وہ کلاہِ کج ، وہ قبائے زر ،سبھی کچھ اُتار چلا گیا

ظہیراحمدظہیر — نومبر 2، 2017 4:23 صبح
وہ کلاہِ کج ، وہ قبائے زر ،سبھی کچھ اُتار چلا گیا
ترے در سے آئی صدا مجھے ، میں دِوانہ وار چلا گیا
کسے ہوش تھا کہ رفو کرے یہ دریدہ دامنِ آرزو
میں پہن کے جامۂ بیخودی سرِ کوئے یار چلا گیا
مری تیزگامئ شوق نے وہ اُڑائی گرد کہ راستہ
جو کھلا تھا میری نگاہ پر وہ پسِ غبار چلا گیا
نہ غرورِ عالمِ آگہی ، نہ جنون و جذبۂ بیخودی
مئے عشقِ خانہ خراب کا ہر اک اعتبار چلا گیا
تری کائناتِ جمال میں جو عطائے دستِ مجال تھا
مرے شوقِ افسوں طراز کا وہی اختیار چلا گیا
میں ادا کروں کہ قضا کروں ، اسی کشمکش میں بسر ہوئی
یونہی سجدہ گاہِ حیات سے میں گناہگار چلا گیا
ترے آستاں سے گلہ نہیں ، دلِ سوختہ ہی عجیب ہے
کبھی بے سکون ٹھہر گیا ، کبھی بے قرار چلا گیا
تری جلوہ گاہِ نیاز میں، ہے کوئی تماشۂ آرزو !
کبھی تابِ دید نہ آسکی ،کبھی انتطار چلا گیا
مجھے کاروبارِ وفا ملا ، وہ متاعِ صبر و غنا ملی
مرے دن ظہیرؔ بدل گئے ، غمِ روزگار چلا گیا
ظہیرؔ احمد ۔ ۔۔۔۔ ۲۰۱۷
محمد عدنان اکبری نقیبی — نومبر 2، 2017 5:12 صبح
میں ادا کروں کہ قضا کروں ، اسی کشمکش میں بسر ہوئی
یونہی سجدہ گاہِ حیات سے میں گناہگار چلا گیا
واہ سر عمدہ ارشاد فرمایا۔
ترے آستاں سے گلہ نہیں ، دلِ سوختہ ہی عجیب ہے
کبھی بے سکون ٹھہر گیا ، کبھی بے قرار چلا گیا
لاجواب ،بہت اعلی۔
زبردست غزل۔سلامت رہیں
محمد وارث — نومبر 2، 2017 5:13 صبح
لاجواب!
ربیع م — نومبر 2، 2017 5:16 صبح
انتہائی اعلی۔
سید عاطف علی — نومبر 2، 2017 5:29 صبح
ترے آستاں سے گلہ نہیں ، دلِ سوختہ ہی عجیب ہے
کبھی بے سکون ٹھہر گیا ، کبھی بے قرار چلا گیا
آہ۔۔ کمال ظہیر بھائی ،
فہد اشرف — نومبر 2، 2017 7:04 صبح
لاجواب، ظہیر بھائی۔ بہت ہی شاندار غزل
ہادیہ — نومبر 2، 2017 8:04 صبح
بہت بہت بہت عمدہ اعلٰی ۔۔۔۔سبحان اللہ
مگر کچھ الفاظ بہت مشکل استعمال کیے ہیں. سمجھ کچھ کم آئی ہے ۔۔:(
لیکن کمال کی شاعری کرتے ہیں آپ:)
عینی مروت — نومبر 2، 2017 8:55 صبح
میں ادا کروں کہ قضا کروں ، اسی کشمکش میں بسر ہوئی
یونہی سجدہ گاہِ حیات سے میں گناہگار چلا گیا
واااہ ۔۔یونہی سجدہ گاہ حیات سے میں گناہگار۔۔۔
تری جلوہ گاہِ نیاز میں، ہے کوئی تماشۂ آرزو !
