی کی طرح کی شاعری ہے۔ کیا نام ہے بھئی انکا۔
فاخر رضا — مئی 2، 2018 6:58 شام
بھئی وہ ٹی وی پر پروگرام بھی کرتےہیں
اسامہ جمشید — مئی 3، 2018 4:26 صبح
تمام احباب کا بہت شکریہ۔۔۔۔۔۔۔
محمداحمد — مئی 7، 2018 7:08 صبح
بہت خوب!
مترنم بحر میں اچھی غزل ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%88%DB%81-%D8%AD%DB%8C%D9%84%DB%81-%D8%AC%D9%8F%D9%88-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84-%DA%A9%D8%A7-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%D8%AC%D9%88-%D9%84%DA%91%DA%A9%DA%BE%DA%91%D8%A7%DB%8C%D8%A7-%D8%AA%D9%88-%D9%85%D8%B3%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DB%8C%D8%A7.101151/