پاکستان کا بن لادن

راحیل فاروق — اکتوبر 31، 2016 9:55 شام
گزشتہ سے پیوستہ برس جب تحریکِ انصاف نے دھرنے کا منصوبہ بنایا تھا تو فقیر کا بس نہیں چلتا تھا کہ نواز شریف کو گردن سے دبوچ کر پٹخ دے۔ وہ زمانے لد گئے۔ اب عمران خان کی ذات اور جماعت دونوں سے ویسی وابستگی نہیں رہی۔ مگر نظریاتی بنیادیں کم و بیش وہی ہیں۔ ان دنوں کی یادگار ایک نگارش۔۔۔ اوزان فلمی گیتوں کی طرح ہیں۔ جن صاحب کو بری لگے وہ اسے ماضی کا قصہ سمجھ کر بھول جائیں۔ جنھیں ٹھیک معلوم ہو، آداب آداب!
لاتوں مکوں ڈنڈوں بن کرسی چھوڑ نہیں سکتا
مر تو سکتا ہے لیکن کرسی چھوڑ نہیں سکتا
دنیا میں اک بن لادن تھا جس نے تخت بھی چھوڑ دیا
پاکستان کا بن لادن کرسی چھوڑ نہیں سکتا
بھوکے بھوک سے مر جائیں، ننگے خود سے ڈر جائیں
بھوکے ننگوں کا محسن کرسی چھوڑ نہیں سکتا
تختِ حسین کے متوالو! اس کی بات پہ مت جانا
یہ کوفہ کا مومن کرسی چھوڑ نہیں سکتا
پاکستان میں رہنے والو! اپنے استھان کو پاک کرو
یہ کیڑا اسپرے کے بن کرسی چھوڑ نہیں سکتا
راحیلؔ فاروق
۳۱ اگست، ۲۰۱۴ء​
محمداحمد — نومبر 5، 2016 5:46 صبح
یہ کیڑا اسپرے کے بن کرسی چھوڑ نہیں سکتا

ارے جناب! یہاں تو فیومیگیشن بھی کام نہیں آئی۔ :) :) :)
رومانہ چوہدری — نومبر 5، 2016 5:57 صبح
گزشتہ سے پیوستہ برس جب تحریکِ انصاف نے دھرنے کا منصوبہ بنایا تھا تو فقیر کا بس نہیں چلتا تھا کہ نواز شریف کو گردن سے دبوچ کر پٹخ دے۔ وہ زمانے لد گئے۔ اب عمران خان کی ذات اور جماعت دونوں سے ویسی وابستگی نہیں رہی۔ مگر نظریاتی بنیادیں کم و بیش وہی ہیں۔ ان دنوں کی یادگار ایک نگارش۔۔۔ اوزان فلمی گیتوں کی طرح ہیں۔ جن صاحب کو بری لگے وہ اسے ماضی کا قصہ سمجھ کر بھول جائیں۔ جنھیں ٹھیک معلوم ہو، آداب آداب!
سیاست کے زمرے میں پوسٹ کرنی چاہیے تھی
محمداحمد — نومبر 5، 2016 6:01 صبح
سیاست کے زمرے میں پوسٹ کرنی چاہیے تھی

