وہ معصوم دھشت گرد دھشت سے مر گیا

sadia saher — جنوری 17، 2009 5:51 شام
ٹی وی پہ فلسطین کے معصوم بچے کی میت دیکھ کر لکھی ھے
اسے ماں نے بڑی منتوں مرادوں سے مانگا تھا
میرا چاند میرا پیارا کہہ کر پکارا تھا
وہ ننھا فرشتہ سب کی آنکھوں کا تارا تھا
جس کو دیکھ کر ھزار خواب
ماں کی آنکھوں میں جاگے تھے
کرے گا سب کا نام روشن
ملک و ملت کے لیے کئ کام کرنے ھیں
ھوگا امن کا پاسباں
بنے گا سچا مسلم
ھر روز نئے خواب دیکھنے والی
فلسطینی ماںبھول گئ تھی
ان کو سپنے دیکھنے کا کوئ حق نہیں
ان سے پہلے بھی لوگوں نے کئ سپنے سجائے تھے
مگر مقدر سپنے دیکھنے سے نہیں بدلتا
کتنی گودیں سونی ھوگئیں
کتنی سہاگنوں کی آنکھوں میں خزاں کاموسم ٹھہر گیا
مگر اس کی ماں
خون بھری زمین پہ پھول کھلانے کے خواب دیکھتی تھی
روتی آنکھوں کو ھنسانے کے خواب دیکھتی تھی
مگر دنیا کہتی تھی
وہ خطرناک لوگ ھیں
ان بے بس لوگوں سے
دنیا کے امن کو خطرہ ھے
پھر اٹھے امن کے پاسباں
دنیا سے دھشت مٹانے کو
کتنی طاقت سے
کتنے راکٹ برسے
اور
دھماکوں کے شور میں
وہ معصوم دھشت گرد دھشت سے مر گیا
---------------------------- سعدیہ سحر
arifkarim — جنوری 17، 2009 6:42 شام
مجھے حیرت ہے کہ ہم جس سوسائیٹی کا حصہ ہیں، اسمیں انسانیت نام کی تو کوئی چیز ہی نہیں۔ لیکن شاید پاکستانیوں کے دل اللہ تعالیٰ نے ایسے بنائے ہیں کہ اپنے غم بھول کر دوسروں کی زیادہ فکر ہے۔۔۔ ماشاءاللہ!
عمار ابن ضیا — جنوری 17، 2009 7:08 شام
پھر اٹھے امن کے پاسباں
دنیا سے دھشت مٹانے کو
کتنی طاقت سے
کتنے راکٹ برسے
اور
دھماکوں کے شور میں
وہ معصوم دھشت گرد دھشت سے مر گیا

بہت خوب سعدیہ۔۔۔۔ ماشاء اللہ!
ادریس آزاد — جنوری 17، 2009 7:50 شام
سعدیہ آپ کا خیال بہت عمدہ ہے، اگر بحر اور وزن کو نظر انداز کیا گیا ہے تو اس میں کوءی قباحت نہیں۔ آپ کی شاعری اور خاص طور پر کیفیت کمال ہے۔ ماشاءاللہ جاری رکھیے۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
زینب — جنوری 17، 2009 7:54 شام
دل دکھ سے بھر سا جاتا ہے دیکھ سن کے۔۔۔بہت اچھا لکھا آپ نے سعدیہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%88%DB%81-%D9%85%D8%B9%D8%B5%D9%88%D9%85-%D8%AF%DA%BE%D8%B4%D8%AA-%DA%AF%D8%B1%D8%AF-%D8%AF%DA%BE%D8%B4%D8%AA-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%B1-%DA%AF%DB%8C%D8%A7.18357/