وہ کتنا بد نصیب ہے کہ جس کو تُو بری کرے

نوید ناظم — مارچ 14، 2022 6:39 صبح
بھلا کوئی کرم بھی ہم پہ کیوں یہ روشنی کرے
جو کرنا ہو ہمارے ساتھ کُھل کے تیرگی کرے
کہ یا تو یہ ہے چپ رہے ہمارے سامنے کوئی
اگر ضرور بات کرنی ہو تو پھر تِری کرے
کمی تو دلبروں کی آج بھی نہیں جہان میں
جو لگتا ہو کہیں پہ دل تو کوئی دل لگی کرے
جو تھا مِرا سخن شناس مجھ سے وہ بچھڑ گیا
کرے جو بات مجھ سے اب تو صرف خامشی کرے
تُجھے نکال دوں میں خود سے میرے بس میں یہ نہیں
مجھے قبول کرتا ہے جو، تیرے ساتھ ہی کرے
جو تیری زلف میں ہے قید خوش نصیب ہے وہ دل
وہ کتنا بد نصیب ہے کہ جس کو تُو بری کرے
نوید یوں تو اِس کے پاس ہیں عنایتیں بڑی
بس اک وفا ہے، جو نہ اُس کی طرح زندگی کرے
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 16، 2022 8:22 صبح
خوب ۔۔۔ اچھی غزل ہے ۔۔۔ پرانے اراکین کی واپسی سے خوشی ہوتی ہے ۔۔۔ مگر اکثر یہ دیکھا ہے کہ پرانے احباب آتے ہیں، سناتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ۔۔۔ امید ہے آپ آئے ہیں تو رکیں گے بھی :)
نوید ناظم — مارچ 16، 2022 9:53 صبح
خوب ۔۔۔ اچھی غزل ہے ۔۔۔ پرانے اراکین کی واپسی سے خوشی ہوتی ہے ۔۔۔ مگر اکثر یہ دیکھا ہے کہ پرانے احباب آتے ہیں، سناتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ۔۔۔ امید ہے آپ آئے ہیں تو رکیں گے بھی :)
آپ کی نوازش۔۔۔
جی اصل میں محفل کا فونٹ ہی بدل گیا، ایسے لگتا ہے کہ جس مکان میں بچپن گزرا اسے بیچ کر نیا گھر لے لیا ہو۔ وہ بڑا آسان اور پُر لطف تھا۔
ایس ایس ساگر — مارچ 16، 2022 11:34 صبح
واہ۔ اچھی غزل ہے نوید ناظم بھائی۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ آمین۔
نوید ناظم — مارچ 17، 2022 6:06 صبح
واہ۔ اچھی غزل ہے نوید ناظم بھائی۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ آمین۔
جی آپ کے ظرف کا ممنون ہوں، شکریہ۔
محمداحمد — مارچ 17، 2022 3:33 شام
اچھی غزل ہے نوید بھائی!
محمداحمد — مارچ 17، 2022 3:34 شام
آپ کی نوازش۔۔۔
جی اصل میں محفل کا فونٹ ہی بدل گیا، ایسے لگتا ہے کہ جس مکان میں بچپن گزرا اسے بیچ کر نیا گھر لے لیا ہو۔ وہ بڑا آسان اور پُر لطف تھا۔
بھائی آپ آتے جاتے رہیے نئے فارمیٹ کے بھی عادی ہو جائیں گے۔
نوید ناظم — مارچ 17، 2022 4:50 شام
بھائی آپ آتے جاتے رہیے نئے فارمیٹ کے بھی عادی ہو جائیں گے۔
بہت شکریہ احمد بھائی
ان شاءاللہ حاضری رہے گی۔
محمداحمد — مارچ 21، 2022 11:37 صبح
بہت شکریہ احمد بھائی
ان شاءاللہ حاضری رہے گی۔

جزاک اللہ ! ضرور آئیے۔
چشم ما روشن! دلِ ماشاد!
عرفان علوی — اپریل 10، 2022 8:38 شام
بھلا کوئی کرم بھی ہم پہ کیوں یہ روشنی کرے
جو کرنا ہو ہمارے ساتھ کُھل کے تیرگی کرے
کہ یا تو یہ ہے چپ رہے ہمارے سامنے کوئی
اگر ضرور بات کرنی ہو تو پھر تِری کرے
کمی تو دلبروں کی آج بھی نہیں جہان میں
جو لگتا ہو کہیں پہ دل تو کوئی دل لگی کرے
جو تھا مِرا سخن شناس مجھ سے وہ بچھڑ گیا
کرے جو بات مجھ سے اب تو صرف خامشی کرے
تُجھے نکال دوں میں خود سے میرے بس میں یہ نہیں
مجھے قبول کرتا ہے جو، تیرے ساتھ ہی کرے
جو تیری زلف میں ہے قید خوش نصیب ہے وہ دل
وہ کتنا بد نصیب ہے کہ جس کو تُو بری کرے
نوید یوں تو اِس کے پاس ہیں عنایتیں بڑی
بس اک وفا ہے، جو نہ اُس کی طرح زندگی کرے
نوید صاحب ، عمدہ غزل ہے . داد حاضر ہے .
نوید ناظم — اپریل 14، 2022 9:25 صبح
نوید صاحب ، عمدہ غزل ہے . داد حاضر ہے .
بہت شکریہ عرفان صاحب!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%88%DB%81-%DA%A9%D8%AA%D9%86%D8%A7-%D8%A8%D8%AF-%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8-%DB%81%DB%92-%DA%A9%DB%81-%D8%AC%D8%B3-%DA%A9%D9%88-%D8%AA%D9%8F%D9%88-%D8%A8%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%D8%B1%DB%92.118233/