اور وہاں کوئی کہتا کہ شاعری کے زمرے میں پوسٹ کرنی چاہیے تھی۔ :)
اکمل زیدی — نومبر 5، 2016 6:03 صبح
گزشتہ سے پیوستہ برس جب تحریکِ انصاف نے دھرنے کا منصوبہ بنایا تھا تو فقیر کا بس نہیں چلتا تھا کہ نواز شریف کو گردن سے دبوچ کر پٹخ دے۔ وہ زمانے لد گئے۔ اب عمران خان کی ذات اور جماعت دونوں سے ویسی وابستگی نہیں رہی۔ مگر نظریاتی بنیادیں کم و بیش وہی ہیں۔ ان دنوں کی یادگار ایک نگارش۔۔۔ اوزان فلمی گیتوں کی طرح ہیں۔ جن صاحب کو بری لگے وہ اسے ماضی کا قصہ سمجھ کر بھول جائیں۔ جنھیں ٹھیک معلوم ہو، آداب آداب!
لاتوں مکوں ڈنڈوں بن کرسی چھوڑ نہیں سکتا
مر تو سکتا ہے لیکن کرسی چھوڑ نہیں سکتا
دنیا میں اک بن لادن تھا جس نے تخت بھی چھوڑ دیا
پاکستان کا بن لادن کرسی چھوڑ نہیں سکتا
بھوکے بھوک سے مر جائیں، ننگے خود سے ڈر جائیں
بھوکے ننگوں کا محسن کرسی چھوڑ نہیں سکتا
تختِ حسین کے متوالو! اس کی بات پہ مت جانا
یہ کوفہ کا مومن کرسی چھوڑ نہیں سکتا
پاکستان میں رہنے والو! اپنے استھان کو پاک کرو
یہ کیڑا اسپرے کے بن کرسی چھوڑ نہیں سکتا
راحیلؔ فاروق
۳۱ اگست، ۲۰۱۴ء​
غیر متفق . . . آپ کے وزیر ا عظم کے جذبات سے نہیں بلکے اشعار میں موجود استعاروں سے ... :)
ڈاکٹرعامر شہزاد — نومبر 5، 2016 6:05 صبح
ہاہاہاہاہا ۔۔ بہت شاندار را حیل بھائی
صرف شاعری کی حد تک :D
رومانہ چوہدری — نومبر 5، 2016 6:15 صبح
اور وہاں کوئی کہتا کہ شاعری کے زمرے میں پوسٹ کرنی چاہیے تھی۔ :)
دونوں طرف جائز اعتراض بنتا ہے۔
ویسے پوری غزل ہی نفرت پر مبنی رویے اور کچھ مضحکہ خیز و بیہودہ استعارے سموئے ہوئے ہے۔
محمداحمد — نومبر 5، 2016 6:24 صبح
دونوں طرف جائز اعتراض بنتا ہے۔
بالکل! ایسا ہی ہے۔
ویسے پوری غزل ہی نفرت پر مبنی ۔۔۔

ایسا ہی ہے۔
تاہم جو نفرت ہمارے سیاست دانوں کے نصیب میں آتی ہے وہ عوام کی اختراع نہیں ہوتی بلکہ اُن کے اپنے کرموں کا ہی پھل ہوا کرتی ہے۔
مزید یہ بھی کہ شاعرِ موصوف بتا چکے ہیں کہ وہ اس جذباتی دور سے گزر کر آگے آ گئے ہیں۔
محمد تابش صدیقی — نومبر 5، 2016 6:34 صبح
سیاسی شاعری اور بالخصوص حکمرانوں کے خلاف شاعری ایک عمومی بات ہے. اس کو شاعری کے طور پر ہی لینا چاہیے. ہر فرد اپنے خیالات میں آزاد ہے اور اس کے پرچار کے لئے وہ جس بھی ذریعے کا سہارا لے. اس میں کوئی بری بات نہیں ہے. اسی طرح مخالف نظریات اور جذبات والے بھی اس سے مکمل غیر متفق ہو سکتے ہیں. مگر شاعری تو شاعری ہی کہلائے گی. :)
اکمل زیدی — نومبر 5، 2016 6:37 صبح
سیاسی شاعری اور بالخصوص حکمرانوں کے خلاف شاعری ایک عمومی بات ہے. اس کو شاعری کے طور پر ہی لینا چاہیے. ہر فرد اپنے خیالات میں آزاد ہے اور اس کے پرچار کے لئے وہ جس بھی ذریعے کا سہارا لے. اس میں کوئی بری بات نہیں ہے. اسی طرح مخالف نظریات اور جذبات والے بھی اس سے مکمل غیر متفق ہو سکتے ہیں. مگر شاعری تو شاعری ہی کہلائے گی. :)
اور اگر شاعری کو ذریعہ بنایا گیا تو .......باقی بھی تو حق اظہار محفوظ رکھتے ہیں :)
محمد تابش صدیقی — نومبر 5، 2016 6:48 صبح
اور اگر شاعری کو ذریعہ بنایا گیا تو .......باقی بھی تو حق اظہار محفوظ رکھتے ہیں :)
جی میرا آخری سے پہلا جملہ یہی کہہ رہا ہے. :)
محمد تابش صدیقی — نومبر 5، 2016 6:50 صبح
اور اگر شاعری کو ذریعہ بنایا گیا تو .......باقی بھی تو حق اظہار محفوظ رکھتے ہیں :)
میری بات زمرہ کے حوالے سے تھی کہ شاعری تو شاعری ہی کہلائے گی، چاہے مجھے مکمل اختلاف ہی کیوں نہ ہو. :)
مزمل حسین — نومبر 11، 2016 1:57 شام
یہ کوفہ کا مومن کرسی چھوڑ نہیں سکتا
اس مصرع میں ''ہے'' کی کمی ہے شایدا؟
پڑھنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D8%A8%D9%86-%D9%84%D8%A7%D8%AF%D9%86.92794/