پتھر کا آسمان مرے سر پہ آ گرا

کاشف اسرار احمد — جولائی 20، 2017 5:28 صبح
ابھی چند یوم قبل ہی یہ غزل مکمل کی تھی ۔ موبائل میں ہی ٹائپ کرتا ہوں اور وہیں سے پوسٹ بھی کر رہا ہوں ۔ احباب سے توجہ کی درخواست ہے
------------------------------------------------
پتھر کا آسمان مرے سر پہ آ گرا !
حسبِ وفا لگان مرے سر پہ آ گرا !
میں مَرغزارِ طِفلی سے نکلا ہی تھا تبھی
اس عمر کا مکان مرے سر پہ آ گرا !
اُس خود پرست بُت نے جو سجدہ کیا مجھے
تو اُس کا بارِ شان مرے سر پہ آ گرا !
آیا ہی تھا خیال کہ"یہ وصل ہے بھرم"
نوزائیدہ گمان مرے سر پہ آ گرا !
آئینہ خانہ تھا جو مری خود شناسی کا
شیشہ کا وہ مکان مرے سر پہ آ گرا !
اندازے اور گمان تو دنیا کے ہو گئے
سچائی کا بیان مرے سر پہ آ گرا !
جب دشتِ بے خودی میں ملا سایہءِ فہم
کاشف وہ سائبان مرے سر پہ آ گرا !
سید کاشف
------------------------------------------------

الف عین — جولائی 20، 2017 4:54 شام
واہ میاں خوب غزل کہی ہے۔ اور طرہ یہ کہ موبائل پر بھی سارے اعراب کے ساتھ!
مقطع میں "فہم" کے تلفظ کی غلطی ہے۔ ہ پر جزم درست ہے
کاشف اسرار احمد — جولائی 20، 2017 5:32 شام
واہ میاں خوب غزل کہی ہے۔ اور طرہ یہ کہ موبائل پر بھی سارے اعراب کے ساتھ!
مقطع میں "فہم" کے تلفظ کی غلطی ہے۔ ہ پر جزم درست ہے
جزاک اللہ سر !
فیروز الغات میں دونوں تلفظ دیے گئے ہیں سر۔
وہاں دیکھنے کے بعد ہی اس شعر سے مطمئن ہوا ہوں۔ درخواست ہے کہ ایک بار غور فرما لیں ۔
موبائل پر واقعی تمام اعراب لکھ پاتا ہوں۔ وہاں Go کی بورڈ سے ٹائپ کر لیتا ہوں۔ دقت تو لیپ ٹاپ پر ہوتی ہے !
شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%BE%D8%AA%DA%BE%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%D9%86-%D9%85%D8%B1%DB%92-%D8%B3%D8%B1-%D9%BE%DB%81-%D8%A2-%DA%AF%D8%B1%D8%A7.97651/