وہ قدم رکھیں جہاں

جواد رضا خان جامی — مئی 22، 2010 12:20 شام
فرش سے جاری ہوئے احکام جو افلاک پر
محو حیرت ہے زمانہ سید لولاک پر
جس مبارک خطے سے پائے مقدس مس ہوئے
لوٹتی لاکھوں جبینیں ہیں اسی کی خاک پر
بے حجاب و بے وسیلہ جلوہ مولا دکھا
اے میں قرباں سید عالم تیرے ادراک پر
جی میں ٹھانی ہے حضوری کی حضور پاک میں
کب تلک روؤں میں آخر ہجر الم ناک پر
یونہی جنت کی طرف میرا سفر قائم رہے
وہ قدم رکھیں جہاں میں سر رکھوں اس خاک پر
ان کے ہوتے غم نہیں موج حوادث کا مجھے
وہ کرم فرما رہے ہیں جامیء بے باک پر
فرخ منظور — مئی 22، 2010 1:36 شام
اردو محفل میں خوش آمدید۔ کلام شئیر کرنے کا بہت شکریہ جامی صاحب۔ اگر یہ آپ کا اپنا کلام ہے تو اسے "آپ کی شاعری" میں ہونا چاہیے۔ اگر آپ کا کلام نہیں ہے تو براہِ مہربانی شاعر کا نام ضرور لکھیے۔
جواد رضا خان جامی — مئی 22، 2010 2:10 شام
اردو محفل میں خوش آمدید۔ کلام شئیر کرنے کا بہت شکریہ جامی صاحب۔ اگر یہ آپ کا اپنا کلام ہے تو اسے "آپ کی شاعری" میں ہونا چاہیے۔ اگر آپ کا کلام نہیں ہے تو براہِ مہربانی شاعر کا نام ضرور لکھیے۔

جناب سخنور صاحب
کلام تو میرا ہی ہے مگر چونکہ نعت تھی اس لئے اس جگہ شئیر کردی
فرخ منظور — مئی 22، 2010 2:18 شام
جناب سخنور صاحب
کلام تو میرا ہی ہے مگر چونکہ نعت تھی اس لئے اس جگہ شئیر کردی

آپ کی نعت میں کچھ اوزان کے مسائل ہیں۔ اس لئے میں اس نعت کو "آپ کی شاعری" میں ہی منتقل کر رہا ہوں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%88%DB%81-%D9%82%D8%AF%D9%85-%D8%B1%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA-%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA.29972/