کبھی تابِ دید نہ آسکی ،کبھی انتطار چلا گیا
مجھے کاروبارِ وفا ملا ، وہ متاعِ صبر و غنا ملی
مرے دن ظہیرؔ بدل گئے ، غمِ روزگار چلا گیا
سبحان اللہ۔۔۔۔۔۔بہت خوووب
یوسف سلطان — نومبر 2، 2017 9:07 صبح
میں ادا کروں کہ قضا کروں ، اسی کشمکش میں بسر ہوئی
یونہی سجدہ گاہِ حیات سے میں گناہگار چلا گیا
ترے آستاں سے گلہ نہیں ، دلِ سوختہ ہی عجیب ہے
کبھی بے سکون ٹھہر گیا ، کبھی بے قرار چلا گیا

مجھے کاروبارِ وفا ملا ، وہ متاعِ صبر و غنا ملی
مرے دن ظہیرؔ بدل گئے ، غمِ روزگار چلا گیا
بہت عمدہ۔
سید عمران — نومبر 2، 2017 9:51 صبح
آہ۔۔ کمال ظہیر بھائی ،
آہ تو ایسی کھینچی آپ نے کہ۔۔۔
لمحہ بھر کو دم رُک گیا تھا!!!
:whew::whew::whew:
نمرہ — نومبر 2، 2017 12:29 شام
دل سوختہ ہی عجیب ہے!!!!واہ۔
ظہیراحمدظہیر — نومبر 2، 2017 2:18 شام
واہ سر عمدہ ارشاد فرمایا۔
لاجواب ،بہت اعلی۔
زبردست غزل۔سلامت رہیں
بہت شکریہ ! نوازش ! بھائی ، اللہ آپ کو خوش رکھے!
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 2، 2017 2:22 شام
واہ وا ۔ لطف آگیا۔
بہت دادقبول فرمائیے جناب۔ بہت اعلیٰ۔ کیا کہنے
ظہیراحمدظہیر — نومبر 2، 2017 2:26 شام
نوازش ! وارث بھائی! بہت ممنون ہوں ۔
ایک قریبی دوست کا کہنا ہے کہ جب غزل میں تغزل سے زیادہ تصوف نظرآنے لگے تو سمجھ لو کہ ادھیڑ عمر آپہنچی ہے ۔ اور میں اس کے جواب میں وہی گھسا پٹا سے جملہ دہرادیا کرتا ہوں کہ ہم نے تو بچپن سے براہِ راست ادھیڑ عمری ہی میں چھلانگ لگائی ہے ۔ شباب تو سرے سے آیا ہی نہیں ۔ :):):)
ظہیراحمدظہیر — نومبر 2، 2017 2:28 شام
بہت بہت شکریہ جناب!
فرقان احمد — نومبر 2، 2017 2:30 شام
وہ کلاہِ کج ، وہ قبائے زر ،سبھی کچھ اُتار چلا گیا
ترے در سے آئی صدا مجھے ، میں دِوانہ وار چلا گیا
کسے ہوش تھا کہ رفو کرے یہ دریدہ دامنِ آرزو
میں پہن کے جامۂ بیخودی سرِ کوئے یار چلا گیا
مری تیزگامئ شوق نے وہ اُڑائی گرد کہ راستہ
جو کھلا تھا میری نگاہ پر وہ پسِ غبار چلا گیا
نہ غرورِ عالمِ آگہی ، نہ جنون و جذبۂ بیخودی
مئے عشقِ خانہ خراب کا ہر اک اعتبار چلا گیا
تری کائناتِ جمال میں جو عطائے دستِ مجال تھا
مرے شوقِ افسوں طراز کا وہی اختیار چلا گیا
میں ادا کروں کہ قضا کروں ، اسی کشمکش میں بسر ہوئی
یونہی سجدہ گاہِ حیات سے میں گناہگار چلا گیا
ترے آستاں سے گلہ نہیں ، دلِ سوختہ ہی عجیب ہے
کبھی بے سکون ٹھہر گیا ، کبھی بے قرار چلا گیا
تری جلوہ گاہِ نیاز میں، ہے کوئی تماشۂ آرزو !
