پابند بحور شاعری کی لڑی میں میری پہلی غزل۔شیشے کی صداؤں سے بندھا ایک سماں تھا

سید عاطف علی — مارچ 25، 2014 7:12 صبح
اگر چہ یہ کاوش اصلاح سخن میں پیش ہو چکی ہے تاہم احباب اگر رائےدینا چاہیں تو بسرو چشم۔

شیشے کی صداؤں سے بندھا ایک سماں تھا
میں منتظر ِجنبشِ انگشتِ مغاں تھا
پیہم جو تبسم مرے چہرے سے عیاں تھا
وہ اس دلِ صد چاک پہ اک کوہِ گراں تھا
نومیدئ عالم ہوئی مہمیز جنوں کو
اوپر سے مہر بان کفِ کوزہ گراں تھا
اسکندر و پرویز تو ویرانے میں گم تھے
پر تربتِ درویش پہ میلے کا سماں تھا
کی جس کے لیے وسعتِ افلاک مسخر
وہ گوہر ِمقصود قریب ِ رگِ جاں تھا
آسودگیءِ خاطرِ مضطر ہوا آخر
اک درد جو مدت سے مرے دل میں نہاں تھا
کیوں تیز ہیں اجرام فلک اے شبِ یلدا ؟
کیا تیری طرح ان کو مرے غم کا گماں تھا ؟
کیا ظلم ہے کیا جہل ہے معلوم نہیں کچھ
شانوں پہ مگر بار امانت کا گراں تھا
تھا ناصیہ فرسا جو ترے نقشِ قدم پر
محجوب بصد جلوہ نہ مقدورِبیاں تھا​
انیس الرحمن — مارچ 25، 2014 7:15 صبح
پہلے تو کسی ڈکشنری کا لنک دیں۔۔۔ اس کے بعد تبصرہ کر سکتا ہوں۔۔:idontknow:
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 25، 2014 7:50 صبح
پہلے تو کسی ڈکشنری کا لنک دیں۔۔۔ اس کے بعد تبصرہ کر سکتا ہوں۔۔:idontknow:
اس لنک سے شاید آپ کا کام چل جائے۔ :)
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 25، 2014 7:53 صبح
بہت عمدہ غزل ہے سید صاحب۔
بہت سی داد۔۔۔
مزمل شیخ بسمل — مارچ 25، 2014 8:01 صبح
سبحان اللہ۔ بہت خوب ہے جناب عاطف صاحب۔ بہت داد۔
سچ کہا:
کی جس کے لیے وسعتِ افلاک مسخر
وہ گوہر ِمقصود قریب ِ رگِ جاں تھا
حقیقت ہے کہ وہ گوہرِ مقصود تو قرُب کی حدود سے بھی آگے ہے۔
سید عاطف علی — مارچ 25، 2014 8:09 صبح
بہت عمدہ غزل ہے سید صاحب۔
بہت سی داد۔۔۔
بہت شکریہ سرسری بھائی صاحب،
سید عاطف علی — مارچ 25، 2014 8:10 صبح
سبحان اللہ۔ بہت خوب ہے جناب عاطف صاحب۔ بہت داد۔
سچ کہا:
کی جس کے لیے وسعتِ افلاک مسخر
وہ گوہر ِمقصود قریب ِ رگِ جاں تھا
حقیقت ہے کہ وہ گوہرِ مقصود تو قرُب کی حدود سے بھی آگے ہے۔
پذیرائی کے لیے سراپا سپاس ہوں۔مزمل بھائی ۔
لئیق احمد — مارچ 25، 2014 8:19 صبح
بہت خوب
سید عاطف علی — مارچ 25، 2014 8:26 صبح
شکریہ و آداب ۔لئیق بھائی۔
سید ذیشان — مارچ 25، 2014 8:46 صبح
بہت خوب جناب۔
سید عاطف علی — مارچ 25، 2014 8:52 صبح
شکریہ اور بہت آداب جنابِ من۔
جاسمن — مارچ 25، 2014 1:52 شام
واہ واہ۔۔۔ اک درد جو مدت سے۔۔۔۔۔
سید عاطف علی — مارچ 25، 2014 4:02 شام
واہ واہ۔۔۔ اک درد جو مدت سے۔۔۔ ۔۔
شکریہ جاسمن صاحبہ
ابن رضا — مارچ 25، 2014 4:25 شام
شکریہ اور بہت آداب جنابِ من۔
اور اس پہ اگر کچھ زحاف لگا دیئے جائیں تو جنابِ من کی صورت کچھ یوں بھی تقطیع ہو سکتی ہے
جَ نِ من:p:D:D
ابن رضا — مارچ 25، 2014 4:26 شام
بارِ دگر خوب است جناب
الف عین — مارچ 26، 2014 2:26 صبح
بہت خوب، ایک بار پھر داد
اور اس پہ اگر کچھ زحاف لگا دیئے جائیں تو جنابِ من کی صورت کچھ یوں بھی تقطیع ہو سکتی ہے
جَ نِ من:p:D:D
’ب‘ کہاں گئی، اس کو بھی حذف کر دیا؟؟
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 26، 2014 4:21 صبح
بہت خوب، ایک بار پھر داد
’ب‘ کہاں گئی، اس کو بھی حذف کر دیا؟؟
یہ کوئی اسپیشل زحاف لے کر آئے ہیں ابن رضا بھائی۔ :)
محمد وارث — مارچ 26، 2014 5:32 صبح
بہت خوب غزل ہے عاطف صاحب، کیا کہنے۔
سید عاطف علی — مارچ 26، 2014 5:54 صبح
بہت خوب غزل ہے عاطف صاحب، کیا کہنے۔
بہت شکریہ اور آداب و امتنان ۔ وارث بھائی۔
ابن رضا — مارچ 26، 2014 6:01 صبح
بہت خوب، ایک بار پھر داد
’ب‘ کہاں گئی، اس کو بھی حذف کر دیا؟؟

یہ کوئی اسپیشل زحاف لے کر آئے ہیں ابن رضا بھائی۔ :)
جی ضرورت ایجاد کی ماں هے
ب پر اشباع کے اطلاق سے" بے " سبب بنا کر(بے سبب هی ) گرا دیا:D:)
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%BE%D8%A7%D8%A8%D9%86%D8%AF-%D8%A8%D8%AD%D9%88%D8%B1-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D9%84%DA%91%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84%DB%94%D8%B4%DB%8C%D8%B4%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D8%A4%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%D8%A8%D9%86%D8%AF%DA%BE%D8%A7-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA-%D8%AA%DA%BE%D8%A7.73013/