کبھی تابِ دید نہ آسکی ،کبھی انتطار چلا گیا
مجھے کاروبارِ وفا ملا ، وہ متاعِ صبر و غنا ملی
مرے دن ظہیرؔ بدل گئے ، غمِ روزگار چلا گیا
ظہیرؔ احمد ۔ ۔۔۔۔ ۲۰۱۷

کلاسیکی رنگ میں گندھی ہوئی نہایت خوب صورت غزل! ہر لفظ موتیوں جیسا، سلامت رہیں ظہیر بھیا! :) :) :)
ظہیراحمدظہیر — نومبر 2، 2017 2:32 شام
آہ۔۔ کمال ظہیر بھائی ،
سراپا سپاس ہوں عاطف بھائی ! بس ہم آشفتہ سروں کی یہی داستان ہے ۔
بہت شکریہ! مولا آپ کو سلامت رکھے!
ظہیراحمدظہیر — نومبر 2، 2017 2:35 شام
لاجواب، ظہیر بھائی۔ بہت ہی شاندار غزل
بہت شکریہ فہد! بہت نوازش!! آپ جیسے ہونہار نوجوانوں سے جب داد ملتی ہے تو مستقبل پر ایمان تازہ ہوجاتا ہے ۔ اللہ ذوق سلامت رکھے !
سروش — نومبر 2، 2017 2:40 شام
میں ادا کروں کہ قضا کروں ، اسی کشمکش میں بسر ہوئی
یونہی سجدہ گاہِ حیات سے میں گناہگار چلا گیا
ترے آستاں سے گلہ نہیں ، دلِ سوختہ ہی عجیب ہے
کبھی بے سکون ٹھہر گیا ، کبھی بے قرار چلا گیا
تری جلوہ گاہِ نیاز میں، ہے کوئی تماشۂ آرزو !
کبھی تابِ دید نہ آسکی ،کبھی انتطار چلا گیا
مجھے کاروبارِ وفا ملا ، وہ متاعِ صبر و غنا ملی
مرے دن ظہیرؔ بدل گئے ، غمِ روزگار چلا گیا

بہت اعلیٰ۔ ظہیر بھائی اللہ آپ کو سلامت رکھے اور زورِ قلم رواں رہے ۔
ظہیراحمدظہیر — نومبر 2، 2017 2:42 شام
بہت بہت بہت عمدہ اعلٰی ۔۔۔۔سبحان اللہ
مگر کچھ الفاظ بہت مشکل استعمال کیے ہیں. سمجھ کچھ کم آئی ہے ۔۔:(
لیکن کمال کی شاعری کرتے ہیں آپ:)
بہت بہت شکریہ ہادیہ! اللہ خوش رکھے !
کوئی بھی لفظ صرف اس وقت تک مشکل ہوتا ہے جب تک کہ اسے لغت میں نہ دیکھ لیا جائے ۔ زبان سیکھنے سے آئی کیو بڑھتا ہے ۔ اور جتنی زیادہ زبانیں سیکھی جائیں اتنا ہی ذہانت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اب تو کتاب اٹھا کر پڑھنے کی ضرورت بھی نہیں ۔ ہر چیز آنلائن ہے ۔ اردو لغت کا ایک ربط دے رہا ہوں ۔ شاید استعمال میں لاسکو۔ :):):)
Urdu Lughat
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%88%DB%81-%DA%A9%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%90-%DA%A9%D8%AC-%D8%8C-%D9%88%DB%81-%D9%82%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%B2%D8%B1-%D8%8C%D8%B3%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D8%A7%D9%8F%D8%AA%D8%A7%D8%B1-%DA%86%D9%84%D8%A7-%DA%AF%DB%8C%D8%A7.98907/